BR100 Decreased By (-0%)
BR30 Decreased By (-0.4%)
KSE100 Increased By (0.14%)
KSE30 Increased By (0.05%)
BAFL 55.65 Decreased By ▼ -0.12 (-0.22%)
BIPL 24.41 Increased By ▲ 0.08 (0.33%)
BOP 28.78 Decreased By ▼ -0.03 (-0.1%)
CNERGY 12.85 Increased By ▲ 0.05 (0.39%)
DFML 15.91 Decreased By ▼ -0.17 (-1.06%)
DGKC 182.00 Decreased By ▼ -0.40 (-0.22%)
FABL 91.49 Increased By ▲ 0.09 (0.1%)
FCCL 51.77 Decreased By ▼ -0.22 (-0.42%)
FFL 14.03 Increased By ▲ 0.01 (0.07%)
GGL 19.70 Decreased By ▼ -0.40 (-1.99%)
HBL 290.42 Increased By ▲ 0.98 (0.34%)
HUBC 193.43 Increased By ▲ 0.19 (0.1%)
HUMNL 9.29 Increased By ▲ 0.08 (0.87%)
KEL 6.09 Increased By ▲ 0.18 (3.05%)
LOTCHEM 25.41 Decreased By ▼ -0.41 (-1.59%)
MLCF 89.95 Decreased By ▼ -0.50 (-0.55%)
OGDC 299.10 Decreased By ▼ -3.15 (-1.04%)
PAEL 33.77 Increased By ▲ 0.04 (0.12%)
PIBTL 13.65 Decreased By ▼ -0.06 (-0.44%)
PIOC 231.93 Increased By ▲ 0.85 (0.37%)
PPL 218.87 Decreased By ▼ -0.38 (-0.17%)
PRL 106.95 Increased By ▲ 3.19 (3.07%)
SNGP 90.23 Increased By ▲ 0.10 (0.11%)
SSGC 22.91 Decreased By ▼ -0.11 (-0.48%)
TELE 7.11 Decreased By ▼ -0.12 (-1.66%)
TPLP 11.78 Decreased By ▼ -0.09 (-0.76%)
TRG 56.37 Increased By ▲ 0.90 (1.62%)
UNITY 7.93 Decreased By ▼ -0.11 (-1.37%)
WTL 0.96 Decreased By ▼ -0.02 (-2.04%)
دنیا

کاکروچ موومنٹ کے بانی ایک روز حراست میں رہنے کے بعد رہا، چیف الیکشن کمشنر کے استعفے کا مطالبہ

  • ابھجیت ڈپکے کو جمعے کے روز حراست میں لیا گیا تھا
شائع اپ ڈیٹ

بھارت کی عدالت نے نوجوانوں کی ’کاکروچ‘ تحریک کے رہنما کو رہا کر دیا۔ انہیں ایک روز قبل نئی دہلی میں ایک اور احتجاجی ریلی کی قیادت کرنے کی کوشش پر حراست میں لیا گیا تھا۔ مظاہرین ملک کے چیف الیکشن کمشنر سے استعفے کا مطالبہ کر رہے تھے۔

کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے بانی ابھجیت ڈپکے رواں سال اس وقت نمایاں ہوئے جب کئی ہفتوں تک جاری رہنے والے دھرنے نے بھارت کے وزیر تعلیم کے استعفے میں کردار ادا کیا۔

سی جے پی کے شعبۂ قانونی امور کی سربراہ رتنا سنگھ نے بتایا کہ ڈپکے کو بعض شرائط تسلیم کرنے کے بعد رہا کیا گیا۔ تاہم انہوں نے ان شرائط کی تفصیلات نہیں بتائیں۔

ڈپکے کی نوجوانوں پر مشتمل جماعت، اپوزیشن جماعتوں اور طلبہ تنظیموں نے رواں ماہ تقریباً روزانہ احتجاجی مظاہرے کیے ہیں۔ مظاہرین چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ان کا الزام ہے کہ ووٹر فہرستوں پر نظرثانی کے عمل سے وزیر اعظم نریندر مودی کی بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو فائدہ پہنچایا جا رہا ہے۔

ووٹر فہرستوں پر نظرثانی کے دوران 13 کروڑ سے زائد ووٹروں کے نام خارج کیے گئے۔ الیکشن کمیشن نے کسی بھی سیاسی جماعت کی حمایت کرنے کے الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ جن ووٹروں کے نام غلطی سے خارج ہوئے ہیں، وہ دوبارہ اندراج کرا سکتے ہیں۔

بی جے پی نے مخالفین پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ جائز انتخابی عمل پر بلاجواز سوالات اٹھا کر جمہوریت کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

طلبہ کی سرگرم کارکن نہا بورا کو بھی جمعے کے روز حراست میں لیا گیا تھا۔ وہ اپنے درجنوں حامیوں کے ساتھ وسطی دہلی پہنچنے کی کوشش کر رہی تھیں۔ انہیں ہفتے کے روز رہا کر دیا گیا۔

رہائی کے بعد بورا نے خبر رساں ادارے اے این آئی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا براہِ کرم بھارت کے عوام کو مزید پریشان نہ کریں۔ گیانیش کمار کے خلاف مواخذے کی کارروائی شروع کریں اور ایس آئی آر (خصوصی جامع نظرثانی) کا عمل روکیں، تاکہ اس ملک کے عام شہری سکون کا سانس لے سکیں، اطمینان محسوس کریں اور ان کے حقِ رائے دہی کو یقینی بنایا جا سکے۔

طلبہ تنظیموں کا مزید احتجاجی مظاہروں کا اعلان

ڈپکے کو جمعے کے روز وسطی دہلی میں ایک گھر سے باہر نکلتے وقت حراست میں لیا گیا تھا۔ پولیس اہلکاروں نے مختصر بحث کے بعد انہیں زبردستی پولیس گاڑی میں بٹھایا اور وہاں سے لے گئے۔

ڈپکے نے جمعے کے احتجاج کی اپیل سی جے پی کے ان دو رہنماؤں کی حمایت میں کی تھی جنہیں اسی ہفتے ایک احتجاجی مقام پر پابندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مظاہرہ کرنے کے الزام میں حراست میں لے کر پانچ روز کے لیے جیل بھیج دیا گیا تھا۔

جمعے کے روز اس سے قبل پولیس نے ڈپکے سے ملاقات کرکے انہیں احتجاج جاری رکھنے سے باز رہنے کی تنبیہ کی تھی۔

طلبہ تنظیموں نے ہفتے کے روز مزید احتجاجی سرگرمیوں کی اپیل کی۔

نوجوانوں کی جانب سے شروع کی گئی اور متعدد اپوزیشن جماعتوں کی شمولیت سے وسعت اختیار کرنے والی یہ تحریک، وزیر اعظم نریندر مودی کے 12 سالہ دورِ اقتدار میں مودی اور بی جے پی کو درپیش بڑے سیاسی چیلنجز میں سے ایک بن کر سامنے آئی ہے۔

Comments

200 حروف