BR100 Decreased By (-0.97%)
BR30 Decreased By (-1.11%)
KSE100 Decreased By (-0.87%)
KSE30 Decreased By (-1.33%)
BAFL 55.09 Decreased By ▼ -1.21 (-2.15%)
BIPL 24.67 Increased By ▲ 0.02 (0.08%)
BOP 28.71 Decreased By ▼ -0.37 (-1.27%)
CNERGY 12.50 Decreased By ▼ -0.02 (-0.16%)
DFML 16.35 Decreased By ▼ -0.11 (-0.67%)
DGKC 181.80 Decreased By ▼ -2.58 (-1.4%)
FABL 92.10 Decreased By ▼ -0.03 (-0.03%)
FCCL 51.14 Decreased By ▼ -0.98 (-1.88%)
FFL 13.84 Decreased By ▼ -0.19 (-1.35%)
GGL 18.90 Decreased By ▼ -0.35 (-1.82%)
HBL 291.00 Decreased By ▼ -4.76 (-1.61%)
HUBC 194.00 Decreased By ▼ -6.15 (-3.07%)
HUMNL 9.15 Decreased By ▼ -0.23 (-2.45%)
KEL 5.97 Decreased By ▼ -0.08 (-1.32%)
LOTCHEM 26.30 Decreased By ▼ -0.08 (-0.3%)
MLCF 89.50 Decreased By ▼ -1.13 (-1.25%)
OGDC 302.00 Decreased By ▼ -4.12 (-1.35%)
PAEL 33.40 Decreased By ▼ -0.56 (-1.65%)
PIBTL 13.67 Increased By ▲ 0.15 (1.11%)
PIOC 233.00 Decreased By ▼ -2.46 (-1.04%)
PPL 217.50 Decreased By ▼ -1.44 (-0.66%)
PRL 93.90 Increased By ▲ 0.83 (0.89%)
SNGP 89.61 Decreased By ▼ -0.74 (-0.82%)
SSGC 22.77 Decreased By ▼ -0.29 (-1.26%)
TELE 7.09 Decreased By ▼ -0.08 (-1.12%)
TPLP 12.40 Increased By ▲ 0.02 (0.16%)
TRG 54.69 Decreased By ▼ -0.60 (-1.09%)
UNITY 7.68 Decreased By ▼ -0.05 (-0.65%)
WTL 0.98 Decreased By ▼ -0.01 (-1.01%)

وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کی جانب سے تعلیم، صحت، غذائیت، صاف پانی کی فراہمی اور آبادی کے انتظام سے متعلق مسائل کو قومی ہنگامی صورتحال قرار دینے کا مطالبہ جو انہوں نے اڑان پاکستان کے انسانی سرمائے اور مہارتوں کے مشن کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا، پاکستان میں انسانی ترقی کے بحران کی سنگینی کو اجاگر کرتا ہے۔

ناکافی سرمایہ کاری اور ناقص منصوبہ بندی کے علاوہ یہ بحران ایسے طرزِ حکمرانی کی بھی عکاسی کرتا ہے جو پالیسیوں کو مؤثر عوامی خدمات میں تبدیل کرنے سے قاصر ہے۔

اس بحران کی بنیادی وجہ صوبائی حکومتوں کی جانب سے منتخب بلدیاتی اداروں کو بااختیار بنانے، مالی وسائل فراہم کرنے اور ان کے احتساب کو یقینی بنانے میں مکمل ناکامی ہے۔ اس طرزِ عمل نے ناخواندگی کے خاتمے، صحت و غذائیت کی سہولتوں میں بہتری اور آبادی میں اضافے کو منظم کرنے کی کوششوں کو نقصان پہنچایا ہے۔

طرزِ حکمرانی کی ان خامیوں کے ساتھ پاکستان کو آبادی کے سنگین مسئلے کا بھی سامنا ہے جو اس بحران کی شدت میں مزید اضافہ کررہا ہے۔

ملک کی آبادی میں سالانہ 2.55 فیصد کی بے قابو شرح سے اضافے کے باعث اسکولوں، صحت کی سہولتوں، غذائیت اور روزگار کی طلب اس رفتار سے بڑھ رہی ہے کہ ریاست ان ضروریات کو پورا کرنے کے لیے سہولتوں کا دائرہ اتنی تیزی سے وسیع نہیں کر پارہی۔

تاہم یکے بعد دیگرے آنے والی حکومتیں آبادی سے متعلق اپنی پالیسیوں کو ملک کے نظامِ حکمرانی اور وسائل کی تقسیم میں موجود ترغیبی عوامل سے ہم آہنگ کرنے میں ناکام رہی ہیں۔ مثال کے طور پراین ایف سی ایوارڈ کے تحت صوبوں کے درمیان وسائل کی تقسیم کے فارمولے میں آبادی کو 82 فیصد وزن حاصل ہے جبکہ پارلیمانی نمائندگی اور سرکاری ملازمتوں کے کوٹے بھی براہِ راست یا بالواسطہ طور پر آبادی کے حجم سے منسلک ہیں۔

اس نوعیت کے انتظامات انسانی ترقی میں بہتری کو مناسب اہمیت دیے بغیر آبادی میں اضافے کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ ریاست آبادی کے بحران کو قومی ہنگامی صورتحال قرار دینے کا مؤثر جواز پیش نہیں کرسکتی، جب تک وہ ایسے نظام برقرار رکھتی ہے جو ترقیاتی نتائج کے مقابلے میں آبادی کے اعدادوشمار کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔

