پاکستان میں پانی کے مسائل اسٹارٹ اپ پانی پلس کیلئے آزمائش
- کراچی اور پاکستان کے دیگر شہروں میں پانی کی ایک عجیب کیفیت ہے کہ وہ کبھی نایاب ہوتا ہے اور کبھی اس سے بچنا ناممکن ہو جاتا ہے۔
پاکستان کو پانی کے حوالے سے ایک متضاد صورت حال کا سامنا ہے۔ ایک طرف پانی کی قلت گھروں اور کسانوں کو متاثر کرتی ہے، تو دوسری جانب شدید بارشیں شہری نکاسی آب کے نظام پر دباؤ ڈالتی ہیں اور گھروں اور کاروباری مراکز کو زیر آب لے آتی ہیں۔ پانی کے انتظام سے متعلق مصنوعات تیار کرنے والے نئے کاروباری اداروں کے لیے چیلنج صرف ان مسائل کا حل تلاش کرنا نہیں، بلکہ صارفین کو اس بات پر آمادہ کرنا بھی ہے کہ وہ کسی بحران کے پیدا ہونے سے پہلے ہی ان حلوں پر رقم خرچ کریں۔
کراچی میں قائم اسٹارٹ اپ پانی پلس (Paani+)، جس کی بنیاد حسیب انصاری نے رکھی، اس خلا کو پُر کرکے کاروبار قائم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس کی مصنوعات میں پانی کے سیلابی ریلوں کو اندر داخل ہونے سے روکنے کے لیے جذب کرنے والی رکاوٹیں، مٹی میں نمی برقرار رکھنے کے لیے تیار کردہ محلول اور صحت کے شعبے میں مائع مواد کے رساؤ کو ٹھوس شکل دینے کے لیے تیار کردہ مواد شامل ہیں۔
کراچی اور پاکستان کے دیگر شہروں میں پانی کی ایک عجیب کیفیت ہے کہ وہ کبھی نایاب ہوتا ہے اور کبھی اس سے بچنا ناممکن ہو جاتا ہے۔
سال کے بیشتر حصے میں گھروں کو پانی کے ٹینکروں کے لیے رقم ادا کرنا پڑتی ہے، باغبان پودوں کو زندہ رکھنے کے لیے فکر مند رہتے ہیں اور کسان محدود پانی سے فصلوں کی ضروریات پوری کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ پھر مون سون آتا ہے اور بعض اوقات یہی پانی، جو پہلے ایک نایاب وسیلہ تھا، ایک ایسے درانداز میں تبدیل ہو جاتا ہے جو گلیوں، دکانوں اور گھروں میں اس سے زیادہ تیزی سے داخل ہوتا ہے جتنی تیزی سے نکاسی آب کے نالے اسے باہر نکال سکتے ہیں۔
یہ ایک ایسا تضاد ہے جو پانی کے ساتھ پاکستان کے تعلق کی بڑھتی ہوئی پہچان بنتا جا رہا ہے، جہاں پانی کی ضرورت ہوتی ہے وہاں اس کی کمی ہوتی ہے، اور جہاں اس کی ضرورت نہیں ہوتی وہاں اس کی زیادتی مسائل پیدا کرتی ہے۔
اس تضاد کے پیچھے موجود اعداد و شمار خاصے تشویش ناک ہیں۔ عالمی بینک کے اعداد و شمار کے مطابق، 2022 میں پاکستان کے میٹھے پانی کے مجموعی استعمال میں زراعت کا حصہ 94 فیصد تھا۔ 2022 کے سیلاب سے 3 کروڑ 30 لاکھ افراد متاثر ہوئے، جبکہ 30 ارب ڈالر سے زیادہ کا نقصان اور معاشی خسارہ ہوا۔ اگست 2025 میں کراچی خاص طور پر شدید متاثر ہوا، جہاں 135 ملی میٹر سے زیادہ بارش نے شہر کے نکاسی آب کے نظام کو مفلوج کر دیا۔
حسیب انصاری کا خیال ہے کہ پانی کو قابو میں رکھنے اور اسے قابل انتظام بنانے کے لیے اس سے بہتر اور زیادہ مؤثر طریقہ اختیار کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے بزنس ریکارڈر کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ دو بالکل مختلف انتہائیں ہیں۔ ایک جگہ بہت زیادہ پانی ہے اور دوسری جگہ پانی موجود ہی نہیں۔
