ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ
- حکومت فوری طور پر دی گئی اور متوقع ایندھن سبسڈیز کی مجموعی مالیت واضح کرے
- ساتھ ہی ایسا شفاف اور مؤثر نظام متعارف کرایا جائے جو سبسڈی کی درست اور صرف مستحق طبقات تک فراہمی یقینی بنائے
حکومت کو جاری مشرقِ وسطیٰ تنازع کے باعث عالمی سطح پر ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے پیشِ نظر 3 اپریل سے ایندھن کے نرخ بڑھانے پر مجبور ہونا پڑا — پیٹرول کی قیمت میں 43 فیصد اور ڈیزل میں 55 فیصد اضافہ کیا گیا۔ یہ فیصلہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے اس اصرار سے منسوب کیا جا رہا ہے کہ پہلے اعلان کردہ سبسڈیز کی مکمل مالی اعانت یقینی بنائی جائے، جس کے لیے کفایت شعاری کے اقدامات کے ساتھ ساتھ پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام میں 100 ارب روپے کی کٹوتی بھی شامل ہے۔
عوام کو آگاہ کیا گیا کہ کم اور متوسط آمدنی والے طبقات کے تحفظ کے لیے عارضی سبسڈی برقرار رکھی جائے گی، جس کے تحت موٹر سائیکل سواروں کو تین ماہ کے لیے فی لیٹر 100 روپے سبسڈی دی جائے گی، جس کی ماہانہ حد 20 لیٹر مقرر ہوگی۔ چھوٹے کسانوں کو برداشت کے اخراجات میں مدد کے لیے فی ایکڑ 1500 روپے دیے جائیں گے، بین الاضلاعی ٹرانسپورٹرز کو فی لیٹر 1000 روپے، ٹرک/مال بردار گاڑیوں کے لیے 70 ہزار روپے، بڑی وینز کے لیے 80 ہزار روپے جبکہ مسافر وینز کو ابتدائی ایک ماہ کے لیے ماہانہ 100 ہزار روپے فراہم کیے جائیں گے، اور پاکستان ریلوے کو بھی سبسڈی دی جائے گی۔ تاہم یہ واضح نہیں کہ حکومت نے ان ریلیف اقدامات کے لیے درکار سبسڈی کی مجموعی مالیت کا تعین کیا ہے یا نہیں، یا پھر کوئی ایسا مؤثر اور شفاف نظام وضع کیا گیا ہے جو اس امر کو یقینی بنائے کہ سبسڈی حقیقی مستحقین تک پہنچے اور ماضی کی طرح غیر مستحق افراد اس سے فائدہ نہ اٹھا سکیں۔
ایندھن کی قیمتوں کا تعین واضح ( ایکس پلسٹ) اور غیر واضح ( اِمپلسٹ) لاگتوں کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔ عالمی بینک کے مطابق واضح لاگت سے مراد وہ رقم ہے جس میں کسی ایندھن کی فراہمی کی مالی لاگت (یعنی سپلائی لاگت) اس قیمت سے زیادہ ہو جو صارف ادا کرتا ہے۔ جبکہ غیر واضح سبسڈی سے مراد ایندھن کی مکمل سماجی لاگت اور صارف کی ادا کردہ قیمت کے درمیان فرق ہے، جس میں کسی واضح سبسڈی کو شامل نہیں کیا جاتا۔ واضح لاگت، یعنی ایندھن سبسڈی، کی ایک نمایاں مثال 2007 میں اس وقت سامنے آئی جب وزیر اعظم شوکت عزیز کے دور میں، اُس وقت کے فوجی حکمران پرویز مشرف سے مشاورت کے بعد، پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے فی لیٹر اور ڈیزل میں 1.03 روپے فی لیٹر کمی کی گئی۔ یہ فیصلہ معاشی بنیادوں کے بجائے فروری 2008 کے عام انتخابات سے قبل سیاسی مصلحتوں کے تحت کیا گیا تھا۔ اس حکمت عملی کی ناکامی اس امر سے ظاہر ہے کہ پرویز مشرف کے حامی سیاستدانوں پر مشتمل کنگز پارٹی انتخابات میں بری طرح ناکام ہوئی، جس کے نتیجے میں بعد میں آنے والی پیپلز پارٹی کی قیادت والی حکومت کو ایک اور آئی ایم ایف پروگرام کے لیے رجوع کرنا پڑا۔
متعدد ممالک پیٹرول اور دیگر مصنوعات پر ٹیکس عائد کرتے ہیں، جہاں یورپ میں یہ شرح تقریباً 50 فیصد تک ہے جبکہ بھارت میں ایندھن پر ٹیکس لگ بھگ 50 سے 60 فیصد کے درمیان ہے۔
