این ایف سی ایوارڈ کے تحت صوبائی حصے پر تاحال اتفاق رائے نہ ہو سکا
- بجٹ سازی کا عمل غیر معمولی مشکلات کا شکار ہے، مزمل اسلم
خیبر پختونخوا کے مشیر خزانہ مزمل اسلم نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت ابھی تک قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ کے تحت صوبوں کے حصے میں سے تقریباً 1.1 سے 1.2 کھرب روپے اسٹریٹجک اخراجات اور وفاقی ترقیاتی منصوبوں کے لیے اپنے پاس رکھنے کی تجویز پر صوبائی حکومتوں کا اتفاقِ رائے حاصل نہیں کر سکی، جس کے باعث وفاقی بجٹ 2026-27 کے بارے میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔
پیر کے روز میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بجٹ سازی کا عمل تاحال مکمل نہیں ہو سکا کیونکہ اہم مالیاتی اعداد و شمار پر ابھی بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ اتفاق نہیں ہو پایا۔
مزمل اسلم نے کہا کہ بجٹ سازی کا عمل غیر معمولی مشکلات کا شکار ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ وفاق اور صوبوں کے درمیان حل طلب اختلافات اور آئی ایم ایف کے ساتھ جاری مذاکرات وفاقی بجٹ کو 10 جون کو پیش کرنے میں مزید تاخیر کا سبب بن سکتے ہیں۔ ان کے مطابق اسی سلسلے میں وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کی سربراہی میں ایک وفد نے پیر کے روز وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سے ملاقات بھی کی۔
انہوں نے کہا کہ قومی اقتصادی کونسل (این ای سی) کا اجلاس منگل کو ہونا ہے، تاہم موجودہ صورتحال کے پیش نظر اس کے مؤخر ہونے کے امکان کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا حکومت کی این ای سی اجلاس میں شرکت کا انحصار بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات کی اجازت پر ہے۔
مزمل اسلم نے کہا کہ جاری مالیاتی مذاکرات کے تناظر میں بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات ناگزیر ہو چکی ہے اور انہیں یقین ہے کہ وہ تعطل کے خاتمے کے لیے کسی بھی معقول تجویز کو مسترد نہیں کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت صوبوں سے مطالبہ کر رہی ہے کہ وہ اپنے این ایف سی حصے کا کچھ حصہ اسٹریٹجک ضروریات اور پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) کے لیے واپس کریں، تاہم اس حوالے سے ابھی کوئی اتفاقِ رائے نہیں ہو سکا۔
ان کے مطابق پہلے یہ بات سامنے آئی تھی کہ وفاق صوبوں سے 1.7 کھرب روپے واپس لینے کا خواہاں ہے، تاہم اگر ایف بی آر کی متوقع ٹیکس وصولی 15 کھرب روپے کے قریب رہی تو صوبوں کو تقریباً 1.1 سے 1.2 کھرب روپے واپس کرنا پڑ سکتے ہیں۔ اس صورت میں خیبر پختونخوا کو تقریباً 170 سے 180 ارب روپے چھوڑنا ہوں گے، جس سے صوبے کے لیے بڑھتے ہوئے پنشن اور تنخواہوں کے اخراجات پورے کرنا مشکل ہو جائے گا۔
انہوں نے بتایا کہ رواں مالی سال میں ایف بی آر کی متوقع 14.13 کھرب روپے کی ٹیکس وصولیوں میں سے صوبوں کو 8.2 کھرب روپے دیے گئے تھے۔ ان کے بقول وفاقی حکومت ایک طرف صوبوں سے اسٹریٹجک مطالبات کر رہی ہے جبکہ دوسری طرف دعویٰ کرتی ہے کہ صوبوں کو گزشتہ سال جتنا ہی حصہ ملے گا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ زیادہ محصولات کی توقعات کے باوجود صوبوں کے حصے کو جوں کا توں کیسے رکھا جا سکتا ہے؟
مزمل اسلم نے کہا کہ اگر صوبے اس تجویز سے اتفاق بھی کر لیں تو اس کے نفاذ کے طریقہ کار اور آئی ایم ایف کی شرط کے مطابق صوبائی بجٹ سرپلس حاصل کرنے کے حوالے سے سنگین تکنیکی سوالات موجود ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت وفاقی بجٹ 12 جون کو پیش کرنے پر غور کر رہی ہے، تاہم مزید تاخیر کا امکان بھی موجود ہے۔
انہوں نے بتایا کہ مالیاتی تخمینوں سے متعلق غیر یقینی صورتحال کے باعث اقتصادی اہداف میں پہلے ہی تبدیلی کی جا چکی ہے۔ جی ڈی پی شرح نمو کا ہدف 4.2 فیصد سے کم کرکے 4 فیصد کر دیا گیا ہے جبکہ پی ایس ڈی پی کے حجم کو بھی ابھی حتمی شکل نہیں دی جا سکی۔
انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ جب شرح نمو کا ہدف کم کر دیا گیا ہے تو پھر حکومت اب بھی 20 لاکھ نئی ملازمتیں پیدا کرنے کی توقع کیسے رکھتی ہے؟
مزمل اسلم نے کہا کہ بجٹ سازی کا عمل ابھی نامکمل ہے کیونکہ اہم مالیاتی اعداد و شمار کو حتمی شکل نہیں دی گئی اور آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات ابھی جاری ہیں۔
انہوں نے این ایف سی ایوارڈ کے تحت صوبائی حصے روکنے کی آئینی اور قانونی حیثیت پر بھی سوال اٹھایا۔ ان کا مؤقف تھا کہ اس مقصد کے لیے کوئی تکنیکی فارمولا موجود نہیں اور نہ ہی قومی اقتصادی کونسل ایسا فیصلہ کرنے کا مناسب فورم ہے۔
مزمل اسلم نے خیبر پختونخوا کے لیے وفاقی فنڈز میں کمی پر بھی اعتراض کیا۔ انہوں نے کہا کہ یکم جون کو صوبے کو بتایا گیا تھا کہ اسے ایکسلریٹڈ امپلیمنٹیشن پروگرام (اے آئی پی) اور ضم شدہ اضلاع کے لیے 66 ارب روپے ملیں گے، تاہم بعد میں یہ رقم کم کرکے 56 ارب روپے کر دی گئی۔
انہوں نے مزید کہا کہ ضم شدہ اضلاع کے ترقیاتی اخراجات بھی مسلسل کم کیے جا رہے ہیں۔ یہ رقم پہلے 37 ارب روپے تھی، پھر 25 ارب روپے کر دی گئی اور اب رواں مالی سال کے لیے اسے مزید کم کرکے 22 ارب روپے کر دیا گیا ہے۔ ان کے مطابق سندھ اور بلوچستان کے لیے وفاقی فنڈز میں نسبتاً زیادہ اضافہ کیا گیا ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026