ان کے مطابق، یہی مشاہدہ کمپنی کی مصنوعات کی تیاری کے پیچھے بنیادی سوچ بنا۔ کمپنی جذب کرنے والے مواد سے ایسی مصنوعات تیار کرتی ہے جن کا استعمال سیلاب سے تحفظ، زراعت اور صحت کی دیکھ بھال سمیت مختلف شعبوں میں کیا جا سکتا ہے۔
زیر آب گھر سے نئی مصنوعات تک کا سفر
حسیب انصاری کے مطابق پانی پلس کا خیال اس وقت سامنے آیا جب کراچی میں ان کا اپنا گھر زیر آب آ گیا۔
انہوں نے کہا کہ یہ ایسی صورت حال تھی جس میں میں کچھ نہیں کر سکتا تھا۔ مجھے بس اپنا فرنیچر پانی میں تیرتا ہوا دیکھنا پڑا۔ جب پانی گھر میں داخل ہو رہا ہو تو آخری چیز جو آپ کرنا چاہیں گے، وہ ریت کی بوری میں ریت بھرنا ہے۔
ان کے مطابق، یہی بے بسی بالآخر فلڈ گارڈ کی تیاری کا سبب بنی۔ یہ جذب کرنے والے مواد سے بھری ایک ہلکی پھلکی بوری ہے، جو میٹھے پانی کے رابطے میں آتے ہی فعال ہو جاتی ہے۔
حسیب انصاری کے مطابق، تقریباً 300 گرام وزنی یہ بوری پانی جذب کرنے کے بعد تین سے پانچ منٹ کے اندر پھول کر تقریباً 15 سے 20 کلوگرام وزنی ہو سکتی ہے۔ اس طرح یہ ایک عارضی رکاوٹ بن جاتی ہے، جسے دروازوں اور داخلی راستوں کے گرد رکھ کر اندر آنے والے پانی کی رفتار کم کی جا سکتی ہے یا اس کا رخ موڑا جا سکتا ہے۔
پانی پلس فی الحال اس مصنوعات کو روایتی ریت کی بوریوں کے متبادل کے طور پر فروخت کر رہا ہے۔ اس کے ساتھ پانی کا رخ موڑنے والی ایک شیٹ بھی فراہم کی جاتی ہے، جس کا مقصد رکاوٹوں کے نیچے یا ان کے درمیان سے پانی رسنے کے امکان کو کم کرنا ہے۔
کمپنی کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ اس کی مصنوعات کی پانی جذب کرنے کی صلاحیت کو پاکستان کونسل آف سائنٹیفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ (پی سی ایس آئی آر) نے جانچا ہے۔
حسیب انصاری نے واضح کیا کہ اس مصنوعات کا مقصد بڑے پیمانے پر نکاسی آب کے نظام یا انجینئرنگ کے اصولوں کے تحت تعمیر کیے گئے سیلاب سے تحفظ کے بنیادی ڈھانچے کی جگہ لینا نہیں ہے۔ کمپنی کی جانب سے جاری کردہ رہنما ہدایات میں بھی اسے عارضی تحفظ کا ذریعہ قرار دیا گیا ہے، نہ کہ مستقل سیلابی حفاظتی انتظامات کا متبادل۔
آفت آنے سے پہلے تیاری کی مصنوعات فروخت کرنے کا چیلنج
حسیب انصاری کے مطابق فلڈ گارڈ کی طلب کراچی، لاہور، پشاور اور مری سمیت پاکستان کے متعدد شہروں سے آ رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ لاہور میں پارک ویو سٹی کی جانب سے ماضی میں سیلابی صورت حال کے بعد 200 بوریوں کا آرڈر دیا گیا، جبکہ بعض صارفین نے سیلاب کے دوران ہنگامی بنیادوں پر بھی آرڈر دیے۔
انہوں نے کراچی میں گل پلازہ آتش زدگی کے بعد سامنے آنے والے ردعمل کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ جب لوگ حفاظتی اقدامات نہ کرنے کے نتائج اپنی آنکھوں سے دیکھ لیتے ہیں تو ان کے رویے بہت تیزی سے تبدیل ہو سکتے ہیں۔
