قومی اسمبلی کی کمیٹی کا لیوی ادائیگیوں میں نادہندہ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ
- حکومتِ پاکستان نے مالی سال 27-2026 کے لیے پٹرولیم لیوی کی مد میں 1,677 ارب روپے وصول کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و محصولات نے ہفتے کے روز پٹرولیم لیوی کی وصولیوں میں تاخیر پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت کو ہدایت کی ہے کہ وہ اس کی وصولی کے لیے ایک مؤثر اور سخت نفاذی نظام وضع کرے، جس کے تحت عدم ادائیگی کی صورت میں 30 روز بعد نادہندہ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں (او ایم سیز) کو پٹرولیم مصنوعات کی فراہمی معطل کر دی جائے۔
یہ پیش رفت قائمہ کمیٹی کے اجلاس کے دوران سامنے آئی، جس کی صدارت سید نوید قمر نے کی اور جس میں بجٹ سے متعلق باقی ماندہ تجاویز کا جائزہ لیا گیا۔
کمیٹی نے پٹرولیم مصنوعات (پٹرولیم لیوی) آرڈیننس، 1961 میں مجوزہ ترامیم کا تفصیلی جائزہ لیا، جس میں خاص طور پر نادہندہ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے خلاف نفاذی اقدامات کو مزید مؤثر اور سخت بنانے پر توجہ مرکوز کی گئی۔
قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کے مطابق چیئرمین نے مشاہدہ کیا کہ آئل مارکیٹنگ کمپنیاں (او ایم سیز) دراصل حکومتی لیویز کی وصولی کے لیے محض بطور کلیکشن ایجنٹس کام کرتی ہیں، لہٰذا انہیں عوامی رقوم اپنے پاس رکھنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ انہوں نے پٹرولیم لیوی کی وصولیوں میں تاخیر پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت کو ہدایت کی کہ ایک سخت اور اندرونی طور پر مربوط نفاذی نظام متعارف کرایا جائے، جس کے تحت عدم ادائیگی کی صورت میں 30 روز بعد نادہندہ او ایم سی کو پٹرولیم مصنوعات کی فراہمی فوری معطل کر دی جائے، جبکہ ایسی تمام صوابدیدی توسیعات یا اقساط کی سہولتیں ختم کی جائیں جو تعمیل کے عمل کو کمزور کرتی ہیں۔
کمیٹی نے یہ بھی سفارش کی کہ پٹرولیم لیوی کی ادائیگی کو ریگولیٹری نفاذی اقدامات سے منسلک کیا جائے تاکہ عوامی ریونیو کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
چیئرمین نے پٹرولیم ڈویژن کو ہدایت کی کہ مجوزہ قانونی ترامیم کو ازسرنو مرتب کیا جائے تاکہ نادہندہ او ایم سیز کے لیے اقساط کی سہولت کے اختیارات واضح طور پر ختم کیے جائیں اور فوری طور پر سپلائی معطلی کا نظام نافذ کیا جائے۔
پاکستان حکومت مالی سال 2026-27 کے دوران پٹرولیم لیوی کی مد میں تقریباً 1.677 کھرب روپے وصول کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، جو مالی سال 2025-26 کے نظرثانی شدہ تخمینے 1.498 کھرب روپے کے مقابلے میں 12 فیصد زیادہ ہے۔
اس ہفتے حکومت نے پٹرول کی قیمت میں 74.28 روپے فی لیٹر اور ڈیزل کی قیمت میں 67.31 روپے فی لیٹر کمی کی، جسے عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں کمی کے فوائد صارفین تک منتقل کرنے کا اقدام قرار دیا گیا۔
اس کمی کے بعد، بروکریج ہاؤس اوپٹیمس کیپیٹل مینجمنٹ کی رپورٹ کے مطابق حکومت نے پٹرول پر پٹرولیم لیوی 106.74 روپے سے کم کر کے 66.25 روپے فی لیٹر مقرر کر دی ہے، جبکہ ڈیزل پر لیوی 53.26 روپے سے بڑھا کر 72.97 روپے فی لیٹر کر دی گئی ہے۔






















Comments