BR100 Decreased By (-0.37%)
BR30 Decreased By (-0.25%)
KSE100 Decreased By (-0.27%)
KSE30 Decreased By (-0.23%)
BAFL 55.74 Increased By ▲ 0.09 (0.16%)
BIPL 24.45 Increased By ▲ 0.04 (0.16%)
BOP 28.55 Decreased By ▼ -0.23 (-0.8%)
CNERGY 12.86 Increased By ▲ 0.01 (0.08%)
DFML 15.70 Decreased By ▼ -0.21 (-1.32%)
DGKC 179.48 Decreased By ▼ -2.52 (-1.38%)
FABL 91.29 Decreased By ▼ -0.20 (-0.22%)
FCCL 51.30 Decreased By ▼ -0.47 (-0.91%)
FFL 14.05 Increased By ▲ 0.02 (0.14%)
GGL 19.48 Decreased By ▼ -0.22 (-1.12%)
HBL 290.60 Increased By ▲ 0.18 (0.06%)
HUBC 192.50 Decreased By ▼ -0.93 (-0.48%)
HUMNL 9.17 Decreased By ▼ -0.12 (-1.29%)
KEL 6.00 Decreased By ▼ -0.09 (-1.48%)
LOTCHEM 24.90 Decreased By ▼ -0.51 (-2.01%)
MLCF 89.50 Decreased By ▼ -0.45 (-0.5%)
OGDC 299.87 Increased By ▲ 0.77 (0.26%)
PAEL 33.70 Decreased By ▼ -0.07 (-0.21%)
PIBTL 13.46 Decreased By ▼ -0.19 (-1.39%)
PIOC 230.00 Decreased By ▼ -1.93 (-0.83%)
PPL 218.51 Decreased By ▼ -0.36 (-0.16%)
PRL 107.99 Increased By ▲ 1.04 (0.97%)
SNGP 89.74 Decreased By ▼ -0.49 (-0.54%)
SSGC 22.84 Decreased By ▼ -0.07 (-0.31%)
TELE 7.05 Decreased By ▼ -0.06 (-0.84%)
TPLP 11.55 Decreased By ▼ -0.23 (-1.95%)
TRG 57.66 Increased By ▲ 1.29 (2.29%)
UNITY 8.13 Increased By ▲ 0.20 (2.52%)
WTL 0.96 No Change ▼ 0.00 (0%)
کاروبار اور معیشت

مالی سال 2026ء میں جی ڈی پی شرح نمو 3.65 فیصد، معیشت کا حجم 450 ارب ڈالر تک پہنچ گیا، این اے سی

  • یہ شرح نمو این اے سی کے گزشتہ اجلاس میں لگائے گئے 3.70 فیصد کے تخمینے سے کم ہے
شائع اپ ڈیٹ

ادارہ شماریات کی جانب سے جاری کردہ تخمینوں کے مطابق مالی سال 2026ء کے دوران پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) میں 3.65 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

یہ شرح نمو نیشنل اکاؤنٹس کمیٹی (این اے سی) کے گزشتہ اجلاس میں لگائے گئے 3.70 فیصد کے تخمینے سے کم ہے۔

این اے سی نے آج ہونے والے اپنے 118ویں اجلاس میں بتایا کہ زراعت، صنعت اور خدمات کے شعبوں کی نظرثانی شدہ شرح نمو بالترتیب 3.50 فیصد، 3.34 فیصد اور 3.81 فیصد رہی جبکہ اس سے قبل ان شعبوں کی شرح نمو بالترتیب 2.89 فیصد، 3.51 فیصد اور 4.09 فیصد تخمینہ کی گئی تھی۔

زرعی شعبے میں گندم اور مکئی کی بہتر پیداوار کے باعث اہم فصلوں کی شرح نمو 0.65 فیصد سے بڑھ کر 1.59 فیصد ہوگئی جبکہ دیگر فصلوں کی شرح نمو بھی دالوں کی پیداوار میں 6.3 فیصد، پھلوں میں 1.3 فیصد، ٹماٹر میں 44 فیصد، تیل دار بیجوں میں 5.4 فیصد اور سبز چارے میں 2.4 فیصد اضافے کے باعث 2.43 فیصد سے بڑھ کر 4.28 فیصد ہوگئی۔

دریں اثنا چارے کے استعمال میں اضافے کے باعث لائیو اسٹاک کے شعبے کی شرح نمو معمولی کمی کے بعد 3.75 فیصد سے 3.71 فیصد رہ گئی۔ اس کے علاوہ جنگلات اور ماہی گیری کے شعبوں کی نظرثانی شدہ شرح نمو بالترتیب 10.80 فیصد اور 1.39 فیصد رہی۔

این اے سی کے مطابق مالی سال 2026ء کے دوران صنعتی شعبے کی نظرثانی شدہ شرح نمو 3.34 فیصد رہی جبکہ اس سے قبل یہ شرح 3.51 فیصد تخمینہ کی گئی تھی۔

