فرانسیسی صدر میکرون نے وزیر داخلہ کی مستعفی ہونے کی پیشکش مسترد کردی
- مظاہروں کا آغاز بڑھتی ہوئی مہنگائی، عوامی خدمات کے معیار میں گراوٹ اور تعلیمی اداروں کی صورتِ حال پر عوامی غم وغصے کے باعث ہوا
فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے ہفتے کے آخر میں ملک بھر میں ہونے والے پرتشدد ہنگاموں کے بعد وزیر داخلہ لوراں نونیز کی مستعفی ہونے کی پیشکش مسترد کردی۔ صدارتی دفتر ایلیزے نے پیر کو اس فیصلے کی تصدیق کی۔
مظاہروں کا آغاز بڑھتی ہوئی مہنگائی، عوامی خدمات کے معیار میں گراوٹ اور تعلیمی اداروں کی صورتِ حال پر عوامی غم وغصے کے باعث ہوا۔
صدارتی دفتر کے مطابق میکرون نے وزیر داخلہ کو ہدایت کی کہ وہ پولیس اور سیکیورٹی فورسز میں کمان کا تسلسل برقرار رکھنے کے لیے اپنے عہدے پر کام جاری رکھیں۔ صدر نے انہیں لوٹ مار کرنے والوں سے نمٹنے کے لیے جلد از جلد مؤثر حکمتِ عملی وضع کرنے کی ہدایت بھی کی۔
ہفتے کو ملک بھر میں ہونے والے مظاہروں نے پرتشدد ہنگاموں کی شکل اختیار کرلی۔ مختلف شہروں میں پرتشدد گروہوں اور پولیس کے درمیان جھڑپیں ہوئیں، ایک سٹی ہال کو آگ لگا دی گئی، دکانوں میں لوٹ مار کی گئی اور عمارتوں پر نعرے اور دیگر تحریریں درج کردی گئیں۔
اتوار کو پیرس اور مارسیلے میں بھی جھڑپیں ہوئیں جہاں ہنگامہ آرائی پر قابو پانے والی پولیس نے کاروباری مراکز کو لوٹنے کی کوششیں ناکام بنانے کے لیے مداخلت کی۔
























Comments