نابالغوں کا تحفظ، 16 سال سے آگے بھی
- صوبائی گداگری قانون کے تحت عمر کی حد 14 سال سے بڑھا کر 16 سال کرنے کا پنجاب حکومت کا فیصلہ خوش آئند ہے
صوبائی گداگری قانون کے تحت عمر کی حد 14 سال سے بڑھا کر 16 سال کرنے کا پنجاب حکومت کا فیصلہ ایک خوش آئند، اگرچہ تاخیر سے کیا گیا، اصلاحی اقدام ہے۔
یہ تبدیلی ایک واضح حقیقت کو تسلیم کرتی ہے کہ گداگری میں ملوث نوجوان اکثر سماجی خلل پیدا کرنے والے افراد کے بجائے حالات اور استحصال کا شکار ہوتے ہیں۔
بچوں کو گداگری میں ملوث کرنے والے والدین اور سرپرستوں کے لیے سخت سزاؤں کے ساتھ ساتھ بحالی اور معاشرے میں دوبارہ انضمام کی دفعات بھی درست سمت میں اقدامات ہیں اور ایسے مسئلے کے لیے زیادہ انسانی طرزِ عمل کی نمائندگی کرتی ہیں جسے اکثر بنیادی طور پر امن و امان کا مسئلہ سمجھا جاتا ہے۔
تاہم یہ اصلاح اس مقام سے آگے نہیں بڑھتی جہاں اسے پہنچنا چاہیے تھا۔ قانون کو بچے اور نابالغ کے درمیان واضح فرق قائم کرنا چاہیے، جبکہ یہ تسلیم کرنا چاہیے کہ استحصال سے تحفظ کے مقصد کے لیے 18 سال سے کم عمر ہر فرد کو قانون کا تحفظ حاصل ہونا ضروری ہے۔
نئی حد کے طور پر 16 سال کا انتخاب درست ثابت کرنا مشکل ہے۔ محض انتظامی طور پر عمر کی ایک حد عبور کرنے سے 16 سالہ نوجوان 15 سالہ نوجوان کے مقابلے میں جبر، استحصال یا بدسلوکی کا شکار ہونے کے خطرے سے نمایاں طور پر کم متاثر نہیں ہوجاتا۔
درحقیقت 16 اور 17 سال کی عمر کے نوجوان استحصالی کام، بشمول گداگری، کے لیے خاص طور پر غیر محفوظ ہوسکتے ہیں۔ وہ کم عمر بچوں کے مقابلے میں جسمانی طور پر زیادہ قابل ہوسکتے ہیں، لیکن وہ اب بھی بالغ نہیں ہوتے اور ان کے پاس استحصال کے خلاف مزاحمت کرنے کے لیے ضروری خودمختاری، وسائل اور تحفظ موجود بھی نہیں ہوسکتا ہے۔
یہ ترمیم قانون کے انتظامی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کے حوالے سے بھی قابل ذکر ہے۔
مجوزہ کنٹرولر کو صوبے بھر میں انسدادِ گداگری کی کارروائیوں میں رابطہ کاری، ویلفیئر ہومز اور بحالی مراکز کی نگرانی، مرکزی ڈیٹا بیس برقرار رکھنے، اور بحالی و معاشرے میں دوبارہ انضمام کی نگرانی کی ذمہ داری دی جائے گی۔ ایسے انتظامات مستقل مزاجی اور جوابدہی میں بہتری لاسکتے ہیں، بشرطیکہ ان کے ساتھ مناسب نگرانی اور حراست میں لیے جانے والے افراد کے لیے مناسب حفاظتی اقدامات بھی موجود ہوں۔
تاہم اس سے بھی بنیادی سوال یہ ہے کہ ریاست گداگری کرتے ہوئے پائے جانے والے بچوں کو کس نظر سے دیکھتی ہے۔ انہیں انسدادِ گداگری مہم کے اعدادوشمار تک محدود نہیں کیا جانا چاہیے، اور نہ ہی سڑکوں پر ان کی موجودگی خودبخود انہیں سزا پر مبنی کارروائی کا موضوع بنادینی چاہیے۔ ٹریفک سگنل پر گداگری کرنے والا بچہ غربت، غفلت، خاندانی دباؤ یا منظم استحصال کا شکار ہوسکتا ہے۔
لہٰذا مناسب ردعمل میں ان بچوں کا تحفظ، تعلیم اور بحالی شامل ہونی چاہیے، جبکہ بچوں کا استحصال کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی بھی کی جانی چاہیے۔
یہ معاملہ بالخصوص 16 اور 17 سال کے نوجوانوں کے حوالے سے اہم ہے۔ اگر قانون یہ تسلیم کرتا ہے کہ 18 سال سے کم عمر نوجوان بدستور غیر محفوظ اور خصوصی حفاظتی اقدامات کے محتاج ہوسکتے ہیں تو انہیں گداگری کے قانون کے دائرۂ کار سے باہر رکھنے کی کوئی خاص وجہ نہیں۔
زیادہ مربوط طریقہ یہ ہوگا کہ استحصال سے تحفظ کے مقصد کے لیے 18 سال سے کم عمر تمام افراد کو نابالغ تسلیم کیا جائے، جبکہ نفاذِ قانون کی ذمہ داری ان افراد پر عائد کی جائے جو انہیں گداگری کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
عمر کی حد 14 سے بڑھا کر 16 سال کرنا ایک قدم آگے ہے۔ لیکن حکومت کو اس سے آگے بڑھتے ہوئے یہ یقینی بنانا چاہیے کہ کوئی بھی نابالغ صرف اس وجہ سے قانون کے حفاظتی دائرے سے باہر نہ رہ جائے کہ اس نے 16 سال کی عمر عبور کرلی ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026























Comments