اس پالیسی اور طرزِ حکمرانی کے نتائج پاکستان کے انسانی ترقی کے مایوس کن اشاریوں سے واضح ہیں۔

انسانی ترقی کے اشاریے میں 193 ممالک میں 168ویں نمبر پر موجود پاکستان کا انسانی سرمائے کا اشاریہ محض 0.41 ہے جس کا مطلب ہے کہ آج پیدا ہونے والا بچہ مستقبل میں اپنی پیداواری صلاحیت کا صرف 41 فیصد حاصل کر سکے گا۔ تقریباً 2 کروڑ 60 لاکھ بچے اب بھی اسکولوں سے باہر ہیں جبکہ 40.2 فیصد بچوں کی نشوونما غذائی قلت کے باعث متاثر ہے اور ہر ایک لاکھ زندہ پیدائشوں پر زچگی کے دوران اموات کی شرح 186 ہے۔ یہ تمام اعدادوشمار خطے کے بدترین اشاریوں میں شمار ہوتے ہیں جو سماجی محرومی، پیداواری صلاحیت کے ضیاع، آمدنی کمانے کے محدود امکانات اور معاشی ترقی کی بنیادوں کو کمزور کرنے کی عکاسی کرتے ہیں۔

اس صورتحال کو بدلنے کے لیے ایسے نظامِ حکمرانی کی ضرورت ہے جو وسائل اور پالیسی وعدوں کو عوام کی زندگیوں میں ٹھوس بہتری میں تبدیل کر سکے۔

یہیں اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کا معاملہ اہمیت اختیار کرجاتا ہے۔ اٹھارہویں آئینی ترمیم کا مقصد صوبوں کو وسیع تر اختیارات اور ذمہ داریاں منتقل کرکے فیصلہ سازی کو شہریوں کے قریب لانا تھا۔

تاہم 16 سال گزرنے کے باوجود پیشرفت توقعات سے کہیں کم رہی ہے۔ جیسا کہ وزیر منصوبہ بندی نے بھی نشاندہی کی، ایک صوبائی سیکریٹری پورے صوبے کی ضروریات مؤثر انداز میں پوری نہیں کر سکتا۔ اکثر ایسا ہوا ہے کہ اسلام آباد سے منتقل ہونے والے اختیارات صوبائی دارالحکومتوں تک محدود ہو کر رہ گئے جبکہ اضلاع اپنے اسکولوں، صحت کی سہولتوں اور بنیادی خدمات سے متعلق فیصلوں کے لیے دور بیٹھے افسر شاہی کے اداروں کے محتاج ہیں۔

بااختیار مقامی اداروں کے بغیر وسائل اور احتساب کو اس سطح تک نہیں پہنچایا جا سکتا جہاں عوامی ضروریات کی نشاندہی، ترجیحات کا تعین اور کارکردگی کی مؤثر نگرانی ممکن ہو۔

صوبائی حکومتوں کو حقیقی معنوں میں نمائندہ بلدیاتی نظام قائم کرنے اور اسے برقرار رکھنے میں ناکامی پر جواب دہ ہونا چاہیے۔ اختیارات کی منتقلی کا مطلب محض افسر شاہی کے مختلف درجوں کے درمیان طاقت کی منتقلی نہیں ہونا چاہیے۔ منتخب بلدیاتی اداروں کو مستقل اور قابلِ پیش گوئی مالی وسائل، انتظامی خودمختاری اور بنیادی سطح پر خدمات فراہم کرنے والے اداروں کا احتساب کرنے کے اختیارات دیے جانے چاہئیں تاکہ وہ سہولتوں سے محروم آبادیوں کی نشاندہی اور مقامی ضروریات کے مطابق خدمات کی فراہمی یقینی بناسکیں۔

لہٰذا قومی ہنگامی صورتحال کا اعلان بنیادی نوعیت کی اصلاحات کا محرک بننا چاہیے۔ وفاقی حکومت شواہد پر مبنی منصوبہ بندی، قومی معیار کے تعین اور رابطہ کاری کی ذمہ داری ادا کرے جبکہ صوبائی حکومتیں بجٹ اور انتظامی اختیارات نچلی سطح تک منتقل کریں۔

آبادی میں استحکام لانے کے اقدامات بھی اس کوشش کا لازمی حصہ ہونے چاہئیں، جن میں رضاکارانہ خاندانی منصوبہ بندی، تولیدی صحت کی سہولتوں، لڑکیوں کی تعلیم اور عوامی آگاہی کو فروغ دینا شامل ہے۔ اسی طرح این ایف سی کے وسائل کی تقسیم کے فارمولے میں محض آبادی کے حجم کے بجائے آبادی کے انتظام اور انسانی ترقی میں قابلِ پیمائش بہتری کو بھی اہمیت دی جانی چاہیے۔

پاکستان اس وقت تک پائیدار معاشی اور سماجی ترقی حاصل نہیں کرسکتا جب تک آبادی میں اضافہ اس کی لوگوں کو تعلیم دینے، روزگار فراہم کرنے اور ان کی دیکھ بھال کرنے کی صلاحیت سے زیادہ تیز رفتار رہے گا۔ ہنگامی صورتحال کو تسلیم کرلیا گیا ہے، اب ضرورت بامعنی اختیارات کی منتقلی، جواب دہ طرزِ حکمرانی اور عوام کی زندگیوں میں ٹھوس بہتری لانے کی ہے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026

Comments

200 حروف