پاکستان

حکومت کا جنگ زدہ خلیجی ممالک کیلئے غذائی برآمدات بڑھانے کا فیصلہ

  • عالمی سپلائی چین میں رکاوٹوں کے تناظر میں پاکستان کو علاقائی غذائی تحفظ میں اپنا اسٹریٹجک کردار ادا کرنا ہوگا، وزیراعظم
شائع March 26, 2026 اپ ڈیٹ March 26, 2026 09:18am

وزیراعظم شہباز شریف نے بدھ کے روز حکام کو ہدایت دی ہے کہ خلیجی ممالک کے ساتھ رابطوں کو مزید مضبوط بنایا جائے تاکہ ضروری غذائی اشیاء کی مسلسل فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ عالمی سپلائی چین میں رکاوٹوں کے تناظر میں پاکستان کو علاقائی غذائی تحفظ میں اپنا اسٹریٹجک کردار ادا کرنا ہوگا۔

اہم غذائی اجناس کی خلیجی ممالک کو برآمدات اور ملکی بحری امور سے متعلق اعلیٰ سطح اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کو اپنی زرعی پیداوار سے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے خلیجی ریاستوں کی ضروریات پوری کرنی چاہئیں، تاہم اس عمل میں ملک کے اندر غذائی ضروریات متاثر نہیں ہونی چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے شہریوں کو ضروری اشیا کی دستیابی یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ خلیجی ممالک کی غذائی ضروریات بھی پوری کرے۔

وزیراعظم نے حکام کو ہدایت کی کہ برآمدی عمل کو تیز کیا جائے، حکومتی اداروں کے درمیان فیصلہ سازی کو مؤثر بنایا جائے اور کسی بھی تاخیر پر سخت جوابدہی یقینی بنائی جائے۔ انہوں نے کراچی، گوادر اور دیگر بڑے بین الاقوامی ہوائی اڈوں پر پروازوں میں اضافے کے لیے جامع منصوبہ تیار کرنے کی بھی ہدایت دی تاکہ خوراک کی برآمدات کے لیے متبادل ذرائع کو فروغ دیا جا سکے۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ برآمدات کے فروغ کے لیے قائم خصوصی کمیٹی 40 غذائی اشیا کی بیرون ملک ترسیل کی منظوری دے چکی ہے، جن میں چاول، کوکنگ آئل، چینی، گوشت، پولٹری، خشک دودھ، ڈیری مصنوعات، پھل اور سبزیاں شامل ہیں۔ حکام نے بتایا کہ خلیجی ممالک کے ساتھ کام کرنے والے برآمد کنندگان کا ڈیٹا بیس بھی تیار کر لیا گیا ہے اور خراب ہونے والی اشیا جیسے پھل، سبزیاں اور گوشت کی برآمد پر کوئی اضافی چارجز عائد نہیں کیے جائیں گے۔

وزیراعظم نے پیش کی گئی حکمت عملیوں پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ اداروں کی کارکردگی کو سراہا اور کہا کہ اب تک ہونے والی پیش رفت قابل تعریف ہے، تاہم مقامی طلب اور بیرونی منڈیوں کی ضروریات کی مسلسل نگرانی ضروری ہے۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ برآمدات بڑھانے کے لیے فضائی اور سمندری دونوں راستوں کو استعمال کیا جائے گا، جبکہ خلیجی شراکت داروں کے ساتھ بزنس ٹو بزنس ملاقاتیں اور ویبینارز بھی جاری ہیں۔ عیدالفطر کی تعطیلات کے دوران کراچی اور بن قاسم بندرگاہیں مکمل طور پر فعال رہیں۔

ٹرانس شپمنٹ کی صلاحیت بڑھانے کے لیے آف ڈاک ٹرمینلز کو بھی ترسیلات سنبھالنے کی اجازت دی گئی ہے اور کسٹمز قوانین میں اس حوالے سے ترمیم کی گئی ہے۔ بندرگاہوں پر ٹرانسپورٹ کے نرخوں میں 60 فیصد تک کمی کی گئی ہے اور برآمدات کے لیے خصوصی سہولت ڈیسک بھی قائم کیے گئے ہیں۔

حکام نے مزید بتایا کہ حکومت خام تیل لانے والے ٹینکروں کو ترجیحی بنیادوں پر برتھنگ فراہم کر رہی ہے، جو خطے میں لاجسٹک دباؤ کے پیش نظر بحری نظام کو مؤثر بنانے کی وسیع حکمت عملی کا حصہ ہے۔

اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیر دفاع خواجہ آصف، وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال، وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وزیر قومی غذائی تحفظ رانا تنویر حسین، وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ، وزیر بحری امور چوہدری جنید انور، وزیراعظم کے معاون خصوصی ہارون اختر اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026