ایس ای سی پی کا ایس ای فروٹس کے انکشافات پر کارروائی کا فیصلہ، آڈٹ نگرانی مزید سخت کرنے پر زور
- کمیشن کا کہنا ہے کہ خلاف ورزیاں ثابت ہونے پر مناسب کارروائی کی جائے گی
پاکستان کے سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن (ایس ای سی پی) نے جمعے کے روز کہا ہے کہ ایس ای فروٹس اینڈ ویجیٹیبل لمیٹڈ کے ابتدائی عوامی پیشکش (آئی پی او) کے پراسپیکٹس میں ’’اہم تضادات‘‘ کے معاملے پر ضابطہ جاتی کارروائی شروع کی جا رہی ہے۔ کمیشن کے مطابق، پراسپیکٹس میں دی گئی معلومات کمپنی کے آڈٹ شدہ مالیاتی گوشواروں کی بنیاد پر فراہم کی گئی تھیں۔
گزشتہ ماہ تازہ پھلوں اور سبزیوں کی کاروباری کمپنی ایس ای فروٹس اینڈ ویجیٹیبل لمیٹڈ نے 3 کروڑ عام حصص کے آئی پی او کے لیے پراسپیکٹس جاری، تقسیم اور شائع کرنے کی ایس ای سی پی سے منظوری حاصل کی تھی۔
بعد ازاں، ایس ای سی پی نے سرمایہ کاروں کے تحفظ کے لیے کمپنی کے بک بلڈنگ کے عمل کے بعد مزید کارروائی معطل کر دی تھی۔
اس کے بعد کمپنی نے رضاکارانہ طور پر آئی پی او واپس لے لیا، تاکہ اضافی انکشافات کے ساتھ بعد میں دوبارہ درخواست جمع کرائی جا سکے۔
ایس ای سی پی کے بیان کے مطابق، سرمایہ کاروں کو ان کی جمع کرائی گئی رقوم واپس کر دی گئی ہیں۔
کمیشن نے کہا کہ وہ ایس ای فروٹس کے آئی پی او کا جائزہ لے رہا ہے تاکہ طریقۂ کار میں بے ضابطگیوں کی ذمہ داری کا تعین کیا جا سکے۔
بیان میں کہا گیا، ’’خلاف ورزیاں ثابت ہونے پر مناسب کارروائی کی جائے گی۔‘‘
ایس ای سی پی نے وضاحت کی کہ درست مالیاتی گوشوارے اور قابلِ اعتماد آڈٹ حصص کی منصفانہ قیمتوں کے تعین، بینکوں کی جانب سے قرضوں کی درست فراہمی اور ٹیکس کے صحیح تعین میں مدد دیتے ہیں۔ گمراہ کن حسابات سرمایہ کاروں، قرض دہندگان اور سرکاری محصولات کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
کمیشن نے کہا، ’’یہ معاملہ آڈٹ نگرانی بورڈ (اے او بی) کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت اجاگر کرتا ہے۔‘‘
ایس ای سی پی نے اپنے قانونی ڈھانچے کو بین الاقوامی طریقہ ہائے کار اور انٹرنیشنل فورم آف انڈیپنڈنٹ آڈٹ ریگولیٹرز (آئی ایف آئی اے آر) کے اصولوں سے ہم آہنگ کرنے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔
بیان کے مطابق، ’’بین الاقوامی سطح پر آڈیٹرز مالیاتی شفافیت اور دیانت داری کے نگہبان کا کردار ادا کرتے ہیں۔ انہیں جواب دہ بنانے کے لیے آڈٹ نگرانی بورڈ کو مؤثر معائنے اور قانونی کارروائی کے اختیارات، مناسب تعداد میں فنی عملہ اور مالی وسائل کی مستقل فراہمی درکار ہے۔‘‘
آئی پی او کے لیے درخواست جمع کرانے کا طریقۂ کار
آئی پی او کے ذریعے سرمایہ حاصل کرنے کی خواہش مند کمپنی کے لیے ضروری ہے کہ وہ پراسپیکٹس میں اپنی مالیاتی صورتِ حال، کاروباری منصوبوں اور خطرات سے متعلق معلومات فراہم کرے، تاکہ سرمایہ کار باخبر فیصلے کر سکیں۔ اس عمل کے مختلف مراحل اور متعلقہ فریقوں کی ذمہ داریاں درج ذیل ہیں:
-
الف) کمپنی درست مالیاتی ریکارڈ تیار کرتی ہے اور اپنے کاروبار سے متعلق تمام ضروری معلومات فراہم کرتی ہے۔
-
ب) بیرونی آڈیٹر کمپنی کے مالیاتی گوشواروں کا آڈٹ کرتا ہے۔
-
ج) اجرا کے مشیر (کنسلٹنٹ) کی ذمہ داری ہے کہ وہ جانچ پڑتال کرے، پراسپیکٹس کا مسودہ تیار کرے اور پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں درخواستیں جمع کرائے۔
-
د) پی ایس ایکس کی لسٹنگ کمیٹی درخواستوں کا جائزہ لیتی ہے اور پراسپیکٹس کے مسودے پر عوامی آرا بھی طلب کرتی ہے۔
-
ہ) کمپنی اور اس کا مشیر موصولہ اعتراضات دور کرتے، انکشافات کو اپ ڈیٹ کرتے اور جانچ پڑتال کا سرٹیفکیٹ جمع کراتے ہیں۔ اس مرحلے کا مقصد سرمایہ کاروں کے لیے مکمل شفافیت یقینی بنانا ہے۔
-
و) پی ایس ایکس لسٹنگ کی درخواست پر فیصلہ کرتی ہے، جس کے بعد پراسپیکٹس کی منظوری سے متعلق ایس ای سی پی فیصلہ کرتا ہے۔
منظوری ملنے کے بعد کمپنی منظور شدہ پراسپیکٹس کو ’پرائیڈ‘ (پبلک آفرنگز ریوولیوشنائزڈ تھرو این انٹیگریٹڈ اینڈ ڈیجیٹائزڈ ایکسپیرینس) پلیٹ فارم پر شائع کرتی ہے اور اس کے بعد بک بلڈنگ کا عمل شروع ہو جاتا ہے۔
سیکیورٹیز ایکٹ 2015 کی دفعات 134 اور 136 کے تحت سیکیورٹیز کے لین دین کے لیے دھوکا دہی سے ترغیب دینا اور جھوٹے یا گمراہ کن بیانات دینا قابلِ سزا جرائم ہیں۔






















Comments