BR100 Decreased By (-0%)
BR30 Decreased By (-0.4%)
KSE100 Increased By (0.14%)
KSE30 Increased By (0.05%)
BAFL 55.61 Decreased By ▼ -0.16 (-0.29%)
BIPL 24.50 Increased By ▲ 0.17 (0.7%)
BOP 28.80 Decreased By ▼ -0.01 (-0.03%)
CNERGY 12.87 Increased By ▲ 0.07 (0.55%)
DFML 15.89 Decreased By ▼ -0.19 (-1.18%)
DGKC 182.20 Decreased By ▼ -0.20 (-0.11%)
FABL 91.49 Increased By ▲ 0.09 (0.1%)
FCCL 51.79 Decreased By ▼ -0.20 (-0.38%)
FFL 14.09 Increased By ▲ 0.07 (0.5%)
GGL 19.95 Decreased By ▼ -0.15 (-0.75%)
HBL 289.12 Decreased By ▼ -0.32 (-0.11%)
HUBC 193.70 Increased By ▲ 0.46 (0.24%)
HUMNL 9.29 Increased By ▲ 0.08 (0.87%)
KEL 6.08 Increased By ▲ 0.17 (2.88%)
LOTCHEM 25.49 Decreased By ▼ -0.33 (-1.28%)
MLCF 90.08 Decreased By ▼ -0.37 (-0.41%)
OGDC 298.90 Decreased By ▼ -3.35 (-1.11%)
PAEL 33.80 Increased By ▲ 0.07 (0.21%)
PIBTL 13.75 Increased By ▲ 0.04 (0.29%)
PIOC 232.00 Increased By ▲ 0.92 (0.4%)
PPL 218.70 Decreased By ▼ -0.55 (-0.25%)
PRL 106.97 Increased By ▲ 3.21 (3.09%)
SNGP 90.39 Increased By ▲ 0.26 (0.29%)
SSGC 22.92 Decreased By ▼ -0.10 (-0.43%)
TELE 7.10 Decreased By ▼ -0.13 (-1.8%)
TPLP 11.82 Decreased By ▼ -0.05 (-0.42%)
TRG 56.46 Increased By ▲ 0.99 (1.78%)
UNITY 7.93 Decreased By ▼ -0.11 (-1.37%)
WTL 0.96 Decreased By ▼ -0.02 (-2.04%)
Perspectives

انسان سب کچھ درست کرنے کے باوجود ناکام ہو سکتا ہے

  • ”ہر ناکامی غلط فیصلے کا نتیجہ نہیں ہوتی، اور ہر کامیابی درست فیصلہ سازی کا ثبوت نہیں۔ کسی فیصلے کو اس کے نتیجے سے نہیں، بلکہ اس وقت دستیاب معلومات، سوچ بچار اور خطرات کے درست اندازے کی بنیاد پر پرکھنا چاہیے۔“
شائع اپ ڈیٹ

پیشہ ورانہ زندگی میں جن مشکل حقیقتوں کو قبول کرنا پڑتا ہے، ان میں سے ایک یہ ہے کہ درست فیصلہ ہمیشہ اچھا نتیجہ نہیں دیتا۔ ہم یہ بات جانتے ہیں، لیکن شاذ و نادر ہی اس طرح عمل کرتے ہیں جیسے واقعی اس پر یقین رکھتے ہوں۔

جب کوئی معاہدہ طے پا جاتا ہے تو ہم عموماً یہ سمجھ لیتے ہیں کہ حکمت عملی درست تھی۔ جب کوئی کاروبار مشکلات کا شکار ہوتا ہے تو یہ بتانا حیرت انگیز طور پر آسان ہو جاتا ہے کہ بانی کو کیا مختلف کرنا چاہیے تھا۔ کسی کو ترقی مل جائے تو ہم اسے اس کی کارکردگی کا نتیجہ قرار دیتے ہیں۔ کسی دوسرے کو ترقی نہ ملے تو وہ سوچنے لگتا ہے کہ آخر اس میں کس چیز کی کمی تھی۔

یوں نتیجہ ہی فیصلے کے درست یا غلط ہونے کا ثبوت بن جاتا ہے۔

لیکن کسی فیصلے کو پرکھنے کا یہ ہمیشہ درست طریقہ نہیں ہوتا۔

اپنے پیشہ ورانہ تجربے کے دوران میں نے کئی اچھی تجاویز کو ناکام ہوتے دیکھا ہے، اور ان کی ناکامی کا خود تجویز کے معیار سے بہت کم تعلق تھا۔ فریقِ ثانی کے پہلے ہی سے کسی کے ساتھ تعلقات تھے۔ ادارے میں کوئی شخص کسی دوسرے فراہم کنندہ کو ترجیح دیتا تھا۔ بجٹ تبدیل ہو گیا۔ بعض معاملات میں تو آخری ملاقات ہونے سے پہلے ہی فیصلہ تقریباً کیا جا چکا تھا۔

