کاکروچ موومنٹ کے بانی ایک روز حراست میں رہنے کے بعد رہا، چیف الیکشن کمشنر کے استعفے کا مطالبہ
- ابھجیت ڈپکے کو جمعے کے روز حراست میں لیا گیا تھا
بھارت کی عدالت نے نوجوانوں کی ’کاکروچ‘ تحریک کے رہنما کو رہا کر دیا۔ انہیں ایک روز قبل نئی دہلی میں ایک اور احتجاجی ریلی کی قیادت کرنے کی کوشش پر حراست میں لیا گیا تھا۔ مظاہرین ملک کے چیف الیکشن کمشنر سے استعفے کا مطالبہ کر رہے تھے۔
کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے بانی ابھجیت ڈپکے رواں سال اس وقت نمایاں ہوئے جب کئی ہفتوں تک جاری رہنے والے دھرنے نے بھارت کے وزیر تعلیم کے استعفے میں کردار ادا کیا۔
سی جے پی کے شعبۂ قانونی امور کی سربراہ رتنا سنگھ نے بتایا کہ ڈپکے کو بعض شرائط تسلیم کرنے کے بعد رہا کیا گیا۔ تاہم انہوں نے ان شرائط کی تفصیلات نہیں بتائیں۔
ڈپکے کی نوجوانوں پر مشتمل جماعت، اپوزیشن جماعتوں اور طلبہ تنظیموں نے رواں ماہ تقریباً روزانہ احتجاجی مظاہرے کیے ہیں۔ مظاہرین چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ان کا الزام ہے کہ ووٹر فہرستوں پر نظرثانی کے عمل سے وزیر اعظم نریندر مودی کی بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو فائدہ پہنچایا جا رہا ہے۔
ووٹر فہرستوں پر نظرثانی کے دوران 13 کروڑ سے زائد ووٹروں کے نام خارج کیے گئے۔ الیکشن کمیشن نے کسی بھی سیاسی جماعت کی حمایت کرنے کے الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ جن ووٹروں کے نام غلطی سے خارج ہوئے ہیں، وہ دوبارہ اندراج کرا سکتے ہیں۔
بی جے پی نے مخالفین پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ جائز انتخابی عمل پر بلاجواز سوالات اٹھا کر جمہوریت کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
طلبہ کی سرگرم کارکن نہا بورا کو بھی جمعے کے روز حراست میں لیا گیا تھا۔ وہ اپنے درجنوں حامیوں کے ساتھ وسطی دہلی پہنچنے کی کوشش کر رہی تھیں۔ انہیں ہفتے کے روز رہا کر دیا گیا۔
رہائی کے بعد بورا نے خبر رساں ادارے اے این آئی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا براہِ کرم بھارت کے عوام کو مزید پریشان نہ کریں۔ گیانیش کمار کے خلاف مواخذے کی کارروائی شروع کریں اور ایس آئی آر (خصوصی جامع نظرثانی) کا عمل روکیں، تاکہ اس ملک کے عام شہری سکون کا سانس لے سکیں، اطمینان محسوس کریں اور ان کے حقِ رائے دہی کو یقینی بنایا جا سکے۔
طلبہ تنظیموں کا مزید احتجاجی مظاہروں کا اعلان
ڈپکے کو جمعے کے روز وسطی دہلی میں ایک گھر سے باہر نکلتے وقت حراست میں لیا گیا تھا۔ پولیس اہلکاروں نے مختصر بحث کے بعد انہیں زبردستی پولیس گاڑی میں بٹھایا اور وہاں سے لے گئے۔
ڈپکے نے جمعے کے احتجاج کی اپیل سی جے پی کے ان دو رہنماؤں کی حمایت میں کی تھی جنہیں اسی ہفتے ایک احتجاجی مقام پر پابندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مظاہرہ کرنے کے الزام میں حراست میں لے کر پانچ روز کے لیے جیل بھیج دیا گیا تھا۔
جمعے کے روز اس سے قبل پولیس نے ڈپکے سے ملاقات کرکے انہیں احتجاج جاری رکھنے سے باز رہنے کی تنبیہ کی تھی۔
طلبہ تنظیموں نے ہفتے کے روز مزید احتجاجی سرگرمیوں کی اپیل کی۔
نوجوانوں کی جانب سے شروع کی گئی اور متعدد اپوزیشن جماعتوں کی شمولیت سے وسعت اختیار کرنے والی یہ تحریک، وزیر اعظم نریندر مودی کے 12 سالہ دورِ اقتدار میں مودی اور بی جے پی کو درپیش بڑے سیاسی چیلنجز میں سے ایک بن کر سامنے آئی ہے۔
























Comments