جنگ بندی کی ڈیڈ لائن قریب، ایران مذاکرات میں شرکت سے متعلق فیصلہ تاحال نہ کر سکا
- صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ جنگ کے خاتمے کے لیے 'بڑے معاہدے' کے خواہاں ہیں
ایران نے منگل کے روز کہا ہے کہ وہ ابھی تک اس بات کا فیصلہ نہیں کر سکا کہ آیا وہ امریکہ کے ساتھ آخری لمحات میں ہونے والے امن مذاکرات میں شرکت کرے گا یا نہیں، جبکہ خلیج میں جاری جنگ کے سیزفائر کے خاتمے سے محض ایک دن قبل امریکی فورسز نے سمندر میں ایک بڑے ایرانی تیل بردار جہاز کے خلاف کارروائی کی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ جنگ کے خاتمے کے لیے ”بڑے معاہدے“ کے خواہاں ہیں، تاہم انہوں نے سیزفائر میں توسیع کی خواہش ظاہر نہیں کی اور کہا کہ اگر مذاکرات کامیاب نہ ہوئے تو امریکی فوج ”مکمل طور پر تیار“ ہے۔
دوسری جانب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، جو امریکی وفد کی قیادت کرنے والے تھے، تاحال اسلام آباد کے لیے روانہ نہیں ہوئے، جہاں شہر کے مرکزی حصے کو سخت سیکیورٹی کے تحت بند کر دیا گیا ہے جبکہ ایک پرتعیش ہوٹل کو مذاکرات کی میزبانی کے لیے خالی کرا لیا گیا ہے۔
وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار کے مطابق وینس منگل کے روز واشنگٹن میں اضافی ملاقاتوں میں بھی شرکت کریں گے۔
ایران کا امریکہ پر قزاقی کا الزام
منگل کی شام ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے سرکاری ٹیلی ویژن کو بتایا کہ تہران تاحال اس بات پر فیصلہ نہیں کر سکا کہ مذاکرات میں شرکت کرنی ہے یا نہیں۔
انہوں نے امریکی کارروائی کو، جس میں تیل بردار جہاز پر چڑھائی اور اتوار کو ایک اور مال بردار جہاز کی ضبطی شامل ہے، ”بحری قزاقی اور ریاستی دہشت گردی“ قرار دیا اور کہا کہ اس سے واشنگٹن کی مذاکرات کے لیے سنجیدگی پر سوال اٹھتے ہیں۔
اسماعیل بقائی نے کہا کہ ایرانی جہازوں کے خلاف جارحیت اور مسلسل دباؤ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مخالف فریق کا متضاد طرزِ عمل جاری ہے۔
پاکستان کے وزیرِ اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے ایکس پر اپنے پیغام میں کہا کہ پاکستان ابھی تک ایران کے جواب کا منتظر ہے۔ ان کے مطابق: “پاکستان بطور ثالث ایران کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے اور سفارت کاری اور مذاکرات کے راستے کو آگے بڑھا رہا ہے۔”
ٹرمپ: فوج ’مکمل طور پر تیار‘
سیز فائر میں توسیع کے امکان سے متعلق سوال پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سی این بی سی کو بتایا: “میں یہ نہیں چاہتا۔ ہمارے پاس اتنا وقت نہیں ہے۔”
انہوں نے مزید کہا: “مجھے توقع ہے کہ بمباری ہوگی کیونکہ میرے خیال میں یہی بہتر رویہ ہے۔ لیکن ہم تیار ہیں، فوج مکمل طور پر تیار ہے۔”
ایران کی حکومت کی دھمکی
ایران کی حکومتی ترجمان فاطمہ مہاجرانی نے سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا کے مطابق کہا: ”ہم دوبارہ حملے نہیں چاہتے، لیکن اگر ایسے حملے ہوئے تو ہم پہلے سے زیادہ سخت جواب دیں گے۔“
امریکی موقف: ٹینکر کے خلاف کارروائی ’بغیر کسی واقعے کے‘
امریکی فوج نے کہا ہے کہ اس کی فورسز نے ایران کے ساتھ تجارت کے الزام میں پابندیوں کی زد میں آنے والے تیل بردار جہاز ”ٹیفانی“ کے خلاف کارروائی کی ہے، جو ”بغیر کسی واقعے کے“ مکمل ہوئی۔
جہاز نے منگل کی صبح اپنی آخری پوزیشن بحر ہند میں سری لنکا کے قریب رپورٹ کی تھی، اور اس میں تقریباً مکمل طور پر 20 لاکھ بیرل خام تیل لدا ہوا تھا۔ جہاز نے اپنی منزل سنگاپور ظاہر کی تھی۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے کہا ہے کہ ”جیسا کہ ہم واضح کر چکے ہیں، ہم عالمی بحری قانون نافذ کرنے کی کارروائیاں جاری رکھیں گے تاکہ غیر قانونی نیٹ ورکس کو توڑا جا سکے اور ایران کو مادی معاونت فراہم کرنے والے پابندیوں کے شکار جہازوں کو جہاں بھی وہ موجود ہوں روکا جا سکے۔“
ایرانی حکام نے عوامی طور پر امریکی بحری ناکہ بندی کو مذاکرات سے انکار کی ایک بڑی وجہ قرار دیا ہے۔
