غم سے نڈھال غزہ کے بے گھر فلسطینی بیرون ملک واپسی کے منتظر
- ایک لاکھ سے زائد فلسطینی غزہ چھوڑ کر بیرون ملک منتقل ہوئے، جو اب بھی واپسی کے منتظر ہیں
غزہ میں اسرائیلی فضائی حملے کے نتیجے میں اپنے خاندان کے بیشتر افراد سے محروم ہونے والے عمر الحسینہ تین سال گزرنے کے باوجود مصر میں قیام پذیر ہیں اور اپنے تباہ حال وطن میں واپسی کے لیے استحکام، سکیورٹی اور تعمیر نو کے منتظر ہیں۔
فلسطینی اتھارٹی کے اعداد و شمار کے مطابق 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے اسرائیل پر حملے کے بعد شروع ہونے والی جنگ کے دوران ایک لاکھ سے زائد فلسطینی غزہ چھوڑ کر بیرون ملک منتقل ہوئے، جو اب بھی واپسی کے منتظر ہیں۔
عمر الحسینہ نے کہا کہ وہ مصر میں ہیں تاہم غزہ کو نہیں بھولے۔ وہ اس وقت کے منتظر ہیں جب غزہ میں استحکام آئے تاکہ وہ اپنے ملک واپس جا کر مثبت اور تعمیری کردار ادا کرسکیں۔
غزہ میں جنگ بندی کو تقریباً ایک سال گزرنے کے باوجود تعمیر نو کے عمل میں خاطر خواہ پیش رفت نہیں ہوسکی۔ اسرائیلی فورسز اب بھی غزہ کے 60 فیصد سے زائد علاقے پر قابض ہیں اور تقریباً روزانہ فضائی حملے کرتی ہیں، جبکہ حماس فلسطینی آبادی کے زیر استعمال بیشتر علاقوں کو کنٹرول کرتی ہے۔
فلسطینی حکام کے مطابق 22 نومبر 2023 کو اسرائیلی حملوں میں غزہ سٹی کی رہائشی عمارتوں کے ایک مجموعے کی تباہی کے نتیجے میں الحسینہ کے خاندان کے 308 افراد مارے گئے، جن میں ان کی اہلیہ، چار بالغ بیٹے اور چار کم سن پوتے پوتیاں بھی شامل تھے۔
اگست میں الحسینہ نے قاہرہ سے ویڈیو کے ذریعے اپنے 112 رشتہ داروں کی تدفین دیکھی، جن کی لاشیں ملبے سے نکالی گئی تھیں، جبکہ درجنوں افراد اب بھی لاپتا ہیں۔
غزہ چھوڑنے والے افراد کو روانگی سے قبل اسرائیل اور مصر کی جانب سے جانچ پڑتال سے گزرنا پڑا تھا۔ تاہم اب تک تقریباً 7 ہزار فلسطینی واپس غزہ جا سکے ہیں۔ الحسینہ کا کہنا ہے کہ اگر غزہ میں جامع معاہدہ طے پا جائے اور تعمیر نو شروع ہوجائے تو وہ واپسی میں تاخیر نہیں کریں گے۔


















Comments