BR100 Increased By (0.69%)
BR30 Increased By (0.63%)
KSE100 Increased By (0.67%)
KSE30 Increased By (0.68%)
BAFL 56.00 Increased By ▲ 0.29 (0.52%)
BIPL 23.60 Increased By ▲ 0.08 (0.34%)
BOP 27.36 Increased By ▲ 0.14 (0.51%)
CNERGY 12.36 Increased By ▲ 0.06 (0.49%)
DFML 16.10 Increased By ▲ 0.04 (0.25%)
DGKC 184.25 Increased By ▲ 2.81 (1.55%)
FABL 90.26 Increased By ▲ 0.52 (0.58%)
FCCL 52.15 Increased By ▲ 0.54 (1.05%)
FFL 13.10 Increased By ▲ 0.02 (0.15%)
GGL 19.01 Decreased By ▼ -0.04 (-0.21%)
HBL 283.83 Increased By ▲ 1.71 (0.61%)
HUBC 189.10 Increased By ▲ 0.79 (0.42%)
HUMNL 8.20 Increased By ▲ 0.14 (1.74%)
KEL 5.74 Increased By ▲ 0.09 (1.59%)
LOTCHEM 22.85 Increased By ▲ 0.34 (1.51%)
MLCF 90.55 Increased By ▲ 1.72 (1.94%)
OGDC 302.29 Increased By ▲ 1.37 (0.46%)
PAEL 32.75 Increased By ▲ 0.35 (1.08%)
PIBTL 13.01 Increased By ▲ 0.12 (0.93%)
PIOC 232.00 Increased By ▲ 4.72 (2.08%)
PPL 214.12 Increased By ▲ 1.76 (0.83%)
PRL 96.90 Increased By ▲ 1.19 (1.24%)
SNGP 90.11 Increased By ▲ 0.38 (0.42%)
SSGC 22.63 Increased By ▲ 0.10 (0.44%)
TELE 6.69 Increased By ▲ 0.14 (2.14%)
TPLP 11.56 Increased By ▲ 0.05 (0.43%)
TRG 53.70 Increased By ▲ 0.02 (0.04%)
UNITY 7.70 No Change ▼ 0.00 (0%)
WTL 0.91 Increased By ▲ 0.03 (3.41%)
بی آر ریسرچ

مانیٹری پالیسی، ایک مہنگا سمجھوتا

  • معیشت کو بحران سے نکالنے والا ادارہ اسی سیاسی معیشت کے ہاتھوں یرغمال بننے کے خطرے سے دوچار ہے جس نے ان مسائل کو جنم دیا ہے
شائع اپ ڈیٹ

پاکستان کے مرکزی بینک نے بیرونی استحکام کو اپنی مانیٹری پالیسی کا بنیادی اصول بنا لیا ہے۔ لیکن ایسے وقت میں جب حقیقی معنوں میں پاکستانی روپے کی قدر بڑھ رہی ہے، زرمبادلہ کے ذخائر بمشکل تین ماہ کی درآمدات کے لیے کافی ہیں اور توانائی کا ایک اور بحران جنم لے رہا ہے، تو معیشت کو بحران سے نکالنے والا ادارہ اسی سیاسی معیشت کے ہاتھوں یرغمال بننے کے خطرے سے دوچار ہے جس نے ان مسائل کو جنم دیا ہے۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) نے پالیسی ریٹ میں مزید 50 بیسس پوائنٹس کا اضافہ کرتے ہوئے اسے 12 فیصد کر دیا ہے۔ مہنگائی توقعات سے زیادہ ہے، مشرق وسطیٰ کی جنگ ختم ہوتی دکھائی نہیں دے رہی اور دنیا کے بڑے مرکزی بینک بھی شرح سود بڑھا رہے ہیں۔ اس کے باوجود پاکستان کا بیرونی کھاتہ مجموعی طور پر مستحکم ہے، زرمبادلہ کے ذخائر 21.5 ارب ڈالر تک پہنچ چکے ہیں اور روپیہ بھی اپنی قدر برقرار رکھے ہوئے ہے۔ ایسے مرکزی بینک کے لیے، جس نے بیرونی استحکام کو اپنی مانیٹری پالیسی کا بنیادی اصول بنا لیا ہے، یہ صورت حال خوشی کا باعث ہو سکتی ہے۔ لیکن کیا واقعی ایسا ہی ہے؟

