روسی سے ایندھن کی رسد بڑھنے کا امکان، خام تیل کی قیمتوں میں کمی
- برینٹ خام تیل کے مستقبل کے سودوں کی قیمت 1.43 ڈالر یا 1.30 فیصد کمی کے بعد 108.43 ڈالر فی بیرل ہوگئی
پیر کو تیل کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی، جس کی وجہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے روس پر عائد پابندیوں اور محصولات میں چھوٹ دینا ہے، جس سے روسی ایندھن کی برآمدات میں اضافے کا امکان ہے۔
برینٹ خام تیل کے مستقبل کے سودوں کی قیمت 1.43 ڈالر یا 1.30 فیصد کمی کے بعد 108.43 ڈالر فی بیرل ہوگئی، جو گرینچ معیاری وقت کے مطابق رات 11 بج کر 40 منٹ پر ریکارڈ کی گئی۔ اس سے قبل جمعے کو کاروبار کے اختتام پر برینٹ خام تیل کی قیمت 19 مئی کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی تھی۔
امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل کی قیمت 53 سینٹ یا 0.52 فیصد کمی کے بعد 100.88 ڈالر فی بیرل رہی۔
ٹرمپ نے جمعے کو ایک صدارتی حکم نامے پر دستخط کیے، جس کے تحت گراہم ایکٹ کے تحت عائد اہم پابندیوں اور محصولات میں چھوٹ دی گئی ہے۔ انہوں نے گزشتہ ماہ اس قانون پر دستخط کیے تھے۔ قانون سازوں نے ماسکو پر یوکرین کے خلاف جنگ کے معاملے میں دباؤ بڑھانے کے لیے یہ اقدام تجویز کیا تھا۔
تاہم، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ صدر اس چھوٹ کے معاشی اثرات کا جائزہ لینے کے لیے 60 دن تک کا وقت لیں گے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ٹرمپ نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے ساتھ امریکا کو ڈیزل برآمد کرنے کے معاہدے پر اتفاق کیا ہے۔ یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے کہا کہ امریکا کے یہ اقدامات یوکرین کو نقصان پہنچائیں گے۔
مشرق وسطیٰ میں کشیدگی اور بحری جہازوں کی سلامتی کو لاحق خطرات کے باعث عالمی توانائی کی رسد متاثر ہونے کے خدشات بڑھنے کے بعد جمعے کو برینٹ خام تیل کی قیمت مختصر وقت کے لیے 110 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی تھی۔ مئی کے بعد یہ پہلا موقع تھا جب قیمت اس سطح پر پہنچی۔
تجزیاتی ادارے کیپلر نے جمعے کو جاری کردہ ایک نوٹ میں بتایا کہ تجارتی بحری جہازوں پر حملوں میں شدت کے باعث خلیجی خطے سے خام تیل کی ترسیل میں نمایاں کمی آئی۔ گزشتہ ہفتے سات روزہ اوسط کے مطابق ترسیل تقریباً 85 لاکھ بیرل یومیہ رہ گئی، جبکہ اس سے پچھلے ہفتے یہ مقدار 2 کروڑ بیرل یومیہ سے زیادہ تھی۔ ادارے کے مطابق گزشتہ ہفتے تجارتی بحری جہازوں سے متعلق کم از کم 10 واقعات کی تصدیق بھی ہوئی۔
مشرق وسطیٰ کی جنگ میں کشیدگی مزید بڑھنے کے خدشات کے درمیان مصر نے کہا ہے کہ وہ یمن کے حوثیوں کے خلاف سعودی عرب کی سلامتی اور استحکام کے تحفظ کے لیے ضروری تعاون فراہم کرنے کو تیار ہے۔


Comments