BR100 Decreased By (-0%)
BR30 Decreased By (-0.4%)
KSE100 Increased By (0.14%)
KSE30 Increased By (0.05%)
BAFL 55.65 Decreased By ▼ -0.12 (-0.22%)
BIPL 24.41 Increased By ▲ 0.08 (0.33%)
BOP 28.78 Decreased By ▼ -0.03 (-0.1%)
CNERGY 12.85 Increased By ▲ 0.05 (0.39%)
DFML 15.91 Decreased By ▼ -0.17 (-1.06%)
DGKC 182.00 Decreased By ▼ -0.40 (-0.22%)
FABL 91.49 Increased By ▲ 0.09 (0.1%)
FCCL 51.77 Decreased By ▼ -0.22 (-0.42%)
FFL 14.03 Increased By ▲ 0.01 (0.07%)
GGL 19.70 Decreased By ▼ -0.40 (-1.99%)
HBL 290.42 Increased By ▲ 0.98 (0.34%)
HUBC 193.43 Increased By ▲ 0.19 (0.1%)
HUMNL 9.29 Increased By ▲ 0.08 (0.87%)
KEL 6.09 Increased By ▲ 0.18 (3.05%)
LOTCHEM 25.41 Decreased By ▼ -0.41 (-1.59%)
MLCF 89.95 Decreased By ▼ -0.50 (-0.55%)
OGDC 299.10 Decreased By ▼ -3.15 (-1.04%)
PAEL 33.77 Increased By ▲ 0.04 (0.12%)
PIBTL 13.65 Decreased By ▼ -0.06 (-0.44%)
PIOC 231.93 Increased By ▲ 0.85 (0.37%)
PPL 218.87 Decreased By ▼ -0.38 (-0.17%)
PRL 106.95 Increased By ▲ 3.19 (3.07%)
SNGP 90.23 Increased By ▲ 0.10 (0.11%)
SSGC 22.91 Decreased By ▼ -0.11 (-0.48%)
TELE 7.11 Decreased By ▼ -0.12 (-1.66%)
TPLP 11.78 Decreased By ▼ -0.09 (-0.76%)
TRG 56.37 Increased By ▲ 0.90 (1.62%)
UNITY 7.93 Decreased By ▼ -0.11 (-1.37%)
WTL 0.96 Decreased By ▼ -0.02 (-2.04%)
مارکٹس

خلیجی توانائی تنصیبات پر حملے پاکستان کے معاشی مستقبل کے لیے تشویش ناک ہیں، وزیر خزانہ

  • پاکستان کے پاس نومبر تک توانائی کے وافر ذخائر موجود ہیں، وزیر خزانہ
شائع اپ ڈیٹ

وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ ایران جنگ کے باعث توانائی کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے کے جھٹکے کو پاکستان نے اب تک برداشت کیا ہے، تاہم سعودی عرب اور خلیجی ممالک کے دیگر حصوں میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملے ملک کے طویل مدتی معاشی مستقبل کے لیے تشویش ناک ہیں۔

بنکاک میں آئی ایم ایف اور عالمی بینک کے سالانہ اجلاسوں کے موقع پر ایک انٹرویو میں محمد اورنگزیب نے کہا کہ جنوبی ایشیائی ملک پاکستان نے نومبر تک کی ضروریات پوری کرنے کے لیے توانائی کے وافر ذخائر حاصل کر لیے ہیں اور اب سردیوں کے مہینوں کی منصوبہ بندی کر رہا ہے، جب عموماً گھریلو ضروریات میں نمایاں اضافہ ہو جاتا ہے۔

انہوں نے کہا پاکستان نے توانائی کی قیمتوں میں اضافے کے فوری اثرات سے بخوبی نمٹا ہے۔ ان کا کہنا تھا كہ نہ ہمیں کسی قسم کی قلت کا سامنا کرنا پڑا، نہ پیٹرول پمپس پر قطاریں لگیں اور نہ ہی امن و امان کی کوئی صورت حال پیدا ہوئی، جیسا کہ بعض اوقات ہم نے دوسرے ممالک میں دیکھا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ جب تک حکومت کو انتہائی ناگزیر ضرورت محسوس نہیں ہوتی، وہ مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کے شعبے میں اسپاٹ کارگو نہیں خریدے گی، کیونکہ ان کی قیمت پہلے سے طے شدہ معاہدوں کے تحت حاصل ہونے والی گیس کی ترسیل کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہوتی ہے۔