عام طور پر مرکزی بینک قیمتوں کے استحکام، روزگار، پیداوار اور مالیاتی استحکام پر توجہ دیتے ہیں۔ مختلف ممالک میں ان کے اختیارات اور ذمہ داریوں کے تعین کے مطابق ان مقاصد کو مختلف اہمیت دی جاتی ہے۔

تاہم پاکستان میں ادائیگیوں کے توازن کو تقریباً غیر معمولی اہمیت حاصل ہو چکی ہے۔ اور اس کی وجوہات بھی قابل فہم ہیں۔ ماضی قریب کے تقریباً ہر بڑے معاشی بحران کا اختتام بیرونی مالی وسائل کی شدید قلت، زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی، کرنسی کی قدر میں گراوٹ اور بالآخر عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے رجوع کرنے پر ہوا ہے۔ یہاں تک کہ مہنگائی بھی اکثر صرف ملکی طلب کے دباؤ کے بجائے شرح مبادلہ میں تبدیلیوں کے باعث بڑھتی رہی ہے۔

اس لیے پاکستان کی سب سے بڑی معاشی رکاوٹ کے طور پر بیرونی استحکام کو ترجیح دینے کے حق میں ٹھوس دلائل موجود ہیں۔ لیکن اگر واقعی یہی بنیادی اصول ہے تو مرکزی بینک کا موجودہ طرزِ عمل کئی غیر آرام دہ سوالات کو جنم دیتا ہے۔ سب سے پہلے یہ کہ بیرونی استحکام سے مراد آخر کیا ہے؟ کیا درآمدات کے صرف تین ماہ کے مساوی زرمبادلہ کے ذخائر؟ مجموعی ملکی پیداوار (جی ڈی پی) کے ایک فیصد سے کم کرنٹ اکائوںٹ کا خسارہ؟ یا پھر ایسا روپیہ جس کی قدر گزشتہ تین سال سے ڈالر کے مقابلے میں بمشکل تبدیل ہوئی ہو؟

زرمبادلہ کے ذخائر پر غور کریں۔ 21.5 ارب ڈالر کے ذخائر کے ساتھ اسٹیٹ بینک کے پاس موجود رقم اب تقریباً تین ماہ کی درآمدات کے لیے کافی ہے۔ مرکزی بینک نے بجا طور پر اس پیش رفت کو ایک اہم سنگ میل قرار دیا ہے۔

2022-23 کے معاشی بحران کی بدترین صورت حال کے مقابلے میں یہ نمایاں بہتری ہے۔ لیکن تین ماہ کے ذخائر ایسی معیشت کے لیے کوئی خاص اطمینان بخش حفاظتی حصار نہیں، جسے بارہا ہنگامی مالی وسائل کے حصول کے لیے بھاگ دوڑ کرنا پڑی ہو۔ اگر بیرونی کمزوری پاکستان کے بار بار پیدا ہونے والے معاشی بحرانوں کی بنیادی وجہ ہے تو کامیابی کا معیار ذخائر کی وہ کم از کم سطح کیوں ہونا چاہیے جسے روایتی طور پر کافی سمجھا جاتا ہے؟

بیرونی مالی وسائل میں اتار چڑھاؤ کی طویل تاریخ رکھنے والی پاکستان جیسی معیشت کے لیے چھ ماہ کی درآمدات کے مساوی زرمبادلہ کے ذخائر زیادہ قابل اعتبار ہدف ہوں گے۔ تاہم، تین ماہ کے ذخائر کو معاشی استحکام کی جانب سفر میں ایک سنگ میل سمجھنا چاہیے، نہ کہ آخری منزل۔ خصوصاً اس وقت جب بیرونی مالی معاونت کا ایک قابل ذکر حصہ اب بھی سرکاری قرض دہندگان اور قرضوں کی مدت میں توسیع یا دوبارہ ادائیگی کے انتظامات پر منحصر ہے۔

تاہم اس سے بھی بنیادی تضاد کہیں اور موجود ہے۔ اگر مرکزی بینک بیرونی استحکام کو اپنی سب سے بڑی ترجیح قرار دیتا ہے تو پھر وہ شرح مبادلہ کو اس کا سب سے اہم کام انجام دینے کی اجازت دینے میں اتنا ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کیوں کرتا ہے؟

