عباس عراقچی اسلام آباد سے ماسکو روانہ، روسی اعلی قیادت سے ملاقاتیں کرینگے
- عباس عراقچی اس سے قبل مسقط اور اسلام آباد کے دورے کر چکے ہیں
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی اتوار کے روز اسلام آباد سے ماسکو روانہ ہو گئے، جہاں وہ اعلیٰ روسی قیادت سے ملاقاتیں کریں گے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق وہ مختلف دارالحکومتوں کے درمیان سفارتی رابطوں میں مصروف ہیں تاکہ ایران اور امریکہ کے درمیان ممکنہ مذاکرات کو زندہ رکھا جا سکے۔
سفارتی ذرائع کے مطابق عباس عراقچی اس سے قبل مسقط اور اسلام آباد کے دورے کر چکے ہیں، جبکہ امکان ہے کہ وہ ماسکو میں روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے بھی ملاقات کریں گے۔ تاہم تاحال براہِ راست امریکہ ایران مذاکرات کی بحالی کے کوئی آثار نظر نہیں آ رہے۔
ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے نمائندوں اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کا مجوزہ دورہ اسلام آباد منسوخ کر دیا، جس سے مذاکراتی عمل کو دھچکا پہنچا۔ اس کے باوجود ایران نے پاکستان کے ذریعے امریکہ کو تحریری پیغامات بھجوائے ہیں، جن میں جوہری پروگرام اور آبنائے ہرمز سے متعلق اپنے مؤقف اور ریڈ لائنز واضح کی گئی ہیں۔
اگرچہ 8 اپریل سے جاری امریکہ اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ بندی برقرار ہے، تاہم اس کے معاشی اثرات پوری دنیا میں محسوس کیے جا رہے ہیں۔ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث تیل، گیس اور کھاد کی عالمی سپلائی متاثر ہوئی ہے، جس سے قیمتوں میں تیزی اور ترقی پذیر ممالک میں غذائی بحران کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے واضح کیا ہے کہ وہ اس اہم گزرگاہ کی بندش برقرار رکھیں گے، جبکہ امریکہ نے ردعمل میں ایرانی بندرگاہوں پر پابندیاں عائد کر دی ہیں۔
دوسری جانب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی برقرار ہے، جہاں اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے حزب اللہ پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے جنوبی لبنان میں حملوں کا حکم دیا ہے۔ صورتحال نے خطے میں امن کی کوششوں کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔


Comments