امریکا نے مائیکروسافٹ سمیت بڑی آئی ٹی کمپنیوں کو اہم گرین کارڈ پروگرام سے معطل کردیا
- مائیکروسافٹ اور ایڈوب سمیت بڑی آئی ٹی کمپنیوں کو مبینہ دھوکا دہی کے باعث غیر ملکی کارکنوں کے امریکی پروگرام سے معطل کیا گیا، اقدام کا مقصد امریکیوں کے لیے روزگار کے مواقع بڑھانا ہے
امریکی حکومت نے مائیکروسافٹ، ایڈوب اور کئی بڑی آئی ٹی کمپنیوں کو ایسے پروگرام سے معطل کردیا ہے جس کے تحت ہنرمند غیر ملکی کارکن مستقل رہائش حاصل کرسکتے ہیں۔ اعلیٰ امریکی حکام نے جمعرات کو بتایا کہ یہ اقدام مبینہ دھوکا دہی کے باعث اور کمپنیوں کو مزید امریکی شہریوں کو ملازمتیں دینے پر آمادہ کرنے کی کوشش کے طور پر کیا گیا ہے۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا، ’’مائیکروسافٹ کے لیے ہمارا پیغام یہ ہے کہ آپ ایک عظیم امریکی کمپنی ہیں، لیکن آپ کو بہترین امریکی کارکنوں کو ملازمت دینا ہوگی۔‘‘
وزیر محنت کیتھ سونڈر لنگ نے مزید کہا کہ دنیا کی بعض بڑی آئی ٹی کمپنیوں کو بھی اس پروگرام سے معطل کیا جائے گا، جن میں کوگنیزینٹ، انفوسس، ٹاٹا، وِپرو، ایچ سی ایل اور کیپ جیمینی شامل ہیں۔
سونڈر لنگ نے کہا، ’’ہم ان کمپنیوں سے متعلق نئی مستقل ملازمت کی تصدیق کی درخواستیں قبول نہیں کریں گے اور نہ ہی زیرِ التوا درخواستوں پر کارروائی کریں گے۔‘‘
مائیکروسافٹ نے تبصرے کے لیے کی گئی درخواست کا فوری طور پر جواب نہیں دیا۔
پی ای آر ایم عمل کے تحت آجر محکمہ محنت سے اس بات کی تصدیق حاصل کرتے ہیں کہ کسی مخصوص ملازمت کے لیے کوئی اہل، رضامند یا دستیاب امریکی کارکن موجود نہیں ہے۔ زیادہ تر ملازمت کی بنیاد پر گرین کارڈ کے لیے درخواست دینے سے قبل یہ ایک لازمی مرحلہ ہے۔
وینس نے مزید کہا کہ ہارورڈ، ییل اور اسٹینفورڈ سمیت نو جامعات کے خلاف بھی تحقیقات کی جائیں گی کہ آیا انہوں نے امریکی اجرتوں کو کم کرنے کے لیے بین الاقوامی طلبہ کو ملک میں لایا۔ محکمہ محنت کے انسپکٹر جنرل انتھونی ڈی ایسپوزیٹو نے کہا کہ ان جامعات کو پہلے ہی طلب نامے جاری کیے جاچکے ہیں۔
ڈی ایسپوزیٹو نے کہا، ’’ہم یہ تحقیقات کریں گے کہ آیا غیر ملکی اثر و رسوخ، نامناسب مالیاتی تعلقات یا ویزا کے غلط استعمال سے وفاقی فنڈز سے چلنے والی تحقیق متاثر ہورہی ہے۔ اگر کوئی امریکی یونیورسٹی ایک ڈالر کی بچت کے لیے قانون توڑتے ہوئے امریکی تحقیق کو کسی غیر ملکی حریف کے خطرے سے دوچار کرتی ہے تو یہ علمی برتری نہیں بلکہ ادارہ جاتی غداری ہے۔‘‘























Comments