ریاستہائے متحدہ (امریکا) میں یہ شرح کم ترین سطحوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں پیٹرول پر 18.4 سینٹ فی گیلن اور ڈیزل پر 24.3 سینٹ فی گیلن ٹیکس عائد ہے۔ پاکستان میں یکے بعد دیگرے آنے والی حکومتوں نے دو وجوہات کی بنا پر پیٹرولیم لیوی، جو کہ ایک سیلز ٹیکس اور رجعتی ٹیکس ہے، پر بطور ریونیو ذریعہ انحصار بڑھایا ہے: (الف) یہ ٹیکس فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے ذریعے وصول نہیں کیا جاتا، کیونکہ اس صورت میں یہ رقم وفاقی قابلِ تقسیم پول میں شامل ہو کر قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ 2010 کے تحت وفاق اور چاروں صوبوں میں تقسیم ہوتی؛ اس کے برعکس اسے ”دیگر ٹیکسز“ کے تحت براہِ راست وفاقی خزانے میں جمع کر لیا جاتا ہے؛ اور (ب) اس لیوی کی زیادہ سے زیادہ حد پارلیمنٹ نے مقرر کی تھی جسے وقتاً فوقتاً بڑھایا گیا، تاہم رواں سال یہ حد مکمل طور پر ختم کر دی گئی ہے۔
لیوی کی شرحِ نمو دیگر تمام ٹیکسوں سے زیادہ ہے، مالی سال 2024-25 میں انکم ٹیکس کی وصولیوں میں 18 فیصد، کسٹمز ڈیوٹی میں 21 فیصد، سیلز ٹیکس (لیوی کے بغیر) میں 19 فیصد اضافے کا تخمینہ لگایا گیا، جبکہ پیٹرولیم لیوی میں 26 فیصد کے نمایاں اضافے کا ہدف رکھا گیا۔
3 اپریل کے اقدامات کے تحت پیٹرول پر لیوی میں 55.24 روپے فی لیٹر اضافہ کر کے اسے مجموعی طور پر 137.23 روپے فی لیٹر کر دیا گیا (پیٹرول اس مد میں سب سے بڑا ریونیو ذریعہ ہے)، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل پر اسے صفر کر دیا گیا۔
یکم مارچ 2026 کو پیٹرول پر 84.4 روپے فی لیٹر لیوی عائد تھی، اور 258.17 روپے فی لیٹر کی قیمت کے حساب سے یہ کل قیمت کا 33 فیصد بنتی تھی۔ 3 اپریل کو لیوی بڑھا کر 160.61 روپے فی لیٹر کرنے سے پیٹرول کی قیمت 458.41 روپے فی لیٹر ہو گئی، یعنی لیوی کا حصہ بڑھ کر 35.4 فیصد ہو گیا، جو فی لیٹر 2.4 فیصد اضافے کے مترادف ہے۔
عوامی ردِعمل پر وزیر اعظم نے لیوی کم کر کے 80 روپے فی لیٹر کر دی۔ تاہم یہ واضح نہیں کہ آیا اس اقدام پر آئی ایم ایف سے اتفاقِ رائے ہوا یا نہیں، اور اگر نہیں تو ریونیو میں کمی کو کیسے پورا کیا جائے گا: مزید ترقیاتی اخراجات میں کٹوتی، صوبوں سے غیر حقیقی حد تک زیادہ سرپلس کا مطالبہ، یا اندرونِ ملک مزید قرض کا حصول، جو خود مہنگائی میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے، یا پھر ان تمام اقدامات کا مجموعہ، جس کے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔
یہ درست ہے کہ دیگر ممالک نے پیٹرول پر ٹیکس کم کیے ہیں، مگر پاکستان میں غربت کی شرح کہیں زیادہ ہے۔ عالمی بینک کے مطابق مالی سال 2025 میں پاکستان میں غربت کی شرح 42.4 فیصد (3.65 ڈالر یومیہ، 2017 پی پی پی کے حساب سے) برقرار رہنے کا امکان ہے، جس کا مطلب ہے کہ 10 کروڑ سے زائد افراد خطِ غربت سے نیچے رہیں گے۔ پاکستان کا بالواسطہ ٹیکسوں پر مسلسل انحصار، جو کہ رجعتی ہوتے ہیں اور غریبوں پر زیادہ بوجھ ڈالتے ہیں، اور ملک میں ٹیکس چوری و اجتناب کے جاری رجحانات (جہاں ناقدین کے مطابق ان خامیوں کو دور کرنے پر اٹھنے والے اخراجات حاصل شدہ ریونیو سے زیادہ ہوتے ہیں) کے باعث ایندھن پر ٹیکس حکومت کے لیے ایک آسان ہدف بن جاتا ہے، جس کی وصولی آسان اور چوری تقریباً ناممکن ہوتی ہے۔ یہی عنصر موجودہ اور سابقہ حکومتوں کو اس جانب مائل کرتا رہا ہے۔
آئی ایم ایف کے مطابق غیر واضح لاگتیں اس وقت پیدا ہوتی ہیں ”جب ریٹیل قیمت میں بیرونی لاگتیں شامل نہ ہوں، بشمول عمومی کھپت ٹیکس کے“۔
