ایران جنگ کے خاتمے کی امید، عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی
- برینٹ خام تیل کے سودے 66 سینٹ یا 0.57 فیصد کمی کے بعد 115.15 ڈالر فی بیرل پر آگئے
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں منگل کو کمی ریکارڈ کی گئی، کیونکہ امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کے خاتمے کے امکانات نے رسد میں ممکنہ تعطل کے خدشات کم کردیے۔ تاہم سعودی عرب پر حملوں کے باعث خطے میں فوری امن کی امیدیں کمزور ہونے سے برینٹ خام تیل کی قیمت چھ ماہ کی بلند ترین سطح کے قریب برقرار رہی۔
عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق، منگل کو گرینچ معیاری وقت کے مطابق رات 12 بجے تک برینٹ خام تیل کے سودے 66 سینٹ یا 0.57 فیصد کمی کے بعد 115.15 ڈالر فی بیرل پر آگئے، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل کی قیمت 44 سینٹ یا 0.43 فیصد گر کر 101.32 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔
سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے حکام نے پیر کو تہران میں ایرانی حکام سے مذاکرات کیے، جن کا مقصد مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنا تھا۔ سعودی عرب کے مطابق، اس دورے کا مقصد مذاکرات کے لیے رابطے کھولنا اور فوجی کشیدگی کی دوبارہ شدت کو روکنا تھا۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق، چاروں ممالک نے امن و سلامتی کے شعبوں میں تعاون مضبوط بنانے کے لیے مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔ تنازع کے حل کی امیدوں سے تیل کی رسد متاثر ہونے کے خدشات کم ہوئے، جس کے نتیجے میں قیمتوں پر دباؤ پڑا۔
تاہم، یمن کے حوثیوں کی جانب سے اہم تیل پیدا کرنے والے ملک سعودی عرب پر نئے حملوں کے باعث قیمتوں میں کمی محدود رہی۔
آبنائے ہرمز اور قریبی سمندری راستوں پر تجارتی جہازوں کے خلاف حملوں میں اکتوبر کے دوران نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ فروری میں جنگ شروع ہونے سے پہلے دنیا کی تقریباً 20 فیصد حصہ توانائی کی رسد اسی اہم گزرگاہ سے گزرتی تھی۔
گزشتہ ہفتے برینٹ خام تیل کی قیمت 117 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرگئی تھی، جو اپریل کے بعد بلند ترین سطح تھی۔ دوسری جانب، روسی ریفائنریوں نے اکتوبر میں ڈیزل کی پیداوار بڑھانا شروع کردی ہے، کیونکہ حکومت نے امریکا کے ساتھ رسد کے معاہدے کے بعد برآمدی کوٹے کی اجازت دے دی۔

















Comments