مارکو روبیو کی یوکرین کو انٹیلی جنس فراہمی روکنے کی تردید
- یوکرینی صدر سے پوچھا جانا چاہیے کہ وہ یہ دعویٰ کیوں کر رہے ہیں، امریکی وزیر خارجہ
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے پیر کو اس دعوے کی تردید کی ہے کہ امریکا نے یوکرین کے ساتھ انٹیلی جنس معلومات کا تبادلہ عارضی طور پر روک دیا تھا۔ ان کا بیان یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی کے مؤقف کے برعکس ہے، جنہوں نے کہا تھا کہ واشنگٹن نے مختصر وقت کے لیے معلومات کی فراہمی معطل کی تھی، تاہم بعد میں اسے بحال کر دیا گیا۔
زیلنسکی نے اتوار کو این بی سی کے پروگرام میٹ دی پریس میں کہا تھا کہ انٹیلی جنس معلومات کا تبادلہ متاثر ہوا، لیکن بعد میں رکاوٹ دور کر دی گئی اور اب یہ سلسلہ معمول کے مطابق جاری ہے۔
ازبکستان کے دورے کے دوران سمرقند میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے مارکو روبیو نے کہا کہ معلومات کا تبادلہ کبھی معطل نہیں ہوا۔ انہوں نے زیلنسکی کے بیان پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یوکرینی صدر سے پوچھا جانا چاہیے کہ وہ یہ دعویٰ کیوں کر رہے ہیں۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب دونوں ممالک کے درمیان اختلافات بڑھ رہے ہیں۔ یوکرین نے امریکی ساختہ اسٹار شیلڈ نظام تک رسائی میں پابندیوں پر بھی تشویش ظاہر کی ہے، تاہم امریکی حکام نے اس دعوے کو بھی مسترد کیا ہے۔
یوکرین روسی میزائل حملوں کا پتا لگانے کے لیے امریکی انٹیلی جنس پر انحصار کرتا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی کہہ چکے ہیں کہ واشنگٹن معلومات کا تبادلہ جاری رکھے ہوئے ہے، تاہم بعض روسی حملے پیشگی اطلاع کے بغیر ہونے پر سوالات اٹھے ہیں۔





















Comments