BR100 Increased By (0.13%)
BR30 Increased By (0.41%)
KSE100 Increased By (0.07%)
KSE30 Increased By (0.09%)
BAFL 56.87 Increased By ▲ 0.11 (0.19%)
BIPL 24.76 Increased By ▲ 0.05 (0.2%)
BOP 29.80 Increased By ▲ 0.08 (0.27%)
CNERGY 12.73 Decreased By ▼ -0.20 (-1.55%)
DFML 16.97 Increased By ▲ 0.06 (0.35%)
DGKC 186.25 Decreased By ▼ -0.72 (-0.39%)
FABL 93.38 Decreased By ▼ -0.15 (-0.16%)
FCCL 52.16 Increased By ▲ 0.31 (0.6%)
FFL 14.00 Increased By ▲ 0.01 (0.07%)
GGL 19.73 Increased By ▲ 0.47 (2.44%)
HBL 302.02 Decreased By ▼ -0.81 (-0.27%)
HUBC 200.49 Decreased By ▼ -0.84 (-0.42%)
HUMNL 9.32 Increased By ▲ 0.05 (0.54%)
KEL 6.04 Increased By ▲ 0.45 (8.05%)
LOTCHEM 25.59 Decreased By ▼ -0.13 (-0.51%)
MLCF 90.90 Decreased By ▼ -0.39 (-0.43%)
OGDC 315.91 Decreased By ▼ -1.14 (-0.36%)
PAEL 34.06 Increased By ▲ 0.08 (0.24%)
PIBTL 13.51 Decreased By ▼ -0.06 (-0.44%)
PIOC 236.45 Decreased By ▼ -0.19 (-0.08%)
PPL 220.29 Decreased By ▼ -0.83 (-0.38%)
PRL 94.32 Decreased By ▼ -0.06 (-0.06%)
SNGP 90.99 Increased By ▲ 0.30 (0.33%)
SSGC 23.17 Increased By ▲ 0.10 (0.43%)
TELE 7.28 Increased By ▲ 0.04 (0.55%)
TPLP 11.90 Increased By ▲ 0.16 (1.36%)
TRG 56.49 Increased By ▲ 1.15 (2.08%)
UNITY 7.72 Decreased By ▼ -0.03 (-0.39%)
WTL 1.00 No Change ▼ 0.00 (0%)
پاکستان

بس بہت ہوگیا، خیبر پختونخوا کو ’طالبان کے حامیوں‘ کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جاسکتا، وزیر دفاع

  • سکیورٹی صورتحال کے بجائے سیاسی لانگ مارچ پر توجہ دینے پر وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور ان کی کابینہ پر تنقید
شائع اپ ڈیٹ

وزیر دفاع خواجہ آصف نے خیبر پختونخوا کی سکیورٹی صورتحال پر ’’اہم فیصلے‘‘ کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبے کو مزید ’’نااہل، بے حس حکمرانوں اور طالبان کے حامیوں‘‘ کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جاسکتا۔

خواجہ آصف نے ایکس پر جاری بیان میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی زیرقیادت صوبائی حکومت پر دہشت گردی کے معاملے سے ’’مکمل لاتعلقی‘‘ کا الزام عائد کیا اور وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور ان کی کابینہ کو سکیورٹی صورتحال کے بجائے سیاسی لانگ مارچ پر توجہ مرکوز کرنے پر تنقید کا نشانہ بنایا۔

وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ ’’خیبر پختونخوا کے عوام کا بہت خون بہہ چکا ہے‘‘، اور صوبائی حکومت اور دہشت گردوں کے درمیان ’’مکمل گٹھ جوڑ‘‘ کا الزام عائد کیا۔

انہوں نے 6 اکتوبر کو ڈیرہ اسماعیل خان میں ہونے والے حملے کا حوالہ دیا، جس میں کسٹمز کے دو اہلکاروں سمیت 5 افراد جاں بحق ہوئے، اور صوبائی حکومت کو واقعے کی مذمت نہ کرنے اور متاثرہ خاندانوں سے تعزیت نہ کرنے پر تنقید کا نشانہ بنایا۔

خواجہ آصف نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ وزیراعلیٰ نے رات گئے اجلاس طلب کیا تھا تاکہ گورنر کی جانب سے بلائے گئے سکیورٹی اجلاس میں شرکت کرنے پر انسپکٹر جنرل پولیس اور چیف سیکریٹری کو ڈانٹ سکیں۔

انہوں نے کہا، ’’اب وقت آگیا ہے کہ اہم فیصلے کیے جائیں۔ خیبر پختونخوا کو مزید نااہل، بے حس حکمرانوں اور طالبان کے حامیوں کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جاسکتا۔‘‘

وزیر دفاع نے مزید خبردار کیا کہ ملک کے اتحاد کو خطرے میں نہیں ڈالا جاسکتا اور پورے صوبے کو یرغمال نہیں بنایا جاسکتا۔

پی ٹی آئی حکومت کے دور کا موازنہ کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی قیادت نے جیلیں کاٹیں، تاہم پارلیمانی کردار جاری رکھا اور سیاسی تنازعات کو آئینی و قانونی فورمز پر حل کرنے کی کوشش کی۔

انہوں نے پی ٹی آئی پر ملک اور اداروں کو ’’یرغمال‘‘ بنانے کا الزام عائد کیا اور کہا کہ اس نے طالبان کے ساتھ اتحاد کیا۔

خواجہ آصف نے کہا، ’’بس بہت ہوگیا۔‘‘

Comments

200 حروف