اسٹاک ایکسچینج میں مندی، 100 انڈیکس 800 سے زائد پوائنٹس گر گیا
- بینچ مارک انڈیکس 170,190.64 پر بند
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں بدھ کو فروخت کا دباؤ دیکھا گیا، جس کے نتیجے میں بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس کاروبار کے دوران 800 سے زائد پوائنٹس گر گیا۔
کاروبار کے پہلے ہاف (ابتدائی سیشن) میں کے ایس ای-100 انڈیکس میں کچھ خریداری دیکھی گئی، جس کے باعث انڈیکس 171,624.45 کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔
تاہم دن کے دوسرے حصے میں مارکیٹ پر فروخت کا دباؤ حاوی ہو گیا، جس نے انڈیکس کو گرا کر 169,790.34 کی نچلی ترین سطح پر دھکیل دیا۔
کاروبار کے اختتام پر بینچ مارک انڈیکس 831.13 پوائنٹس یا 0.49 فیصد کی مندی کے ساتھ 170,190.64 پر بند ہوا۔
بروکریج ہاؤس ’ٹاپ لائن سیکورٹیز نے کاروبار کے اختتام پر جاری کی گئی اپنی رپورٹ میں بتایا کہ مارکیٹ میں اس مندی کی بڑی وجہ منافع کی بکوالی (پرافٹ ٹیکنگ) اور نئے مثبت محرکات کی عدم موجودگی کے باعث سرمایہ کاروں کا محتاط رویہ تھا۔ اس کے علاوہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری جغرافیائی سیاسی کشیدگی بالخصوص امریکہ اور ایران کے درمیان کسی حتمی امن معاہدے کا نہ ہونا اور عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں پر اس کے اثرات نے مارکیٹ کے اعتماد کو مزید ٹھیس پہنچائی۔
ٹاپ لائن سیکورٹیز کے مطابق انڈیکس میں حصہ ڈالنے والے بڑے حصص پر فروخت کا سب سے زیادہ دباؤ دیکھا گیا، جن میں لکی سیمنٹ، یو بی ایل، میزان بینک، اینگرواور حبکو شامل ہیں۔ ان کمپنیوں نے مجموعی طور پر بینچ مارک انڈیکس کو تقریباً 343 پوائنٹس نیچے دھکیلا۔
ایک اہم پیش رفت میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ وفاقی حکومت مالی سال 2026-27 کا بجٹ 10 جون کو پیش کرے گی۔ یہ بات پاکستان مسلم لیگ (ن) کی سینئر رہنما اور رکن قومی اسمبلی طاہرہ اورنگزیب نے بتائی۔
منگل کے روز پاکستان اسٹاک ایکسچینج مثبت رجحان کے ساتھ بند ہوئی تھی، جہاں سرمایہ کاروں کے بہتر جذبات، عالمی تیل کی قیمتوں میں کمی اور منتخب شعبوں میں خریداری کے باعث انڈیکس کو جزوی بحالی ملی تھی۔
بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 421.57 پوائنٹس یا 0.25 فیصد اضافے کے ساتھ 171,021.77 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔
عالمی سطح پر ایس اینڈ پی 500 فیوچرز مستحکم رہے جبکہ یورپی فیوچرز میں 0.1 فیصد کمی دیکھی گئی۔ تاہم ایشیا میں اے آئی (مصنوعی ذہانت) کے شعبے میں تیزی برقرار رہی اور تائیوان و جاپان کے اسٹاک انڈیکس ریکارڈ سطح پر پہنچ گئے، جبکہ جنوبی کوریا کی مارکیٹ بند رہی۔
امریکی فوج کے مطابق ایران کی جانب سے بحرین، کویت اور دیگر علاقائی اہداف پر میزائل حملے ناکام بنا دیے گئے، جبکہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان سفارتی مذاکرات میں کوئی بڑی پیش رفت نہیں ہو سکی۔
گزشتہ ہفتے ایران اور امریکا نے جنگ بندی کے لیے ایک عارضی معاہدے کا اعلان کیا تھا، تاہم ابھی تک اس پر حتمی دستخط نہیں ہو سکے۔
ٹیکنالوجی کے شعبے میں مصنوعی ذہانت کا رجحان جنگی خدشات کے باوجود مضبوط رہا، اور امریکی اسٹاک مارکیٹس نے منگل کے روز معمولی اضافہ ریکارڈ کیا، جس کی قیادت اے آئی سیکٹر نے کی۔
مارویل ٹیکنالوجی کے شیئرز 32.5 فیصد بڑھ کر ریکارڈ سطح پر پہنچ گئے، جب این ویڈیا کے سربراہ جینسن ہوانگ نے اسے مستقبل کی ٹریلین ڈالر کمپنی قرار دیا۔
اے آئی کی تیزی نے جاپان کی کمپنی سافٹ بینک کو ٹویوٹا سے زیادہ قیمتی کمپنی بنا دیا ہے، جبکہ بدھ کے روز کِوکسیا کے شیئرز نے مختصر وقت کے لیے ٹویوٹا کو درجہ بندی میں تیسرے نمبر پر دھکیل دیا۔
دوسری جانب انٹر بینک مارکیٹ میں بدھ کو امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر میں معمولی اضافہ دیکھا گیا۔ کاروبار کے اختتام پر مقامی کرنسی ڈالر کے مقابلے میں 1 پیسے (0.01 روپے) کے اضافے کے ساتھ 278.45 پر بند ہوئی۔
آل شیئر انڈیکس میں کاروبار کا حجم (والیم) گزشتہ سیشن کے 55 کروڑ 7 لاکھ 90 ہزار شیئرز سے بڑھ کر 55 کروڑ 19 لاکھ 40 ہزار شیئرز تک پہنچ گیا۔
تاہم پچھلے سیشن کے مقابلے میں شیئرز کی مالیت 27 ارب 44 کروڑ روپے سے کم ہو کر 23 ارب 76 کروڑ روپے رہ گئی۔
ٹِریٹ بیٹری لمیٹڈ 4 کروڑ 66 لاکھ 40 ہزار شیئرز کے کاروبار کے ساتھ پہلے نمبر پر رہی، جبکہ دیوان سیمنٹ 3 کروڑ 37 لاکھ 60 ہزار شیئرز کے ساتھ دوسرے اور ستارہ پٹرولیم 2 کروڑ 52 لاکھ 40 ہزار شیئرز کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہی۔
بدھ کو مجموعی طور پر 491 کمپنیوں کے شیئرز کا کاروبار ہوا، جن میں سے 183 کمپنیوں کے شیئرز کی قیمتوں میں اضافہ اور 267 میں کمی ریکارڈ کی گئی، جبکہ 41 کمپنیوں کے شیئرز کی قیمتیں مستحکم رہیں۔



Comments