روپیہ 2023 کے اواخر سے ڈالر کے مقابلے میں تقریباً 280 روپے کی سطح کے قریب غیر معمولی طور پر مستحکم رہا ہے۔ درحقیقت، حالیہ مہینوں میں اس کی قدر میں معمولی اضافہ بھی ہوا ہے۔ ایسی کرنسی کے لیے یہ غیر معمولی صورت حال ہے جس کی قدر تاریخی طور پر وقت کے ساتھ نمایاں طور پر گرتی رہی ہے، خصوصاً اس لیے کہ پاکستان میں مہنگائی مسلسل اس کے بڑے تجارتی شراکت داروں کے مقابلے میں زیادہ رہی ہے۔ اسی دوران پاکستان کا حقیقی مؤثر شرح مبادلہ (ریئر) بڑھ کر تقریباً 109 تک پہنچ گیا ہے، جو آٹھ سال کی بلند ترین سطح ہے۔

اسٹیٹ بینک کا یہ مؤقف درست ہے کہ صرف 109 کا اشاریہ اس بات کا ثبوت نہیں کہ روپیہ اپنی حقیقی قدر سے زیادہ مہنگا ہو چکا ہے۔ تاہم، اس کا رجحان نظر انداز کرنا مشکل ہے۔ جب شرح مبادلہ کی برائے نام قدر مستحکم رہے اور ملک میں مہنگائی دوسرے ممالک کے مقابلے میں زیادہ ہو تو حقیقی معنوں میں روپے کی قدر بڑھنے لگتی ہے۔ اس سے درآمدات نسبتاً سستی اور پُرکشش ہو جاتی ہیں، جبکہ مقامی پیداوار اور برآمدات کی قیمتوں کے حوالے سے مسابقتی صلاحیت پر اضافی دباؤ پڑتا ہے۔ ایسی معیشت کے لیے، جو بظاہر بیرونی پائیداری کے بارے میں حد سے زیادہ فکر مند ہے، اس صورت حال کو برداشت کرنا ایک عجیب تضاد ہے۔

یہ بات اس لیے بھی قابل توجہ ہے کہ شرح مبادلہ سے متعلق اسٹیٹ بینک کا اپنا اعلان کردہ پالیسی فریم ورک کرنسی میں لچک کو بیرونی جھٹکوں کے خلاف دفاع کی پہلی دیوار قرار دیتا ہے۔

شرح مبادلہ سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ بیرونی حالات میں تبدیلیوں کا بوجھ خود برداشت کرے، تاکہ زرمبادلہ کے ذخائر اور مانیٹری پالیسی اپنے اپنے فرائض انجام دے سکیں۔ لیکن ایسا لگتا ہے کہ شرح مبادلہ ہی وہ واحد معاشی اشاریہ بن گیا ہے جس میں پالیسی ساز تبدیلی کی اجازت دینے سے سب سے زیادہ گریزاں ہیں۔

واضح رہے کہ روپے کی نسبتاً مستحکم قدر کو محض اسٹیٹ بینک کی جانب سے زرمبادلہ کے ذخائر فروخت کرکے مصنوعی سطح برقرار رکھنے کا نتیجہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔ مرکزی بینک مارکیٹ سے غیر ملکی کرنسی خریدتا رہا ہے اور زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ بھی کر رہا ہے۔ یہ ایک اہم فرق ہے۔ تاہم، اس سے یہ سوال حل نہیں ہوتا کہ آیا اس عمل کے نتیجے میں قائم ہونے والی شرح مبادلہ درمیانی مدت میں بیرونی مسابقت برقرار رکھنے کے تقاضوں سے مطابقت رکھتی ہے یا نہیں، اور آیا وسیع تر معاشی پالیسی کا ڈھانچہ روپے کی برائے نام قدر کو مستحکم رکھنے کے لیے ضرورت سے زیادہ گنجائش فراہم کرنے لگا ہے۔

اس صورت حال میں مانیٹری پالیسی کا معاملہ بھی سامنے آتا ہے۔ معاشیات کا معروف اصول، جسے ناممکن تثلیث کہا جاتا ہے، یہ بتاتا ہے کہ کوئی معیشت بیک وقت مقررہ شرح مبادلہ، سرمائے کی آزادانہ نقل و حرکت اور خودمختار مانیٹری پالیسی برقرار نہیں رکھ سکتی۔ اگر سیاسی طور پر یہ توقع کی جائے کہ شرح مبادلہ مستحکم رہے گی تو مانیٹری پالیسی، ملکی طلب، بیرونی مالی وسائل اور زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافے کے اقدامات کو مجموعی طور پر اسی ترجیح کے مطابق ڈھالنا پڑتا ہے۔

