سعودی اتحاد نے حوثی میزائل اور ڈرون حملے ناکام بنادئیے
- باب المندب خلیجی ممالک سے تیل کی عالمی ترسیل کے لیے ایک اہم سمندری راستہ ہے، جو آبنائے ہرمز سے الگ واقع ہے
یمن میں سعودی قیادت میں قائم اتحاد نے منگل کو کہا کہ اس نے سعودی عرب کے دو علاقوں کی جانب حوثی باغیوں کی جانب سے داغے گئے بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کو روک کر تباہ کردیا ہے، جس کے بعد سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان تنازع مزید شدت اختیار کرگیا ہے۔
اتحاد کے مطابق حوثیوں نے سعودی عرب کے مشرقی علاقے کی جانب تین بیلسٹک میزائل جبکہ جنوبی علاقے کی جانب چار ڈرونز داغے۔ سعودی شہری دفاع نے مشرقی علاقے اور الخرج گورنری میں ممکنہ خطرے کے پیش نظر شہریوں کو پیشگی انتباہ جاری کیا، تاہم بعد ازاں دونوں علاقوں میں خطرہ ٹل جانے کا اعلان کردیا۔
سعودی عرب نے گزشتہ ماہ بحیرہ احمر کے یمنی ساحل پر حوثیوں کے اہم علاقوں پر قبضے اور باب المندب آبنائے کی جانب پیش قدمی کے بعد ان کے خلاف حملوں میں اضافہ کردیا ہے۔
باب المندب خلیجی ممالک سے تیل کی عالمی ترسیل کے لیے ایک اہم سمندری راستہ ہے، جو آبنائے ہرمز سے الگ واقع ہے۔
دونوں فریقوں کے درمیان تازہ لڑائی نے اقوام متحدہ کی ثالثی میں 2022 میں طے پانے والی جنگ بندی کو ختم کردیا ہے۔ اس معاہدے کے نتیجے میں سعودی قیادت میں قائم اتحاد اور حوثیوں کے درمیان حملوں میں بڑی حد تک کمی آگئی تھی۔
سعودی قیادت میں اتحاد یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی حمایت کرتا ہے، جبکہ حوثیوں کا دارالحکومت صنعاء پر کنٹرول ہے۔
تازہ کشیدگی نے امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جاری جنگ میں ایک اور محاذ بھی کھول دیا ہے۔

















Comments