اس کے برعکس بھی دیکھا ہے۔ تیاری اوسط درجے کی تھی، مفروضے مشکوک تھے، وقت نے اتفاقاً ساتھ دیا، اور نتیجہ پھر بھی توقع کے مطابق نکل آیا۔

ہم میں سے بیشتر یہی چاہتے ہیں کہ محنت، فیصلہ سازی کی صلاحیت اور نتائج ایک دوسرے سے مضبوطی کے ساتھ جڑے رہیں۔ اس سے زندگی کو سمجھنا آسان ہو جاتا ہے۔ محنت کریں، اچھی تیاری کریں، معقول فیصلے لیں اور پھر بالآخر نتیجہ بھی اچھا ہی نکلنا چاہیے۔

لیکن مسئلہ یہ ہے کہ بہت سے عوامل ہمارے اختیار میں نہیں ہوتے۔

منڈیاں بدل جاتی ہیں۔ لوگ اپنی رائے تبدیل کر لیتے ہیں۔ اداروں کی تنظیمِ نو ہو جاتی ہے۔ جس شخص کو سوچ سمجھ کر ملازمت پر رکھا ہو، وہ توقعات پر پورا نہیں اترتا۔ جو عہدہ موزوں دکھائی دیتا تھا، وہ بالکل غلط ثابت ہوتا ہے۔ کوئی اچھی مصنوعات غلط وقت پر مارکیٹ میں آتی ہیں۔ کوئی کمپنی یکے بعد دیگرے کئی بالکل معقول فیصلے کرنے کے باوجود نقد رقم سے محروم ہو کر کاروبار بند کرنے کے قریب پہنچ سکتی ہے۔

ان میں سے کسی بات کا مطلب یہ نہیں کہ جواب دہی کی اہمیت ختم ہو جاتی ہے۔

ہر ناکامی کو بدقسمتی قرار دینا اتنا ہی احمقانہ ہوگا جتنا ہر کامیابی کو درست فیصلہ سازی کا ثبوت سمجھنا۔

اصل فرق یہ ہے کہ فیصلے کے معیار کو نتیجے کے معیار سے الگ رکھ کر دیکھا جائے۔

اس وقت میرے پاس جو معلومات تھیں، کیا ان کی بنیاد پر یہ ایک معقول فیصلہ تھا؟

کیا میں نے درست سوالات کیے؟ کیا میں نے سمجھا کہ کیا کچھ غلط ہو سکتا ہے؟ کیا میں ایسی معلومات کو نظرانداز کر رہا تھا جو مجھے ناگوار نتیجے کی طرف اشارہ کرتی تھیں؟ کیا میں حقیقت پسندانہ انداز میں فیصلہ کر رہا تھا یا محض اس امید پر تھا کہ حالات بہتر ہو جائیں گے؟

یہ سوالات ہمیں اس بات سے کہیں زیادہ بتاتے ہیں کہ آیا بالآخر گاہک نے معاہدے پر دستخط کیے یا سرمایہ کاری سے منافع حاصل ہوا۔

ذمہ داری بڑھنے کے ساتھ اس فرق کی اہمیت بھی بڑھ جاتی ہے۔

پیشہ ورانہ زندگی کے ابتدائی دور میں زیادہ تر کام پر عمل درآمد سے متعلق ہوتا ہے۔ کام درست طریقے سے کریں، جس وقت تکمیل کا وعدہ کیا ہے اس وقت تک پورا کریں اور اپنی ذمہ داری نبھائیں۔

اعلیٰ عہدوں کی نوعیت مختلف ہوتی ہے۔

وہاں اکثر ایسے فیصلے کرنے پڑتے ہیں جن کے بارے میں حقیقتاً کسی کو معلوم نہیں ہوتا کہ درست جواب کیا ہے۔