حسیب انصاری نے کہا کہ گل پلازہ میں آتش زدگی کے واقعے کے بعد لوگوں نے واقعی آگ بجھانے والے آلات خریدنا شروع کر دیے۔ لیکن اس سے پہلے وہ ان پر رقم خرچ کرنے میں زیادہ دلچسپی نہیں رکھتے تھے۔
ان کا خیال ہے کہ اس رویے کو تبدیل کرنے کے لیے لوگوں کو یہ باور کرانا ہوگا کہ سیلاب سے تحفظ کے آلات بھی گھر میں اسی طرح موجود ہونے چاہئیں جس طرح آگ بجھانے والا آلہ رکھا جاتا ہے۔ یہ ایسی چیز ہے جو زیادہ تر وقت استعمال نہیں ہوتی، لیکن ضرورت پڑنے پر اس کی موجودگی انتہائی قیمتی ثابت ہوتی ہے۔
بہتر آبپاشی کا نظام
پانی پلس نے زراعت کے شعبے کے لیے گرو میٹ پلس تیار کیا ہے، جو مٹی میں نمی برقرار رکھنے والا ایک ایسا مواد ہے جسے پودوں کی جڑوں کے گرد مٹی میں ملایا جاتا ہے۔ یہ آبپاشی کے دوران پانی جذب کرتا ہے اور اسے اس طرح تیار کیا گیا ہے کہ اردگرد کی مٹی خشک ہونے پر یہ پانی بتدریج خارج کرے۔
سندھ میں آبپاشی پر مبنی زراعت دیہی معیشت کا بنیادی حصہ ہے، تاہم پانی کا ضیاع اب بھی خاصا زیادہ ہے۔ عالمی بینک کے اندازے کے مطابق صوبے میں حاصل کیے جانے والے پانی کا 60 سے 75 فیصد حصہ سطح سے بخارات بننے یا کھارے زیرِ زمین پانی میں رساؤ کے باعث ضائع ہو سکتا ہے۔
حسیب انصاری نے کہا کہ یہ ایک انتہا تھی کہ ہمارے پاس بہت زیادہ پانی تھا۔ دوسری انتہا یہ ہے کہ ہمارے پاس پانی نہیں ہے۔
ان کے مطابق یہ مصنوعات اس مسئلے کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کی گئی کہ فصلوں اور پودوں کو مسلسل پانی فراہم کرنے کے بجائے وقفے وقفے سے پانی ملتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ پانی کو اپنے اندر محفوظ رکھتا ہے۔ اس میں قدرتی طور پر کیڑوں کو دور رکھنے کی صلاحیت موجود ہے۔ یہ جڑوں اور پودے کی مجموعی نشوونما کو بہتر بناتا ہے، جس کے نتیجے میں پیداوار بڑھتی ہے اور پھولوں یا پھلوں کا حجم بھی بہتر ہوتا ہے۔‘‘
کمپنی کی موجودہ مصنوعات کی فہرست میں گرو میٹ پلس کو مٹی میں نمی اور غذائی اجزا برقرار رکھنے والے مواد، جبکہ ہائیڈرو سوئل کو پودوں کو طویل عرصے تک پانی فراہم کرنے والے پیک کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔
حسیب انصاری کے نزدیک اس مصنوعات کی تجارتی افادیت محض اس بات میں نہیں کہ یہ پانی جذب کر سکتی ہے۔ پانی جذب کرنا کوئی نئی بات نہیں۔ ان کے مطابق اصل قدر کسی مخصوص مسئلے کو مدنظر رکھتے ہوئے اس مواد کی ترکیب اور پیکنگ تیار کرنے میں ہے۔
طبی فضلے کا انتظام
اسپتالوں میں مسئلہ پانی نہیں بلکہ مائع مواد ہوتا ہے۔
خون، پیشاب اور دیگر متعدی مائعات ایک مختلف نوعیت کے خطرات پیدا کر سکتے ہیں۔ ایسے مواد کے رساؤ کی صورت میں عملے کو آلودگی کو غیر ضروری طور پر پھیلائے بغیر اسے قابو میں رکھنے، جراثیم سے پاک کرنے اور ٹھکانے لگانے کی ضرورت ہوتی ہے۔
پانی پلس کا کہنا ہے کہ اس نے اسی مسئلے کے حل کے لیے میڈی سورب تیار کیا ہے۔