پاکستان کی پالیسی کا توازن بھی اب تیزی سے اسی صورت حال کے قریب دکھائی دیتا ہے۔ مہنگائی اور بیرونی دباؤ کو قابو میں رکھنے کے لیے شرح سود میں ردوبدل کیا جاتا ہے، سرکاری مالی معاونت سے اضافی گنجائش حاصل کی جاتی ہے اور کرنسی کی قدر غیر معمولی طور پر مستحکم رہتی ہے۔

اس عمل میں شرح مبادلہ کا بطور اصلاحی طریقہ کار کردار اس کی سیاسی اہمیت کے تابع ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

ستم ظریفی یہ ہے کہ یہی حکمت عملی اس بیرونی استحکام کو کمزور کر سکتی ہے جسے برقرار رکھنے کے لیے اسے اختیار کیا گیا ہے۔ حقیقی شرح مبادلہ میں اضافے سے مسابقتی صلاحیت کمزور ہو سکتی ہے اور درآمدات کی حوصلہ افزائی ہو سکتی ہے، جس کے نتیجے میں طلب کو محدود کرنے کے لیے مانیٹری پالیسی پر دباؤ بڑھ جاتا ہے۔ دوسری جانب، برائے نام شرح مبادلہ میں طویل عرصے تک تبدیلی نہ ہونے سے اس کے آئندہ بھی مستحکم رہنے کی توقعات پیدا ہوتی ہیں۔

کاروباری ادارے، گھرانے اور حکومت موجودہ شرح مبادلہ کو مارکیٹ کے حالات کا نتیجہ سمجھنے کے بجائے ایک معاشی حق کے طور پر دیکھنے لگتے ہیں۔ یہ توقع جتنی طویل عرصے تک برقرار رہتی ہے، بعد میں شرح مبادلہ میں تبدیلی کرنا اتنا ہی زیادہ سیاسی طور پر مہنگا ہو جاتا ہے۔

اسٹیٹ بینک کے تازہ مانیٹری پالیسی بیان سے بہت کم اشارے ملتے ہیں کہ اس تضاد کا سامنا کیا جا رہا ہے۔ نجی شعبے کو قرضوں کی فراہمی میں 14.1 فیصد اضافہ ہو رہا ہے، جس میں صارفین کو فراہم کی جانے والی مالی سہولتیں بھی شامل ہیں۔

توانائی کے علاوہ دیگر اشیا کی درآمدات میں تیزی سے بحالی آ رہی ہے۔ عمومی مہنگائی 10.3 فیصد تک پہنچ چکی ہے، جبکہ بنیادی مہنگائی بھی 8.4 فیصد کی بلند سطح پر برقرار ہے۔ اس کے باوجود مرکزی بینک اب بھی معاشی نمو کو اپنی سابقہ پیش گوئی کی حد میں اور کرنٹ اکائونٹ کے خسارے کو قابلِ انتظام سمجھتا ہے۔ پالیسی ریٹ بڑھا دیا گیا ہے، لیکن مجموعی پالیسی کا ڈھانچہ اب بھی ایسا دکھائی دیتا ہے جس کا مقصد شرح مبادلہ میں کسی بامعنی تبدیلی کے بغیر معاشی بحالی کو برقرار رکھنا ہے۔

اس معاملے کا ایک سیاسی اور معاشی پہلو بھی ہے۔ حکومتوں کے لیے شرح مبادلہ کا استحکام معاشی کارکردگی کی سب سے نمایاں علامتوں میں سے ایک ہوتا ہے۔ کرنسی کی قدر میں کمی عوام میں غیر مقبول ہوتی ہے، اس کے نتیجے میں فوری طور پر مہنگائی بڑھتی ہے اور اسے معاشی بدانتظامی کے ثبوت کے طور پر پیش کرنا بھی آسان ہوتا ہے۔

