وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی بنکاک میں عالمی بینک کے صدر اجے بنگا سے ملاقات
- پاکستان اور عالمی بینک نے ملکی شراکت داری فریم ورک 2026-2035 پر عمل درآمد تیز کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بنکاک میں عالمی بینک اور آئی ایم ایف کے سالانہ اجلاسوں کے موقع پر تھائی لینڈ کے وزیراعظم کی جانب سے دیے گئے عشائیے کے دوران عالمی بینک کے صدر اجے بنگا سے ملاقات کی۔
وزارت خزانہ نے جمعے کو بتایا کہ اس موقع پر سالانہ اجلاسوں کے دوران جاری اعلیٰ سطح کے رابطوں کے ساتھ غیر رسمی تبادلہ خیال کا موقع بھی میسر آیا۔
اس سے قبل اجے بنگا نے کہا تھا کہ عالمی بینک نے اہم معدنیات کے شعبے میں اپنے کاروبار کو پانچ سال کے اندر پانچ گنا بڑھانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ ادارے نے اہم معدنیات کی ترقی کے منصوبوں میں شراکت داری کے لیے 20 ممالک کی نشاندہی بھی کی ہے۔
اجے بنگا نے اجلاس کے ایک عمومی سیشن سے خطاب کے لیے تیار کردہ اپنے بیان میں نئے ہدف کا اعلان کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اہم معدنیات کے شعبے میں عالمی بینک پانچ سال کے اندر اپنا کاروبار پانچ گنا بڑھانے کا ارادہ رکھتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ رواں ہفتے کثیرالجہتی ترقیاتی بینکوں کے شراکت داروں کے ساتھ پہلے ملکی معاہدوں کا آغاز کیا گیا ہے، جن کا مقصد مقامی صنعتوں کو فروغ دینا اور زیادہ سے زیادہ روزگار اور معاشی فوائد متعلقہ ممالک میں برقرار رکھنا ہے۔
عالمی بینک کے نئے منصوبے برائے دھاتیں و معدنیات کے تحت مالی سال 2026 سے 2030 کے دوران اہم معدنیات کے شعبے کے لیے 19 ارب ڈالر کی مالی معاونت فراہم کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے، جبکہ مالی سال 2021 سے 2025 کے دوران اس مد میں 3.6 ارب ڈالر فراہم کیے گئے تھے۔
جمعرات کو پاکستان اور عالمی بینک نے ملکی شراکت داری فریم ورک 2026-2035 پر عمل درآمد تیز کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔ اس سلسلے میں منصوبوں کی تیاری، رعایتی مالی معاونت، انسانی ترقی میں سرمایہ کاری اور موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے کی صلاحیت بڑھانے پر توجہ دی جائے گی۔
یہ پیش رفت وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور اور عالمی بینک گروپ میں پاکستان کے گورنر احد خان چیمہ اور عالمی بینک کی منیجنگ ڈائریکٹر برائے آپریشنز انا بیئرڈے کے درمیان ملاقات کے دوران سامنے آئی۔
وفاقی وزیر نے شراکت داری فریم ورک کے مقاصد کو عملی ترقیاتی نتائج میں تبدیل کرنے کے حکومتی عزم پر زور دیا۔ انہوں نے پیش رفت اور اثرات کا جائزہ لینے کے لیے تکنیکی و مالی معاونت میں اضافے، مختلف شعبوں پر مشتمل مربوط پروگراموں اور ڈیجیٹل نگرانی کے نظام کی ضرورت بھی اجاگر کی۔






















Comments