حسیب انصاری نے کہا کہ ہمارے اسپتال روزانہ متعدی فضلے سے نمٹتے ہیں اور ایسی صورت حال سے نمٹنے کے لیے کئی دہائیوں پرانے طریقے استعمال کرتے ہیں۔ میڈی سورب کو اس طرح تیار کیا گیا ہے کہ فرش پر خون، پیشاب یا کسی بھی قسم کے متعدی مائع فضلے کے درمیانے سے بڑے حجم تک کے رساؤ کو قابو میں لایا جا سکے۔
حسیب انصاری نے وضاحت کی کہ اس پاؤڈر کو براہ راست رسنے والے مائع پر چھڑکا جاتا ہے، جس سے وہ ٹھوس شکل اختیار کر لیتا ہے۔ اس کے بعد اسے اٹھا کر ٹھکانے لگایا جا سکتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ انفیکشن کنٹرول کے عملے نے نشاندہی کی کہ کسی مائع کے رساؤ کو ٹھوس شکل دینے سے جراثیم کشی کا الگ مرحلہ ختم نہیں ہوتا۔ انہیں اب بھی بلیچ یا کوئی اور جراثیم کش مادہ استعمال کرنا پڑتا ہے۔ چنانچہ ہم نے ان کے لیے میڈی سورب پلس تیار کیا، جس میں کلورین شامل کی گئی ہے اور اس طرح ایک اضافی مرحلہ اختیار کرنے کی ضرورت نہیں رہتی۔
حسیب انصاری کے مطابق، اس مصنوعات کو نجی اسپتالوں کے تعاون سے جانچا گیا ہے اور کمپنی اب اسے خریدنے کے لیے درکار طریقہ کار کے مراحل سے گزر رہی ہے۔
نئی مصنوعات کی کیٹیگری متعارف کرانے کا مسئلہ
حسیب انصاری نے کہا کہ پاکستان میں خریداروں کی ایک بڑی تعداد کے لیے کمپنی کی متعدد مصنوعات اور ان کے استعمال اب بھی غیر مانوس ہیں۔
انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ مجھے جو ردعمل ملتا ہے، وہ کچھ اس طرح ہوتا ہے کہ یہ ٹھیک ہے، لیکن مجھے نہیں لگتا کہ ہمارے ماحول میں یہ قابل عمل ہوگا اور لوگ اسے قبول نہیں کریں گے۔
تاہم ان کا کہنا تھا کہ میرے خیال میں یہ کسی نئی چیز کے کاروبار کا لازمی حصہ ہے، کیونکہ ہم ایک نئی کیٹیگری متعارف کرا رہے ہیں۔ ہم کوئی مختلف مصنوعات پیش نہیں کر رہے، بلکہ ایک بالکل نئی کیٹیگری تشکیل دے رہے ہیں، چاہے وہ زراعت ہو، سیلاب سے تحفظ ہو یا صحت کی دیکھ بھال کا شعبہ ہو۔
حسیب نے بتایا کہ کمپنی نے ابتدا میں روایتی اشتہارات کا استعمال کیا، لیکن بعد میں اسے معلوم ہوا کہ بغیر معاوضے کی تشہیر کے ذریعے پھیلنے والی ویڈیوز اور عملی مظاہرے زیادہ مؤثر ثابت ہوتے ہیں۔ ان کے اندازے کے مطابق، کمپنی کو تقریباً 90 فیصد آرڈرز بامعاوضہ اشتہارات کے بجائے قدرتی طور پر مل رہے تھے۔
انہوں نے کہا کہ سرکاری اداروں، بشمول آفات سے نمٹنے اور مقامی حکومت کے محکموں نے مصنوعات کے عملی مظاہروں پر مثبت ردعمل دیا، تاہم مثبت ردعمل کا لازمی مطلب یہ نہیں تھا کہ خریداری کے آرڈرز بھی مل جائیں گے۔
حسیب انصاری نے کہا کہ ردعمل واقعی بہت مثبت تھا، لیکن میرے خیال میں انہوں نے ہمیں بس یہی دیا۔
پانی پلس کی توجہ محض پانی کو زیادہ آسانی سے قابل انتظام بنانے پر مرکوز ہے، خواہ اس کا مطلب پانی کو اندر داخل ہونے سے روکنا ہو، جہاں ضرورت ہو وہاں اسے محفوظ رکھنا ہو، یا جب اسے سنبھالنا مشکل ہو جائے تو اس پر قابو پانا ہو۔
حسیب انصاری نے آخر میں کہا کہ لوگوں کو ہر روز پانی سے لڑنے پر مجبور نہیں ہونا چاہیے۔
























Comments