ایران کا امریکا کے ساتھ مذاکرات کا کوئی منصوبہ نہیں، وزیر خارجہ
- امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا پیغام اعلیٰ سطح کے اجلاسوں میں زیرِ غور آیا، عباس عراقچی
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ہفتے کے روز کہا ہے کہ امریکا کے ساتھ مذاکرات کے لیے فی الحال کوئی منصوبہ نہیں، جبکہ دونوں ملکوں کے درمیان جنگ دوبارہ شروع ہونے کے خدشات بڑھ رہے ہیں۔
ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا کے مطابق، عباس عراقچی نے الجزیرہ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ امریکی حکام کے ساتھ ملاقاتوں کا فی الحال کوئی منصوبہ نہیں اور اس حوالے سے گردش کرنے والی قیاس آرائیاں محض میڈیا کی اپنی سوچ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں ایران امریکا کے ساتھ ملاقات کی ضرورت محسوس نہیں کرتا، ایران کی شرائط واضح ہیں اور ثالث ممالک ان پر مشاورت جاری رکھے ہوئے ہیں۔
عباس عراقچی نے تصدیق کی کہ ایران کو امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا ایک خط موصول ہوا ہے، جس کے بعد خطے میں دوبارہ تشدد شروع ہونے کے خدشات دور کرنے کے لیے کئی روز سے سفارتی کوششیں جاری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا پیغام اعلیٰ سطح کے اجلاسوں میں بغور پڑھا اور اس پر تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔
عباس عراقچی نے کہا، ’’اگر واشنگٹن کا اس پیغام کے ذریعے اختلافات پیدا کرنے کا مقصد ہے تو یہ امریکا کی سابقہ غلطیوں میں ایک اور غلطی کا اضافہ ہوگا۔‘‘
تاہم انہوں نے مزید کہا کہ امریکی فریق کی جانب سے بات چیت کا آغاز کرنے اور وسیع تر مفاہمت تک پہنچنے کی کوشش کو ایک مثبت قدم سمجھا جاتا ہے۔























Comments