جاری کردہ اعلامیے کے مطابق گیس کی پیداوار میں 2.84 فیصد، خام تیل میں 5.12 فیصد اور کوئلے میں 2.73 فیصد اضافے کے باعث کان کنی اور کھدائی کے شعبے کی شرح نمو 0.38 فیصد سے بڑھ کر 1.52 فیصد ہوگئی۔ تاہم کوانٹم انڈیکس آف مینوفیکچرنگ (کیو آئی ایم) کے ذریعے ناپی جانے والی ایل ایس ایم کی شرح نمو 6.11 فیصد سے کم ہوکر 5.01 فیصد رہ گئی۔

دریں اثنا مالی سال 2026ء کے دوران خدمات کے شعبے کی شرح نمو 4.09 فیصد سے کم ہوکر 3.81 فیصد ہوگئی، تاہم اس شعبے کے تمام ذیلی شعبوں نے مثبت کردار ادا کیا۔

این اے سی کے مطابق مینوفیکچرنگ اور درآمدات میں کمی کے باعث تھوک اور پرچون تجارت کی شرح نمو 3.71 فیصد سے گھٹ کر 2.37 فیصد رہ گئی۔

ریلوے، آبی اور فضائی نقل و حمل کے شعبوں کے اعدادوشمار میں اضافے کے باعث نقل و حمل اور ذخیرہ کاری کی شرح نمو 2.31 فیصد سے بڑھ کر 3.23 فیصد ہوگئی۔

این اے سی نے مزید بتایا کہ انفارمیشن اینڈ کمیونیکیشن کے شعبے کی شرح نمو 7.52 فیصد سے بڑھ کر 9.53 فیصد ہوگئی جبکہ بیمہ کے شعبے میں بہتری کے باعث مالیات اور بیمہ کی شرح نمو بھی 0.32 فیصد سے بڑھ کر 4.23 فیصد ہوگئی۔

معیشت کا حجم

این اے سی کے مطابق مالی سال 2026ء کے قومی کھاتہ جات کے تازہ ترین اعداد و شمار کی بنیاد پر ملکی معیشت کا مجموعی حجم 126.4 ٹریلین روپے، یعنی 450.4 ارب ڈالر ہوگیا جبکہ گزشتہ مالی سال میں یہ حجم 114.9 ٹریلین روپے یعنی 408.7 ارب ڈالر تھا۔

این اے سی کے اعدادوشمار کے مطابق مالی سال 2026ء کے دوران فی کس آمدن 5 لاکھ 31 ہزار 897 روپے، یعنی ایک ہزار 896 ڈالر رہی۔

سہ ماہی اعدادوشمار

کمیٹی نے مالی سال 2026ء کی پہلی، دوسری اور تیسری سہ ماہی کے جی ڈی پی کی شرح نمو پر نظرثانی کی جبکہ چوتھی سہ ماہی کے لیے شرح نمو کا نیا تخمینہ منظور کیا۔

مجموعی جی ڈی پی کی شرح نمو میں پہلی سہ ماہی کے لیے معمولی کمی کرتے ہوئے اسے 3.92 فیصد سے 3.89 فیصد کردیا گیا جبکہ دوسری سہ ماہی کی شرح نمو 4.05 فیصد سے بڑھا کر 4.31 فیصد اور تیسری سہ ماہی کی 3.99 فیصد سے بڑھا کر 4.42 فیصد کردی گئی۔

کمیٹی کے مطابق ان تبدیلیوں کی بنیادی وجہ زراعت کے سالانہ تخمینوں میں اضافہ ہے جس کے نتیجے میں پہلی سہ ماہی میں شرح نمو 2.95 فیصد سے بڑھ کر 3.18 فیصد، دوسری سہ ماہی میں 2.64 فیصد سے بڑھ کر 3.34 فیصد اور تیسری سہ ماہی میں 3.01 فیصد سے بڑھ کر 3.79 فیصد ہوگئی۔

سالانہ تخمینوں پر نظرثانی اور تازہ اشاریوں کے باعث صنعتی شعبے کی شرح نمو میں بھی تینوں سہ ماہیوں کے دوران تبدیلیاں ہوئیں۔ پہلی سہ ماہی میں یہ شرح 7.80 فیصد سے معمولی کمی کے بعد 7.76 فیصد، دوسری سہ ماہی میں 6.68 فیصد سے کم ہوکر 6.62 فیصد جبکہ تیسری سہ ماہی میں 4.65 فیصد سے بڑھ کر 4.87 فیصد ہوگئی۔

این اے سی کے مطابق شعبہ خدمات کے شعبے کی شرح نمو پہلی سہ ماہی میں معمولی کمی کے بعد 3.16 فیصد سے 3.04 فیصد رہ گئی جبکہ دوسری سہ ماہی میں یہ شرح 3.83 فیصد سے بڑھ کر 4.0 فیصد اور تیسری سہ ماہی میں 4.18 فیصد سے بڑھ کر 4.54 فیصد ہوگئی۔

پاکستان کی جی ڈی پی میں مالی سال 2026ء کی چوتھی سہ ماہی کے دوران 2 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اس عرصے میں زراعت کے شعبے کی شرح نمو 3.71 فیصد رہی جبکہ صنعتی شعبے میں 4.70 فیصد کمی اور خدمات کے شعبے میں 3.62 فیصد اضافہ ہوا۔

Comments

200 حروف