اسٹاک ایکسچینج میں فروخت کا دباؤ، انڈیکس 800 سے زائد پوائنٹس گر گیا
- بینچ مارک انڈیکس 169,600.40 پوائنٹس پر بند ہوا
پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں منگل کو کاروباری سیشن اتار چڑھاؤ کا شکار رہا، جہاں اختتامی اوقات میں فروخت کے دباؤ کے باعث بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 800 سے زائد پوائنٹس کی کمی کے ساتھ بند ہوا۔
کاروبار کا آغاز نسبتاً مضبوط انداز میں ہوا اور انڈیکس 170,944.34 پوائنٹس کی انٹرا ڈے بلند ترین سطح تک پہنچا، تاہم بعد ازاں تیزی برقرار نہ رہ سکی۔
انڈیکس صبح کے آخری حصے اور دوپہر کے ابتدائی اوقات میں 170,400 سے 170,600 پوائنٹس کی حدود میں محدود رہا لیکن دوپہر تقریباً 2 بجے کے بعد فروخت کا دباؤ بڑھ گیا، جس سے بینچ مارک انڈیکس تیزی سے نیچے آیا۔
کاروبار کے اختتام کے قریب انڈیکس 169,538.22 پوائنٹس کی انٹرا ڈے کم ترین سطح تک گر گیا اور معمولی بہتری کے ساتھ بند ہوا۔
کاروبار کے اختتام پر بینچ مارک انڈیکس 825.22 پوائنٹس یا 0.48 فیصد کمی سے 169,600.40 پوائنٹس پر بند ہوا۔
ایک اہم پیش رفت کے تحت حکومت نے پیر کو عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے دورہ کرنے والے جائزہ مشن کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ خلیجی جنگ اور آبنائے ہرمز میں خلل کے باعث پہلی سہ ماہی میں محصولات کا نقصان ہوا اور معاشی سرگرمیاں سست پڑیں۔ حکومت نے یہ بھی بتایا کہ لازمی اثاثہ جات ظاہر کرنے کے نظام کے تحت وفاقی حکومت کے تقریباً 10,000 ملازمین کو 30 اکتوبر 2026 تک اپنے منقولہ اور غیر منقولہ اثاثے ڈیجیٹل طور پر ظاہر کرنا ہوں گے۔
پیر کو پی ایس ایکس میں محدود دائرے میں کاروبار کے دوران مارکیٹ کا اختتام منفی سطح پر ہوا، کیونکہ آبنائے ہرمز سے متعلق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایرانی جنگ بندی کی تجویز مسترد کیے جانے کی میڈیا رپورٹس کے بعد مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی غیر یقینی صورتحال کے باعث سرمایہ کاروں کا اعتماد کمزور رہا۔
گزشتہ روز بینچ مارک کے ایس ای-100 انڈیکس 339.60 پوائنٹس یا 0.20 فیصد کمی سے 170,425.62 پوائنٹس پر بند ہوا۔
عالمی سطح پر منگل کو تیل کی قیمتوں اور بانڈز کی شرح منافع میں اضافہ ایشیائی حصص کے لیے ایک مشکل امتزاج ثابت ہوا، کیونکہ سرمایہ کار آسٹریلیا میں شرح سود میں اضافے اور ایسے دور کے لیے تیار ہیں جس میں قلیل مدتی قرض لینے کی لاگت کئی برسوں کی بلند ترین سطح پر برقرار رہ سکتی ہے۔
10 سالہ امریکی ٹریژری بانڈز کی شرح منافع راتوں رات 19 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی اور 5.27 فیصد سے تجاوز کرگئی، جبکہ ستمبر کے دوران اس میں تقریباً 50 بیسس پوائنٹس کا اضافہ ہوا ہے۔ بانڈ کی قیمتوں میں کمی کے وقت شرح منافع میں اضافہ ہوتا ہے اور ماہانہ بنیادوں پر بانڈز کی فروخت گزشتہ دو برس کی شدید ترین سطح پر ہے۔
امریکی 2 سالہ ٹریژری بانڈز کی شرح منافع میں اس ماہ مزید 57 بیسس پوائنٹس سے زیادہ اضافہ ہوا اور یہ 5 فیصد کی سطح تک پہنچ گئی، کیونکہ ٹریڈرز یہ اندازہ لگا رہے ہیں کہ امریکی اقتصادی نمو اور مہنگائی اگلے سال کے وسط تک فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں مزید تین اضافوں کا باعث بنے گی۔
راتوں رات صرف چِپ ساز کمپنی این ویڈیا کی جانب سے بائی بیک منصوبے میں 150 ارب ڈالر کے بڑے اضافے، جس سے کمپنی کے حصص کی قیمت بڑھی، نے شرح سود سے حساس نیسڈیک کو 0.9 فیصد کمی تک محدود رکھا۔
ایشیا میں جاپان، جنوبی کوریا اور آسٹریلیا کی بانڈ مارکیٹوں میں دباؤ رہا، جبکہ بیشتر علاقائی ایکویٹی مارکیٹوں میں بھی کمی ہوئی۔
چین کے ٹیکنالوجی شعبے میں سرمایہ کاروں کا اعتماد کمزور رہا، جہاں پیر کو امریکی حکومت کی جانب سے ڈیٹا سینٹرز میں چینی پرزہ جات پر پابندی کے منصوبے کے باعث حصص متاثر ہوئے تھے۔ اس کے نتیجے میں بلیو چِپ سی ایس آئی 300 انڈیکس ایک سال کی کم ترین سطح کے قریب رہا۔
دریں اثنا پاکستانی روپے نے امریکی ڈالر کے مقابلے میں معمولی بہتری کا سلسلہ جاری رکھا اور منگل کو انٹربینک مارکیٹ میں 0.01 فیصد قدر بڑھ گئی۔ مقامی کرنسی 3 پیسے کے اضافے سے 277.12 روپے فی ڈالر پر بند ہوئی۔
آل شیئر انڈیکس میں کاروباری حجم گزشتہ سیشن کے 421.01 ملین کے مقابلے میں بڑھ کر 568.04 ملین حصص ہوگیا۔
حصص کی مالیت بھی 17.74 ارب روپے سے بڑھ کر 20.81 ارب روپے ہوگئی۔
سینرجیکو پی کے 56.53 ملین حصص کے کاروبار کے ساتھ حجم کے لحاظ سے سرفہرست رہی، اس کے بعد تصدیق انفارمیشن کے 56.29 ملین اور کے الیکٹرک لمیٹڈ کے 34.67 ملین حصص کا کاروبار ہوا۔
منگل کو 496 کمپنیوں کے حصص میں کاروبار ہوا، جن میں 154 کے حصص کی قیمتوں میں اضافہ، 305 میں کمی جبکہ 37 کمپنیوں کے حصص کی قیمتیں مستحکم رہیں۔



Comments