اس کے برعکس، شرح سود میں ردوبدل عام ووٹر کے لیے اتنا نمایاں نہیں ہوتا۔ چنانچہ سیاسی طور پر یہ واضح ترجیح سامنے آتی ہے کہ دیگر ذرائع استعمال کرکے معاشی نتائج کو سنبھالا جائے، جبکہ کرنسی کی قدر کو مستحکم رکھا جائے۔

جیسے جیسے سیاسی دور اپنے آخری مرحلے میں داخل ہو رہا ہے، اس ترجیح کے کمزور پڑنے کا امکان نہیں۔ معاشی نمو برقرار رکھنے، عوام کی قوتِ خرید کا تحفظ کرنے اور سیاسی طور پر مہنگے ثابت ہونے والے اقدامات سے بچنے کا دباؤ مزید بڑھنے کا امکان ہے۔

خطرہ یہ نہیں کہ ایک اور بیرونی بحران لازماً پیدا ہوگا۔ اصل خطرہ یہ ہے کہ اصلاحی اقدامات کو بار بار مؤخر کرنے والا پالیسی فریم ورک بظاہر تسلی بخش معاشی اشاریوں کے پیچھے کمزوریوں کو جمع ہونے کا موقع دے سکتا ہے۔ پاکستان اس نوعیت کی معاشی صورت حال کا پہلے بھی سامنا کر چکا ہے۔ اس کا انجام شاذونادر ہی اچھا ہوتا ہے۔

موجودہ صورت حال کو خاص طور پر تشویش ناک بنانے والی بات مرکزی بینک کی قیادت ہے۔ موجودہ قیادت نے ایسے وقت میں ذمہ داریاں سنبھالی تھیں جب پاکستان اپنی تاریخ کے بدترین بیرونی معاشی بحرانوں میں سے ایک کی طرف بڑھ رہا تھا۔ اس کے بعد ان کے دور میں مجموعی معاشی استحکام بحال ہوا، مہنگائی میں نمایاں کمی آئی اور زرمبادلہ کے ذخائر دوبارہ بڑھائے گئے۔ کئی حوالوں سے پاکستان کو عین اس وقت اپنا پال وولکر مل گیا جب اسے اس کی سب سے زیادہ ضرورت تھی۔

تاہم، پانچ سالہ مدت کا آخری سال ایک مختلف امتحان پیش کرتا ہے۔ جب بحران پہلے ہی سامنے آ چکا ہو اور تمام متبادل ختم ہو چکے ہوں تو مشکل فیصلے کرنا ایک بات ہے۔ لیکن جب زرمبادلہ کے ذخائر بڑھ رہے ہوں، معاشی نمو بحال ہو رہی ہو، سیاسی قیادت تسلسل کی خواہش رکھتی ہو اور اگلا بحران فوری پیش گوئی کی مدت سے باہر دکھائی دیتا ہو، تو ایسے فیصلے کرنا بالکل مختلف معاملہ ہے۔

شاید یہی وہ فاؤسٹین سودا ہے، یعنی ایسا سمجھوتا جس میں فوری فائدے کے بدلے مستقبل کی قیمت ادا کرنے کا خطرہ ہو۔ جس مرکزی بینک نے پاکستان کو بیرونی معاشی تباہی سے نکالنے میں مدد دی، وہ اب ایسی سیاسی و معاشی صورت حال کے ساتھ سمجھوتا کرتا دکھائی دیتا ہے جس میں روپے کی برائے نام قدر کا استحکام مجموعی معاشی کامیابی کے مترادف بن چکا ہے۔ بڑی محنت سے حاصل کی گئی معاشی بحالی کو برقرار رکھنے کی خواہش قابلِ فہم ہے۔ لیکن اس کی قیمت وہی لچک ہو سکتی ہے جو اس بحالی کو پائیدار بنانے کے لیے ضروری ہے۔

پاکستان کے پال وولکر کو شاید معیشت کو تباہی کے دہانے سے واپس لانے کے لیے یاد رکھا جائے۔ تاہم، انہیں ان حالات کو ختم کرنے میں مدد دینے کے حوالے سے بھی یاد رکھا جائے گا یا نہیں جو بار بار پاکستان کو اسی مقام تک پہنچاتے ہیں، اس کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ سات ہفتے بعد ہونے والے اگلے پالیسی کمیٹی کے اجلاس سے پہلے شرح مبادلہ کے معاملے میں کیا پیش رفت ہوتی ہے۔

Comments

200 حروف