اسٹاک ایکسچینج میں خریداری کی واپسی، 100 انڈیکس میں تقریباً 1000 پوائنٹس کا اضافہ
- کاروبار کے اختتام پر 100 انڈیکس 171,175.50 پوائنٹس پر بند
پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں ایک بار پھر خریداری کا رجحان لوٹ آیا جس کے نتیجے میں جمعرات کو بینچ مارک کے ایس ای-100 انڈیکس میں تقریباً 1,000 پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
تفصیلات کے مطابق اسٹاک مارکیٹ میں کاروبار کا آغاز زبردست تیزی کے ساتھ ہوا، سرمایہ کاروں کی جانب سے بھرپور خریداری دیکھی گئی جس سے انڈیکس مسلسل بلندی کی جانب گامزن رہا۔
سہ پہر کے وقت مارکیٹ میں نمایاں گراوٹ دیکھی گئی جس کے باعث انڈیکس 170,563.40 پوائنٹس کی انٹرا ڈے کی کم ترین سطح پر آ گیا، تاہم 170,700 سے 170,900 کی زون کے قریب جارحانہ خریداری نے مارکیٹ کو سنبھلنے میں مدد دی جس کے بعد انڈیکس دوبارہ اوپر جاتے ہوئے 171,455.76 پوائنٹس کی انٹرا ڈے بلند ترین سطح پر جاپہنچا۔
کاروبار کے اختتام پر بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 984.86 پوائنٹس یا 0.58 فیصد اضافے سے 171,175.50 پوائنٹس پر بند ہوا۔
مارکیٹ کے اہم شعبوں بشمول آٹوموبائل اسمبلرز، سیمنٹ، کمرشل بینکوں، فرٹلائزرز، آئل اینڈ گیس ایکسپلوریشن کمپنیوں، او ایم سیز اور پاور جنریشن میں خریداری کا رجحان دیکھا گیا۔ ہیوی ویٹ اسٹاکس بشمول ماری، او جی ڈی سی، پی او ایل، پی پی ایل، پی ایس او، حبکو، ایم سی بی، میزان بینک اور نیشنل بینک بھی مثبت زون میں دکھائی دیے۔
ڈپٹی وزیراعظم اسحاق ڈار نے بدھ کو بتایا کہ مالی سال 2026-2027 کے لیے وفاقی بجٹ 10 جون کو پیش کیا جائے گا۔
ایکس پر یہ بیان ان رپورٹس کے بعد سامنے آیا جن میں کہا گیا تھا کہ پاکستان کا وفاقی بجٹ ممکنہ طور پر 5 جون کو پیش نہیں کیا جاسکے گا، جیسا کہ ابتدا میں منصوبہ بندی کی گئی تھی۔ اس کی بنیادی وجہ یہ بتائی گئی کہ بعض مالی اقدامات کے حوالے سے آئی ایم ایف کے ساتھ معاملات ابھی طے ہونا باقی ہیں۔
بدھ کو اسٹاک ایکسچینج کا کاروبار منفی زون میں بند ہوا کیونکہ امریکہ اور ایران کے سفارتی محاذ پر کسی خاطر خواہ پیش رفت نہ ہونے کے باعث سرمایہ کار محتاط نظر آئے۔ اس صورتحال نے مارکیٹ کے اہم شعبوں میں بڑے پیمانے پر فروخت کے رجحان کو جنم دیا جس کی وجہ سے دن بھر مارکیٹ کا مومنٹم کمزور رہا۔
گزشتہ روز بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 831.13 پوائنٹس یا 0.49 فیصد کی کمی کے ساتھ 170,190.64 پوائنٹس پر بند ہوا۔
عالمی سطح پر امریکہ اور ایران کے درمیان دوبارہ شروع ہونے والی لڑائی نے سرمایہ کاروں کو تشویش میں مبتلا کردیا جس کے باعث جمعرات کو ایشیائی اسٹاکس میں مندی دیکھی گئی تاہم اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی کے معاہدے کے بعد خام تیل کی قیمتیں حالیہ بلند ترین سطح سے نیچے آگئیں۔
جاپان کے علاوہ ایشیا پیسفک حصص کے سب سے بڑے ایم ایس سی آئی انڈیکس میں 1.5 فیصد کی کمی دیکھی گئی جبکہ ایس اینڈ پی 500 ای منی فیوچرز 0.5 فیصد نیچے آگئے۔ تعطیل کے بعد جب جنوبی کوریا کی اسٹاک مارکیٹ کھلی تو اس میں 2.6 فیصد تک کی بڑی مندی دیکھی گئی جب کہ جاپان کا نکئی 225 انڈیکس بھی 1.9 فیصد گرگیا۔
گزشتہ شب وال اسٹریٹ پر اسٹاک مارکیٹس میں مندی دیکھی گئی جہاں تہران اور واشنگٹن کے درمیان مذاکرات میں کسی خاطر خواہ پیشرفت نہ ہونے اور دوبارہ شروع ہونے والی کشیدگی کے باعث ایس اینڈ پی 500 انڈیکس میں 0.7 فیصد کی کمی ہوئی جبکہ خام تیل کی قیمتیں تقریباً 2 فیصد تک بڑھ گئیں۔


Comments