مشرق وسطیٰ کی جنگ اور بلند قرضے، آئی ایم ایف اور عالمی بینک اجلاس کے اہم موضوعات
- اجلاس میں ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی جنگ، مہنگائی اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی مشکلات ایجنڈے پر چھائی رہنے کا امکان ہے۔ تین سال بعد پہلی مرتبہ یہ اجلاس واشنگٹن سے باہر منعقد ہو رہے ہیں۔
تھائی لینڈ میں اس ہفتے عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) اور عالمی بینک کے سالانہ اجلاس ایسے وقت میں منعقد ہو رہے ہیں جب مشرق وسطیٰ میں پھیلتی جنگ، توانائی کی فراہمی میں شدید خلل اور بڑھتی شرح سود عالمی اقتصادی ترقی کے لیے بڑے خطرات بن چکے ہیں۔
اجلاس میں ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی جنگ، مہنگائی اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی مشکلات ایجنڈے پر چھائی رہنے کا امکان ہے۔ تین سال بعد پہلی مرتبہ یہ اجلاس واشنگٹن سے باہر منعقد ہو رہے ہیں۔
عالمی بینک کے صدر اجے بنگا نے رائٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل کی فراہمی متاثر ہونے کے باوجود عالمی معیشت کی نمو توقعات سے بہتر رہی، تاہم ڈیزل اور کھاد کی بڑھتی قیمتیں، قرضوں کا بوجھ اور ممکنہ شدید موسمی اثرات نئے چیلنجز پیدا کر رہے ہیں۔
گروپ آف سیون ممالک نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دباؤ پر ہنگامی ذخائر سے 10 کروڑ بیرل خام تیل اور ڈیزل جاری کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ ٹرمپ نے روس کے ساتھ ڈیزل کی فراہمی کے معاہدے کا اعلان بھی کیا، جس پر یوکرین کے صدر ولودومیر زیلنسکی نے تنقید کی۔
آئی ایم ایف کے مطابق 2026 میں عالمی اقتصادی ترقی کی شرح تقریباً 3 فیصد رہنے کی توقع ہے، تاہم یوکرین اور خلیجی ممالک کی شرح نمو کے تخمینوں میں کمی ہوسکتی ہے۔
آئی ایم ایف کی سربراہ کرسٹالینا جارجیوا نے خبردار کیا کہ عالمی معیشت کو مشکل دور کا سامنا ہے۔ ان کے مطابق عالمی عوامی قرض دوسری جنگ عظیم کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچ چکا ہے اور 2030 سے قبل مجموعی عالمی پیداوار کے 100 فیصد سے تجاوز کرسکتا ہے۔
ترقی پذیر ممالک کو بلند قرضوں، مہنگی مالی اعانت اور سخت معاشی اصلاحات کے باعث مزید دباؤ کا سامنا ہے۔ ماہرین نے زور دیا ہے کہ عالمی مالیاتی ادارے بدلتے جغرافیائی و سیاسی حالات کے مطابق اپنی حکمت عملی مرتب کریں۔