سرمایہ کاری کے لیے کون سی منڈی موزوں ہے؟ کس گاہک سے کاروباری تعلق ختم کر دینا چاہیے؟ کس شخص کو ملازمت پر رکھا جائے؟ جو کام نہیں کر رہا، اس پر مزید کتنی دیر سرمایہ لگاتے رہنا چاہیے؟ ابھی مارکیٹ میں داخل ہونا چاہیے یا انتظار کرنا چاہیے؟ موجودہ کاروبار کی خامیوں کو دور کرتے رہنا چاہیے یا کوئی نیا کاروبار شروع کرنا چاہیے؟

اگر جواب واضح ہوتا تو اس کے لیے زیادہ فیصلہ کن بصیرت درکار نہ ہوتی۔

مزید یہ کہ ایسے فیصلے عموماً اس وقت کرنے پڑتے ہیں جب تمام ضروری معلومات دستیاب نہیں ہوتیں۔

کوئی تجارتی سربراہ ایسے گاہک سے تعلق ختم کرنے کا فیصلہ کر سکتا ہے جس کے ساتھ کاروبار کرنا مالی اعتبار سے فائدہ مند نہ ہو، لیکن اگلے ہی ہفتے دیکھتا ہے کہ حریف کمپنی نے اسی گاہک کے ساتھ معاہدے کا اعلان کر دیا ہے۔ کوئی بانی ایسے سرمایہ کار کی پیشکش مسترد کر سکتا ہے جو اس کے کاروبار کے لیے واضح طور پر موزوں نہیں، لیکن اس کے بعد مزید چھ ماہ تک سرمایہ حاصل کرنے کے لیے جدوجہد کرتا رہتا ہے۔

بعد میں پیش آنے والے واقعات کی بنیاد پر ہی ان دونوں فیصلوں کو پرکھا جائے تو وہ بے وقوفی دکھائی دے سکتے ہیں۔

یہیں سے ادارے بھی مسائل کا شکار ہو سکتے ہیں۔

کمپنیاں اکثر کہتی ہیں کہ وہ چاہتی ہیں کہ ملازمین ذمہ داری قبول کریں، فیصلے کریں اور کاروبار کو اپنا سمجھ کر سوچیں۔ لیکن اگر ہر ناکام فیصلے کو بعد میں ناقص فیصلہ سازی کا ثبوت قرار دیا جائے تو ملازمین بہت جلد اصل پیغام سمجھ جاتے ہیں۔

وہ مشکل فیصلے کرنا چھوڑ دیتے ہیں۔

وہ ایسے فیصلے کرنے لگتے ہیں جن کا دفاع کرنا آسان ہو۔

ان دونوں میں فرق ہے۔

آپ لوگوں سے یہ توقع نہیں رکھ سکتے کہ وہ ذمہ داری قبول کریں، اور ساتھ ہی یہ بھی چاہیں کہ ان کے ہر فیصلے کا نتیجہ لازماً کامیابی کی صورت میں نکلے۔

اہم بات یہ ہے کہ فیصلہ کرتے وقت سوچ بچار کا معیار کیا تھا۔ کون سی معلومات دستیاب تھیں؟ کن مفروضوں کو بنیاد بنایا گیا؟ کیا خطرات کو سمجھا گیا تھا؟ کیا کسی نے سوچ سمجھ کر خطرہ مول لیا یا محض لاپروائی کا مظاہرہ کیا؟

اگر ادارے ان باتوں میں فرق نہیں کر سکتے تو بالآخر ایسے منتظمین تیار ہوتے ہیں جو ذمہ داری قبول کرنے کے بجائے الزام سے بچنے میں مہارت حاصل کر لیتے ہیں۔

اسی مسئلے کا ایک ذاتی پہلو بھی ہے۔

کوئی ناکامی محض ایک واقعہ رہنے کے بجائے خاموشی سے ہماری اپنی صلاحیتوں کے بارے میں فیصلے میں بدل سکتی ہے۔

آپ کوئی اہم گاہک کھو دیتے ہیں تو سوچنے لگتے ہیں کہ کیا آپ اب بھی اپنے کام میں اتنے ہی اچھے ہیں جتنا خود کو سمجھتے تھے۔ کوئی کاروباری منصوبہ ناکام ہو جاتا ہے تو سوال ’’کیا غلط ہوا؟‘‘ سے بدل کر ’’کیا میں واقعی یہ کام کرنے کی صلاحیت رکھتا ہوں؟‘‘ بن جاتا ہے۔ کسی کی جانب سے مسترد کیے جانے کے کئی اسباب ہو سکتے ہیں، لیکن ہم اس کی ایسی تشریح کرنے لگتے ہیں جو ہمیں سب سے زیادہ تکلیف پہنچاتی ہے۔

