اسٹاک ایکسچینج میں مندی، 100 انڈیکس میں ہفتہ وار بنیاد پر 3.23 فیصد کمی
- بینچ مارک انڈیکس میں جمعہ کو 900 پوائنٹس سے زائد کی کمی ریکارڈ
پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں بینچ مارک 100 کے ایس ای انڈیکس ہفتہ وار بنیادوں پر 3.23 فیصد گر گیا کیونکہ امریکہ اور ایران کے درمیان امن مذاکرات میں مسلسل تعطل کے باعث سرمایہ کاروں کا اعتماد متزلزل رہا۔ کسی بھی واضح سفارتی پیش رفت کی عدم موجودگی نے جغرافیائی و سیاسی غیر یقینی صورتحال کے حوالے سے خدشات کو جنم دیا ہے۔
بروکریج ہاؤس ٹاپ لائن سیکیورٹیز کی رپورٹ کے مطابق گزرے ہوئے ہفتے کے دوران مارکیٹ میں سرگرمیوں میں کمی دیکھی گئی، جہاں روزانہ کی بنیاد پر حصص کی تجارت کا اوسط حجم 827 ملین شیئرز اور مالیت 25 ارب روپے رہی (جو کہ ہفتہ وار بنیادوں پر 39 فیصد کمی ہے)۔
ہفتے کے آخری سیشن یعنی جمعہ کو بھی پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں فروخت کا دباؤ برقرار رہا اور بینچ مارک انڈیکس 900 سے زائد پوائنٹس گرا کر بند ہوا۔
مارکیٹ کا آغاز دباؤ کے ساتھ ہوا اور ابتدائی کاروبار میں شدید فروخت دیکھی گئی، جس کے باعث کے اہس ای 100 انڈیکس 166,800 پوائنٹس کی سطح سے گرتے ہوئے انٹرا ڈے کے دوران تقریباً 165,291.53 پوائنٹس کی کم ترین سطح تک پہنچ گیا۔
ابتدائی کمی کے بعد نچلی سطحوں پر ویلیو ہنٹرز کی جانب سے خریداری دیکھنے میں آئی، جس کے نتیجے میں دوپہر سے قبل انڈیکس کو جزوی بحالی میں مدد ملی۔
کاروباری سیشن کے دوسرے حصے میں فروخت کے دباؤ نے انڈیکس کو دوبارہ نیچے دھکیل دیا۔ اختتامِ کاروبار پر بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 902.76 پوائنٹس یا 0.54 فیصد کمی کے ساتھ 165,596.07 پر بند ہوا۔
بیہتری کیپیٹل کے مطابق ’’اگرچہ پانڈا بانڈ ایک مثبت پیش رفت تھی، تاہم یہ مارکیٹ کو آئی ایم ایف کی علاقائی خطرات سے متعلق سخت وارننگز اور بیجنگ میں ایران تنازع کے حوالے سے ٹرمپ-شی جن پنگ تعطل کے اثرات سے مکمل طور پر محفوظ رکھنے کے لیے کافی ثابت نہیں ہوا۔‘‘
کاروبار کے دوران آٹو موبائل اسمبلرز، سیمنٹ، کمرشل بینکوں، تیل و گیس کی تلاش کرنے والی کمپنیوں اور پاور جنریشن سمیت اہم شعبوں میں فروخت دیکھی گئی۔ انڈیکس میں بھاری وزن رکھنے والے حصص جیسے حبکو، او جی ڈی سی ایل، پی پی ایل، پی ایس او، ایچ بی ایل، ایم سی بی، این بی پی اور یو بی ایل منفی زون میں ٹریڈ ہوتے رہے۔
جمعرات کے روز بھی پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں مندی کا سلسلہ جاری رہا، کیونکہ سرمایہ کاروں کے جذبات امریکی-ایران پیش رفت سے متعلق مسلسل غیر یقینی صورتحال اور عالمی سطح پر بلند تیل کی قیمتوں کے باعث کمزور رہے، جس نے بڑے انڈیکس شیئرز میں فروخت کے دباؤ کو بڑھا دیا۔
بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 952.30 پوائنٹس یا 0.57 فیصد کمی کے ساتھ 166,498.84 پوائنٹس پر بند ہوا۔
عالمی سطح پر بھی جمعہ کے روز ایشیائی مارکیٹوں پر دباؤ دیکھا گیا، کیونکہ ٹیکنالوجی اسٹاکس کے حوالے سے جوش و خروش مہنگائی کے خدشات میں بدل گیا۔ امریکی ٹریژری ییلڈز ایک سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں اور اس سال امریکی شرح سود میں اضافے کے امکانات بڑھ گئے۔
آئل کی قیمتوں میں اضافہ بھی جاری رہا، کیونکہ آبنائے ہرمز کو کھولنے میں پیش رفت نہ ہو سکی، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ چین امریکی تیل خریدنا چاہتا ہے۔
تمام نظریں بیجنگ پر مرکوز ہیں، جہاں ٹرمپ اپنے دو روزہ سرکاری دورے کے اختتام پر جمعہ کو روانہ ہوں گے۔ ان کے وفد میں ٹیسلا کے سی ای او ایلون مسک اور چپ بنانے والی کمپنی این ویڈیا کے چیف ایگزیکٹو جینسن ہوانگ بھی شامل ہیں۔
این ویڈیا کے شیئرز میں رات بھر 4.4 فیصد اضافہ ہوا، جب امریکہ نے اس کی ایچ 200 چپس کی چین کو فروخت کی منظوری دے دی، جس کے نتیجے میں ایس اینڈ پی 500 اور نیسڈیک انڈیکس نئی ریکارڈ بلند سطح پر پہنچ گئے۔
تاہم یہ جوش و خروش ایشیا تک منتقل نہ ہو سکا۔ ایم ایس سی آئی کا ایشیا پیسفک (جاپان کے علاوہ) کا وسیع ترین انڈیکس جمعہ کو 1.2 فیصد گر گیا، جس نے ہفتے کی اب تک کی تمام اضافے کو ختم کر دیا۔
جاپان کا نکی انڈیکس بھی 1.2 فیصد گر گیا، کیونکہ اعداد و شمار سے ظاہر ہوا کہ اپریل میں ملک میں ہول سیل افراطِ زر 4.9 فیصد تک پہنچ گئی، جو تین سال کی تیز ترین رفتار ہے، جس سے بینک آف جاپان کی شرح سود میں اضافے کی سمت برقرار رہنے کا امکان ہے۔
دریں اثناجمعہ کو انٹر بینک مارکیٹ میں روپے کی قدر میں ڈالر کے مقابلے میں معمولی اضافہ دیکھا گیا۔ کاروبار کے اختتام پر مقامی کرنسی 1 پیسے کی بہتری کے ساتھ 278.61 روپے پر بند ہوئی۔
آل شیئر انڈیکس میں تجارت کا حجم گزشتہ سیشن کے 706.02 ملین شیئرز سے کم ہو کر 625.45 ملین رہ گیا، تاہم شیئرز کی مالیت گزشتہ سیشن کے 19.92 ارب روپے کے مقابلے میں بڑھ کر 22.31 ارب روپے تک پہنچ گئی۔
حجم کے اعتبار سے ہیسکول پیٹرول 86.25 ملین شیئرز کے ساتھ سرِفہرست رہا، اس کے بعد کے الیکٹرک لمیٹڈ 78.24 ملین اور سینرجیکو پی کے 46.44 ملین شیئرز کے ساتھ نمایاں رہے۔
جمعہ کو مجموعی طور پر 485 کمپنیوں کے حصص کا کاروبار ہوا، جن میں سے 168 کمپنیوں کے شیئرز کی قیمت میں اضافہ اور 272 کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی جبکہ 45 کمپنیوں کے حصص کی قیمتیں مستحکم رہیں۔



Comments