دنیا

امریکی اور ایرانی صدور نے جنگ بندی معاہدے پر دستخط کر دیے، دوبارہ حملے کرسکتے ہیں، ٹرمپ

  • اگر ایران معاہدے کی پاسداری نہ کرے تو ’ہم ان پر بھرپور بمباری کریں گے، امریکی صدر
شائع اپ ڈیٹ

امریکا اور ایران نے بدھ کے روز جنگ کے خاتمے کے لیے عبوری معاہدے کا متن جاری کر دیا، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران نے معاہدے کی خلاف ورزی کی تو امریکا دوبارہ حملے کرے گا اور ایرانی حکام کو نشانہ بنانے سے بھی گریز نہیں کرے گا۔

فرانس میں جی 7 سربراہی اجلاس کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ اگر ایران معاہدے کی پاسداری نہ کرے تو ’ہم ان پر بھرپور بمباری کریں گے۔ تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ ایران معاہدے کا احترام کرے اور اسے ذہین لوگوں کا ملک قرار دیا۔ ٹرمپ نے اپنے سابق مؤقف سے جزوی طور پر پیچھے ہٹتے ہوئے کہا کہ اگر دیگر ممالک کے پاس بیلسٹک میزائل موجود ہیں تو ایران کو مکمل طور پر اس صلاحیت سے محروم کرنا غیر منصفانہ ہوگا۔

امریکی حکام کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان 14 نکاتی مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہو چکے ہیں، جس کے تحت اپریل میں اعلان کردہ جنگ بندی میں مزید 60 دن کی توسیع کی گئی ہے تاکہ مستقل امن معاہدے پر مذاکرات مکمل کیے جا سکیں۔ ایرانی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ معاہدہ بدھ سے ہی نافذ العمل ہو چکا ہے۔

معاہدے میں تمام محاذوں پر جنگ کے خاتمے، آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کی مکمل بحالی، ایرانی بندرگاہوں پر امریکی پابندیوں کے خاتمے، ایران پر عائد اقتصادی پابندیوں میں نرمی، منجمد اثاثوں کی بحالی اور ایرانی معیشت کی بحالی کے لیے 300 ارب ڈالر کے منصوبے کی شقیں شامل ہیں۔ ایران نے ایک بار پھر جوہری ہتھیار نہ بنانے کے عزم کا اعادہ بھی کیا ہے۔

جی 7 رہنماؤں نے معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات جاری رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔ دوسری جانب لبنان میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جھڑپیں مکمل طور پر نہیں رک سکیں۔ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ لبنان میں فوجی کارروائیوں کے لیے کچھ نرم رویہ اختیار کیا جانا چاہیے۔ لبنان میں بدھ کو بھی اسرائیلی فضائی حملوں اور حزب اللہ کے ڈرون حملوں کی اطلاعات موصول ہوئیں۔