یہ وہ مقام ہے جہاں نتائج کو ان کی اصل اہمیت سے بڑھ کر اختیار حاصل ہو جاتا ہے۔

کچھ ناکامیاں واضح سبق دیتی ہیں۔ کوئی غلط مفروضہ، ناقص تیاری یا ایسا خطرہ جسے دیکھ کر بھی نظرانداز کر دیا گیا ہو۔

ایسی ناکامیوں کا کچھ تکلیف دہ ہونا ضروری ہے۔ ان کے نتیجے میں ہمارے طرزِ عمل میں تبدیلی آنی چاہیے۔

لیکن ہر دھچکے کی ایسی واضح وجہ نہیں ہوتی۔

بعض اوقات فیصلے کا بار بار جائزہ لینے کے بعد بھی جو نتیجہ سامنے آتا ہے، وہ زیادہ تسلی بخش نہیں ہوتا۔

آپ نے ایک معقول فیصلہ کیا تھا۔

وہ کامیاب نہیں ہوا۔

ہم ناکامی کی اس قسم پر زیادہ بات نہیں کرتے، کیونکہ اس سے کوئی متاثر کن کہانی نہیں بنتی۔

ہمیں ناکامی کی وہ سادہ اور دلکش کہانی زیادہ پسند آتی ہے جس میں کچھ غلط ہوتا ہے، ہمیں سبق ملتا ہے، ہم پہلے سے زیادہ مضبوط ہو جاتے ہیں اور بعد میں پلٹ کر اس پورے تجربے کے لیے شکر گزار ہوتے ہیں۔

حقیقی زندگی میں ناکامی سے سنبھلنے کا عمل عموماً اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہوتا ہے۔

بعض اوقات اعتماد کو دھچکا لگتا ہے۔ کچھ عرصے کے لیے ہم ضرورت سے زیادہ محتاط ہو جاتے ہیں۔ کبھی محض جھنجھلاہٹ محسوس ہوتی ہے۔ اور کبھی کوئی فیصلہ ہماری سوچ پر اس سے کہیں زیادہ عرصے تک چھایا رہتا ہے جتنا اسے رہنا چاہیے۔

بعض اوقات اصل خطرہ ناکامی نہیں، بلکہ وہ تبدیلی ہوتی ہے جس کی اجازت ہم اس ناکامی کو اپنے اندر پیدا کرنے کے لیے دے دیتے ہیں۔

کسی ایک غلط بھرتی کا تجربہ ایک سوچ سمجھ کر فیصلے کرنے والے رہنما کو بدگمان بنا سکتا ہے۔ کسی ایک ناکام شراکت داری کے بعد ہر نئے شراکت دار میں خطرہ دکھائی دینے لگتا ہے۔ کسی ایک ناقص سرمایہ کاری کے بعد کوئی شخص اس قدر محتاط ہو سکتا ہے کہ آگے چل کر کہیں بہتر مواقع بھی گنوا بیٹھے۔

تجربے سے سیکھی ہوئی ہر بات دانش مندی نہیں ہوتی۔ بعض اوقات ہم محض اس تکلیف پر ردعمل دے رہے ہوتے ہیں جو ہمیں پچھلی بار پہنچی تھی۔

میرے نزدیک یہی وہ مقام ہے جہاں ثابت قدمی کارآمد ثابت ہوتی ہے۔ اس کا مطلب یہ یقین رکھنا نہیں کہ بالآخر سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا، کیونکہ ایسا نہیں ہوتا۔ نہ ہی اس کا مطلب ہر مایوسی میں کوئی معنی تلاش کرنا ہے۔ اور نہ یہ دکھاوا کرنا کہ ناکامیوں سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔

ثابت قدمی یہ صلاحیت ہے کہ ہم ایک برے نتیجے کو اپنے اگلے فیصلے پر حاوی نہ ہونے دیں۔

پیشہ ورانہ زندگی طویل ہو تو آپ ایسے فیصلے بھی کریں گے جو درست تھے، لیکن ناکام ہو گئے۔ آپ ایسے فیصلے بھی کریں گے جو کامیاب تو ہوئے، مگر ان وجوہ کی بنا پر جنہیں دہرانا دانش مندی نہیں ہوگی۔

تجربہ دراصل ان دونوں میں فرق کرنا سیکھنے کا نام ہے۔

یہ مضمون ضروری نہیں کہ بزنس ریکارڈر یا اس کے مالکان کی رائے کی عکاسی کرتا ہو۔

Comments

200 حروف