امریکہ اور ایران میں خلیج پر کنٹرول کیلئے نئی جھڑپیں
- یہ تازہ حملے اس وقت ہوئے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک نئی کوشش شروع کی جس کا مقصد پھنسے ہوئے آئل ٹینکروں اور دیگر بحری جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزارنا تھا،
امریکہ اور ایران نے پیر کے روز خلیج میں نئے حملے شروع کر دیے، جب دونوں ممالک آبنائے ہرمز پر کنٹرول کے لیے بحری ناکہ بندیوں کے ذریعے برسرپیکار تھے، جس سے ایک نازک جنگ بندی شدید دباؤ کا شکار ہو گئی۔
یہ تازہ حملے اس وقت ہوئے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک نئی کوشش شروع کی جس کا مقصد پھنسے ہوئے آئل ٹینکروں اور دیگر بحری جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزارنا تھا، جو عالمی توانائی تجارت کا ایک انتہائی اہم راستہ ہے اور فروری سے جاری جنگ کے باعث تقریباً بند ہو چکا ہے۔
پیر کے روز متعدد تجارتی جہازوں نے خلیج میں دھماکوں اور آگ لگنے کی اطلاع دی، جبکہ امریکہ نے دعویٰ کیا کہ اس نے چھ چھوٹی ایرانی فوجی کشتیوں کو تباہ کر دیا ہے۔ اسی دوران متحدہ عرب امارات کے ایک اہم تیل بندرگاہ میں آگ لگ گئی، جس کی وجہ ایرانی حملے کو قرار دیا گیا۔
امریکی صدر نے اس کوشش کو پروجیکٹ فریڈم کا نام دیا، تاہم اس کے باوجود تجارتی جہازوں کی آمدورفت میں فوری اضافہ نہیں ہوا۔ بڑی شپنگ کمپنیوں نے کہا کہ وہ صورتحال معمول پر آنے تک انتظار کریں گے۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ اس صورتحال سے واضح ہے کہ مسئلے کا کوئی فوجی حل نہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی ثالثی سے امن مذاکرات آگے بڑھ رہے ہیں، جبکہ امریکہ اور متحدہ عرب امارات کو خبردار کیا کہ وہ تنازع میں نہ پھنسیں۔
ادھر امریکہ نے دعویٰ کیا کہ دو تجارتی جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے ہیں، جبکہ ایران نے اس کی تردید کی۔ اسی دوران ایک جنوبی کوریائی جہاز میں دھماکے اور آگ لگنے کی اطلاع بھی ملی۔
برطانوی میری ٹائم ایجنسی اور دیگر ذرائع نے بھی خلیج میں متعدد حملوں کی تصدیق کی۔ ایران نے بھی کہا کہ اس نے امریکی جنگی جہاز کو نشانہ بنایا، تاہم امریکہ نے اس کی تردید کی۔
تجارتی اور انشورنس لاگت میں بھی نمایاں اضافہ ہو چکا ہے، جس سے عالمی توانائی منڈی مزید غیر مستحکم ہو گئی ہے۔
ایران نے خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں داخل ہونے والی کسی بھی غیر ملکی فوجی قوت کو نشانہ بنایا جائے گا، جبکہ صورتحال بدستور کشیدہ اور غیر یقینی ہے۔


Comments