فروری میں امریکا اور اس کے اتحادی اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ شروع کیے جانے کے بعد عالمی سطح پر توانائی کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے، کیونکہ تہران نے جوابی کارروائیوں میں واشنگٹن کے خلیجی اتحادیوں کو نشانہ بنایا اور تیل و گیس کی فراہمی محدود کر دی۔

دوسری جانب یمن میں خانہ جنگی دوبارہ شدت اختیار کر رہی ہے، جبکہ وہاں حوثی جنگجوؤں نے حالیہ دنوں میں سعودی عرب کے بنیادی ڈھانچے، بشمول توانائی کی تنصیبات اور ہوائی اڈوں، پر بار بار حملے کیے ہیں۔

وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے صورت حال میں شدت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایسی تنصیبات کو پہنچنے والا نقصان معاشی سرگرمیوں کی معمول کی صورت حال کی بحالی میں تاخیر کا سبب بنے گا۔

انہوں نے کہا كہ اب تشویش ناک بات یہ ہے کہ جب توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا جانے لگتا ہے۔

ان کا کہنا تھا كہ سچ کہوں تو مجھے نہیں معلوم کہ یہ صورت حال کہاں جا کر رکے گی۔ لیکن ایک بات بالکل واضح ہے کہ اگر بنیادی ڈھانچے پر حملے جاری رہے تو حالات میں کشیدگی کم ہونے کے باوجود معمول کی صورت حال بحال ہونے میں زیادہ وقت لگے گا۔

مزاحمت

پاکستان بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے بارہا مالی معاونت حاصل کرنے والے ممالک میں شامل ہے۔ آئی ایم ایف ایسے ممالک کو آخری سہارا فراہم کرنے والا قرض دہندہ ہے جو قرضوں کی ادائیگی میں ناکامی کے دہانے پر پہنچ جاتے ہیں۔

1947 میں آزادی حاصل کرنے کے بعد سے پاکستان اس وقت آئی ایم ایف کے ساتھ اپنے 25 ویں پروگرام پر عمل درآمد کر رہا ہے، جن میں سے کم از کم 11 پروگرام براہِ راست مالی بیل آؤٹ کے لیے تھے۔

موجودہ پروگرام کی مالیت تین سال کے لیے تقریباً 7 ارب ڈالر ہے۔ رواں ماہ آئی ایم ایف نے 1.2 ارب ڈالر کی اگلی قسط جاری کرنے کے لیے معاہدے پر اتفاق کیا ہے۔

دنیا بھر میں قرضوں کا حجم بلند سطح پر ہونے کے باعث آئی ایم ایف نے اس سال کے سالانہ اجلاسوں میں تمام معیشتوں پر زور دیا ہے، حتیٰ کہ ایران جنگ کے اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک پر بھی، کہ وہ ممکنہ بحران سے بچنے کے لیے مالیاتی استحکام اور اخراجات و آمدنی میں توازن کی پالیسی پر عمل کریں۔

محمد اورنگزیب نے ہلکی سی افسردہ مسکراہٹ کے ساتھ کہا خوش قسمتی سے ہم کچھ عرصے سے مالیاتی استحکام کی راہ پر گامزن ہیں۔

حالیہ برسوں میں پاکستان کی ٹیکس آمدنی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ وزیر خزانہ نے بتایا کہ حکومت نجی شعبے کے ان کاروباروں کے خلاف کارروائی کا ہدف رکھتی ہے جو صارفین سے سیلز ٹیکس وصول کرتے ہیں، لیکن اسے سرکاری کھاتوں میں جمع نہیں کراتے۔

محمد اورنگزیب کے مطابق ٹیکس کی اس چوری کی مالیت اربوں ڈالر بنتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ انکم ٹیکس کی وصولی بڑھانے کے لیے بھی ’’بہتری کی گنجائش‘‘ موجود ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کے اصلاحاتی ایجنڈے کو صنعت، لابنگ کرنے والے گروہوں اور اپنے مفادات کا تحفظ کرنے والے حلقوں کی جانب سے مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا جب بھی آپ جمود کو تبدیل کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو ہر اصلاحات اور ہر اقدام کے خلاف مزاحمت سامنے آتی ہے۔

Comments

200 حروف