بیرونی لاگتوں میں گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کے ذریعے موسمیاتی تبدیلی میں حصہ، مقامی سطح پر صحت کے نقصانات (خصوصاً قبل از وقت اموات) جو باریک ذرات جیسے مضر آلودگی پھیلانے والے عناصر سے پیدا ہوتے ہیں، نیز ٹریفک کے رش اور حادثات جیسے عوامل شامل ہیں جو سڑکوں پر ایندھن کے استعمال سے وابستہ ہیں۔
توانائی کی درست قیمتوں کا تعین ان سماجی نقصانات کو قیمتوں میں شامل کرنے اور ایندھن کے گھریلو استعمال پر عمومی کھپت ٹیکس عائد کرنے کا تقاضا کرتا ہے۔ 2024 تک دنیا بھر میں 70 سے زائد کاربن پرائسنگ اقدامات، جن میں ٹیکس اور اخراجی نظام ( ای ٹی ایس) شامل ہیں، نافذ کیے جا چکے ہیں، جو مجموعی گرین ہاؤس گیسوں کے تقریباً 25 فیصد اخراج کا احاطہ کرتے ہیں۔
بھارت میں کوئی واحد واضح کاربن ٹیکس موجود نہیں، تاہم کوئلہ اور پیٹرولیم جیسی اشیاء پر بلند ایکسائز ڈیوٹیز کے ذریعے ایک پیچیدہ نظام رائج ہے جو بالواسطہ طور پر کاربن پرائسنگ کا کردار ادا کرتا ہے، جبکہ حکومت 2026 کے وسط تک کاربن کریڈٹ ٹریڈنگ اسکیم ( سی سی ٹی ایس) متعارف کرانے پر کام کر رہی ہے تاکہ مختلف شعبوں میں اخراج میں کمی کے لیے باقاعدہ نظام قائم کیا جا سکے۔
پاکستان مسلسل ان دس ممالک میں شامل رہا ہے جو موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے سب سے زیادہ متاثرہ سمجھے جاتے ہیں، جہاں سیلاب، ہیٹ ویوز اور پانی کی قلت جیسے مسائل درپیش ہیں، حالانکہ عالمی گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں اس کا حصہ ایک فیصد سے بھی کم ہے۔
صرف 2025 کے سیلاب ہی جانی نقصان، فصلوں اور انفراسٹرکچر کی تباہی کا باعث بنے اور مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) پر منفی اثرات مرتب ہوئے۔ اندازے تشویشناک ہیں کہ 2050 تک جی ڈی پی میں 20 فیصد تک کمی واقع ہو سکتی ہے۔
اس تناظر میں یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ رواں مالی سال کے بجٹ میں توانائی کے شعبے میں 529 ارب روپے کے ای ٹی ایس (اخراجی نظام) کو بطور تدارکی اقدامات شامل کیا گیا ہے (اگرچہ اس کی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں)، صنعتوں کے لیے 9 ارب روپے اور ٹرانسپورٹ کے شعبے میں 7.3 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں (جنہیں براہِ راست مثبت قرار دیا گیا ہے مگر تفصیل موجود نہیں)۔ بالواسطہ طور پر مثبت اقدامات کے تحت خوراک کے لیے 20 ارب روپے اور زراعت (جو صوبائی دائرہ اختیار ہے) کے لیے 22 ارب روپے رکھے گئے ہیں، تاہم ان بڑی رقوم کے ذرائع بھی بجٹ دستاویزات میں واضح نہیں کیے گئے۔
کاربن لیوی، جو گزشتہ سال آئی ایم ایف کے 1.4 ارب ڈالر کے ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسلٹی پروگرام کی شرط تھی، کے باعث پیٹرول کی خوردہ قیمت میں 2.5 روپے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے، جسے آئندہ سال بڑھا کر 5 روپے فی لیٹر کرنے کا عندیہ ہے، جس کے بعد کل ٹیکسز پمپ قیمت کا 37 فیصد ہو جائیں گے۔
خلاصہ یہ کہ، حکومت کے لیے ضروری ہے کہ وہ اب تک دی گئی ایندھن سبسڈیز کی مجموعی مالیت، 3 اپریل کے بعد متوقع سبسڈی کا تخمینہ، اور وہ اقدامات واضح کرے جن کے ذریعے یہ یقینی بنایا جا سکے کہ سبسڈی واقعی مستحق طبقات تک پہنچے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026