امریکا اب بھی ایران کے ساتھ مذاکرات کیلئے تیار ہے، مارکو روبیو
- ایران سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کررہا، امریکی وزیر خارجہ
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ امریکا اب بھی ایران کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے بحران حل کرنا چاہتا ہے۔
فلپائن میں جاری آسیان وزرائے خارجہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کا کہنا تھا کہ امریکا مذاکرات کیلئے تیار ہے، ایران سنجیدہ نہیں، ایران امریکا کے ساتھ مذاکرات سے متعلق سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کررہا۔
بحیرۂ احمر کے دہانے پر واقع ساحلی علاقے پر کنٹرول رکھنے والے حوثی باغیوں نے پیر کو سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کا اعلان کردیا جس سے جنگ میں ایک نئے محاذ کے کھلنے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ یہ تنازع 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے آغاز کے بعد شروع ہوا تھا اور اب تک خلیجی خطے میں ہزاروں افراد کی جانیں لے چکا ہے۔
خلیج فارس سے باہر نکلنے والے آبنائے ہرمز کے ذریعے بحری جہازوں کی نقل و حمل کو ایران کی طرف سے پہلے ہی دھمکیوں کا سامنا ہے جبکہ بحیرہ احمر یومیہ لاکھوں بیرل سعودی تیل کی ترسیل کے لیے اہم ترین متبادل راستہ فراہم کرتا رہا ہے۔
ایک سینئر ایرانی عہدیدار نے رائٹرز کو بتایا کہ تہران کو ثالث ممالک کی جانب سے 10 روزہ جنگ بندی کی ایک تجویز موصول ہوئی ہے۔ اس تجویز کا مقصد امریکہ اور ایران کے درمیان جون میں طے پانے والے عبوری جنگ بندی معاہدے کو برقرار رکھنا ہے۔
اس بات کا ایک اور اشارہ ہے کہ سفارتی کوششیں اب بھی جاری ہیں، ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے ثالثی کردار ادا کرنے والے پاکستان کا دورہ کیا اور اسلام آباد سے درخواست کی کہ وہ بحران کے حل کے لیے اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھے۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ واشنگٹن ہمیشہ سفارت کاری اور مذاکرات کا حامی رہا ہے، تاہم انہیں اس بات پر شبہ ہے کہ آیا تہران بھی بات چیت کے لیے اتنا ہی سنجیدہ ہے۔
فلپائن کے دارالحکومت منیلا میں گفتگو کرتے ہوئے روبیو نے کہا کہ اس وقت مسئلہ یہ ہے کہ وہ مذاکرات کے حوالے سے سنجیدہ نہیں ہیں۔ اگر وہ سنجیدہ ہیں تو ہم بھی سنجیدہ ہیں لیکن اگر ایسا نہیں تو پھر ہم اپنے اور اپنے اتحادیوں کے مفادات کے تحفظ کے لیے جو ضروری ہوا، وہ کریں گے۔
مارکو روبیو کا کہنا تھا کہ ایران آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت پر کنٹرول چاہتا ہے، آبنائے ہرمز پر کنٹرول کی کسی بین الاقوامی قانونی نظام میں گنجائش نہیں، اگر ایران کو ایسا کرنے دیا گیا تو یہ دنیا کے دیگر حساس سمندری راستوں کیلئے بھی خطرناک ثابت ہوگا۔
مارکو روبیو نے کہا کہ اگر ہم مشرقِ وسطیٰ میں یہ نظیر قائم ہونے دیں کہ کوئی ملک ایک بین الاقوامی آبی گزرگاہ پر اپنی مرضی سے کنٹرول حاصل کر لے، وہاں سے گزرنے پر محصول وصول کرے اور ادائیگی نہ ہونے کی صورت میں جہازوں کو تباہ کرنے کی دھمکی دے تو ہم ایک نہایت خطرناک مثال قائم کردیں گے ۔
کسی سفارتی پیش رفت کے آثار نہ ہونے کے باعث امریکی فوج نے منگل کی رات مسلسل گیارہویں شب ایران بھر میں مختلف اہداف پر بمباری کی۔
ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی فارس کے مطابق بدھ کی علی الصبح تہران کے رہائشیوں نے متعدد دھماکوں کی آوازیں سنیں جبکہ دارالحکومت کے فضائی دفاعی نظام کو بھی فعال کر دیا گیا۔
ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا کے مطابق جنوب مشرقی ساحلی شہروں چابہار اور کنارک میں بھی دھماکوں کی اطلاعات ملی ہیں جبکہ ایران کے واحد جوہری پاور پلانٹ کے حامل شہر بوشہر میں بھی دو دھماکے سنے گئے۔
اس سے قبل ایران نے بحرین، کویت اور اردن میں امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا تھا اور آبنائے ہرمز میں ایک ٹینکر کو نشانہ بنایا گیا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تصدیق کی کہ اس جنگ میں اب تک 18 امریکی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں جن میں پچھلے چند دنوں میں اردن اور عراق میں امریکی فوجی اڈوں پر ایرانی حملوں میں مارے جانے والے چار فوجی بھی شامل ہیں۔