ٹرمپ کے الزامات اور مؤقف
سوشل میڈیا پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران نے جنگ بندی کی متعدد خلاف ورزیاں کی ہیں، تاہم انہوں نے اس کی تفصیلات فراہم نہیں کیں۔ سی این بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ ناکہ بندی کامیاب رہی ہے اور امریکہ ایک مضبوط پوزیشن میں ہے جس سے وہ ”بڑا معاہدہ“ حاصل کر سکتا ہے۔
تیل کی قیمتوں میں اضافہ
جنگ بندی کے خاتمے کے وقت کے حوالے سے ابہام برقرار ہے۔ ٹرمپ نے ابتدا میں کہا تھا کہ یہ منگل 7 اپریل کی شام واشنگٹن کے وقت کے مطابق دو ہفتے تک جاری رہے گی، تاہم اس ہفتے انہوں نے کہا کہ یہ بدھ 22 اپریل کی شام تک جاری رہے گی، یعنی اس میں 24 گھنٹے کی توسیع کر دی گئی ہے۔
پاکستانی ذرائع کے مطابق جو مذاکرات سے منسلک ہیں، جنگ بندی بدھ کی شام 8 بجے مشرقی امریکی وقت کے مطابق ختم ہوگی، جو ایران میں جمعرات صبح 3:30 بجے بنتا ہے۔
آبنائے ہرمز بند، عالمی سپلائی متاثر
ایران نے خلیج تک رسائی دینے والی آبنائے ہرمز کو زیادہ تر جہازوں کے لیے بند کر دیا ہے اور صرف اپنے جہازوں کو آمدورفت کی اجازت دی ہے۔ اس نے گزشتہ ہفتے اعلان کیا تھا کہ وہ آبنائے کو دوبارہ کھول دے گا، تاہم بعد میں ہفتہ کے روز یہ فیصلہ واپس لے لیا جب ٹرمپ نے ایرانی بندرگاہوں پر عائد ناکہ بندی ختم کرنے سے انکار کر دیا۔
اس صورتحال کے باعث آبنائے ہرمز بدستور بند ہے، جس سے دنیا کو روزانہ تقریباً 2 کروڑ بیرل تیل کی ترسیل متاثر ہو رہی ہے۔
دس روز قبل ہونے والے مذاکرات کے پہلے دور میں کوئی معاہدہ نہ ہو سکا تھا، اور ایران نے امریکہ کی جانب سے ناکہ بندی ختم کرنے سے انکار اور ایک ایرانی کارگو جہاز کی ضبطی کے بعد دوسرے دور سے بھی انکار کر دیا۔ ٹرمپ نے دھمکی دی ہے کہ اگر معاہدہ نہ ہوا تو وہ ایران کے شہری بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔
اس کے باوجود مذاکرات سے وابستہ ایک پاکستانی ذریعے نے رائٹرز کو بتایا کہ مذاکرات کی بحالی کا امکان برقرار ہے اور توقع ہے کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اب بھی اسلام آباد پہنچیں گے۔
وال اسٹریٹ کے اسٹاکس میں زیادہ تر مندی دیکھی گئی جبکہ عالمی ایکویٹیز بھی نیچے آئیں، کیونکہ امن مذاکرات سے متعلق امیدیں کمزور پڑ گئیں۔ اسی دوران خام تیل کی قیمتوں میں تقریباً 3 فیصد اضافہ ہوا۔
ایران کا جوہری پروگرام اہم نکتہ
صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایک ایسے معاہدے کے خواہاں ہیں جو تیل کی قیمتوں میں مزید اضافے اور اسٹاک مارکیٹ میں جھٹکوں کو روک سکے، تاہم وہ اس بات پر اصرار کر رہے ہیں کہ ایران کو جوہری ہتھیار بنانے کی صلاحیت حاصل نہیں ہونی چاہیے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ ایران اپنے انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخیرے سے دستبردار ہو، جسے مزید افزودہ کر کے جوہری ہتھیار میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔
دوسری جانب تہران چاہتا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز پر اپنے کنٹرول کو استعمال کرتے ہوئے ایسا معاہدہ حاصل کرے جس سے جنگ کا دوبارہ آغاز روکا جا سکے اور پابندیاں ختم ہوں، جبکہ وہ اپنے جوہری پروگرام کا زیادہ حصہ برقرار رکھ سکے، جس کے بارے میں ایران کا مؤقف ہے کہ یہ پرامن مقاصد کے لیے ہے۔
جنگ اور علاقائی صورتحال
امریکی اور اسرائیلی حملوں اور لبنان میں اسرائیلی بمباری و زمینی کارروائی کے نتیجے میں ہزاروں افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔
یہ جنگ عالمی توانائی کی فراہمی کے لیے ایک تاریخی جھٹکے کا باعث بنی ہے اور اس خدشے کو جنم دیا ہے کہ عالمی معیشت کساد بازاری کے دہانے تک پہنچ سکتی ہے۔
پاکستان کی تیاریاں
غیر یقینی صورتحال کے باوجود پاکستان مذاکرات کی میزبانی کی تیاری جاری رکھے ہوئے ہے۔ حکام کے مطابق اسلام آباد میں تقریباً 20 ہزار سیکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