پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچوئلز فورم کے صدر میاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ پاکستان کو ماہی گیری اور آبی زراعت کو محض روایتی ماہی گیری کے طور پر دیکھنے کے بجائے اسے جدید، برآمدات پر مبنی اور ویلیو ایڈڈ بلیو اکانومی کے شعبے کے طور پر ترقی دینا ہوگی۔
اس مقصد کے حصول کے لیے وفاقی اور صوبائی اداروں کے درمیان مؤثر رابطہ و تعاون، کشتیوں اور شکار کی جانے والی مچھلی کی مکمل ٹریس ایبلٹی، عالمی معیار کے سرٹیفکیشن اور فوڈ سیفٹی نظام، جدید بندرگاہیں، پائیدار ماہی گیری کا انتظام اور نجی شعبے کے لیے آسان فنانسنگ کو ترجیحی بنیادوں پر یقینی بنانا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ خام مچھلی کی برآمد کے بجائے پراسیس شدہ، منجمد، پیک شدہ اور ویلیو ایڈڈ سمندری خوراک کی مصنوعات کی برآمد پر توجہ مرکوز کرنے سے نہ صرف پاکستان کی موجودہ منڈیوں تک رسائی میں اضافہ ہوگا بلکہ نئی عالمی منڈیوں کے دروازے بھی کھلیں گے۔
میاں زاہد حسین، جو آل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر، نیشنل بزنس گروپ پاکستان کے چیئرمین اور ایف پی سی سی آئی پالیسی ایڈوائزری بورڈ کے چیئرمین بھی ہیں نے کہا کہ چیمبر پالیسی تحقیق اور نجی شعبے کے تجربے کی بنیاد پر سرمایہ کاری اور برآمدات کے فروغ کے لیے حکومت کو قابلِ عمل تجاویز فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔
























Comments