BR100 Decreased By (-0.6%)
BR30 Decreased By (-1.16%)
KSE100 Decreased By (-0.56%)
KSE30 Decreased By (-0.54%)
BAFL 56.91 Increased By ▲ 0.04 (0.07%)
BIPL 24.91 Decreased By ▼ -0.05 (-0.2%)
BOP 30.07 Decreased By ▼ -0.28 (-0.92%)
CNERGY 12.95 Decreased By ▼ -0.17 (-1.3%)
DFML 17.49 Increased By ▲ 1.59 (10%)
DGKC 187.85 Decreased By ▼ -4.60 (-2.39%)
FABL 93.78 Decreased By ▼ -0.36 (-0.38%)
FCCL 52.00 Decreased By ▼ -0.79 (-1.5%)
FFL 14.47 Decreased By ▼ -0.25 (-1.7%)
GGL 19.03 Decreased By ▼ -0.53 (-2.71%)
HBL 305.55 Decreased By ▼ -0.55 (-0.18%)
HUBC 199.99 Decreased By ▼ -1.43 (-0.71%)
HUMNL 9.98 Decreased By ▼ -0.18 (-1.77%)
KEL 6.13 Increased By ▲ 0.04 (0.66%)
LOTCHEM 26.25 Decreased By ▼ -0.21 (-0.79%)
MLCF 91.38 Decreased By ▼ -1.78 (-1.91%)
OGDC 314.19 Decreased By ▼ -2.54 (-0.8%)
PAEL 35.19 Decreased By ▼ -0.44 (-1.23%)
PIBTL 14.67 Decreased By ▼ -0.01 (-0.07%)
PIOC 239.99 Decreased By ▼ -3.22 (-1.32%)
PPL 222.11 Decreased By ▼ -4.80 (-2.12%)
PRL 90.90 Decreased By ▼ -2.12 (-2.28%)
SNGP 90.70 Decreased By ▼ -1.14 (-1.24%)
SSGC 23.30 Decreased By ▼ -0.51 (-2.14%)
TELE 7.58 Decreased By ▼ -0.22 (-2.82%)
TPLP 12.65 Decreased By ▼ -0.32 (-2.47%)
TRG 56.48 Decreased By ▼ -0.08 (-0.14%)
UNITY 8.04 Decreased By ▼ -0.03 (-0.37%)
WTL 1.02 Increased By ▲ 0.01 (0.99%)
پاکستان

کاروباری رہنماؤں کا کراچی کی معیشت کی بحالی کے لیے اصلاحات کا مطالبہ

  • فاروق افضل کا کہنا ہے کہ مسابقت برقرار رکھنے کیلئے شہر کے کاروبار کو قابلِ اعتماد انفرااسٹرکچر اور سازگار ماحول درکار ہے
شائع اپ ڈیٹ

کاروباری اور سیاسی و سماجی رہنماؤں نے کراچی کی معیشت کی بحالی کے لیے بلدیاتی نظام مضبوط بنانے، سڑکوں کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر کرنے، توانائی کے اخراجات کم کرنے، ٹیکسوں کا بوجھ گھٹانے، شہری مسائل حل کرنے، اسٹریٹ کرائم کے خلاف کارروائی اور معیشت کے فروغ کے لیے ضروری اصلاحات متعارف کرانے پر زور دیا ہے۔

معروف برآمد کنندہ اور سائٹ ایسوسی ایشن آف انڈسٹری (ایس اے آئی) کے صدر عبدالرحمٰن فدا نے کہا کہ کسی ایک شعبے میں الگ تھلگ اقدامات سے مسائل حل نہیں ہوسکتے۔ کاروباری اور صنعتی ترقی کے لیے قومی سطح پر کاروبار اور صنعت دوست پالیسیاں ضروری ہیں، جن میں مناسب توانائی کی قیمتیں، کم کارپوریٹ ٹیکس اور مجموعی طور پر سازگار کاروباری ماحول شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بالخصوص کراچی کے لیے صوبائی و بلدیاتی حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مکمل معاونت درکار ہے، تاکہ بہتر انفرااسٹرکچر، مؤثر امن و امان، پانی کی مناسب فراہمی اور صنعتی علاقوں کو مختلف سرکاری محکموں کی ہراسانی سے پاک رکھنے کو یقینی بنایا جاسکے۔

عبدالرحمٰن فدا نے کہا کہ سب سے اہم ضرورت صنعتی علاقوں کی ایسوسی ایشنز کو اپنے متعلقہ علاقوں کی ملکیت اور انتظامی اختیار دینا ہے، جیسا کہ کورنگی، ایف بی ایریا اور نارتھ کراچی میں ڈویلپمنٹ اینڈ مینجمنٹ کمپنیوں (ڈی ایم سیز) کے ذریعے کیا گیا ہے۔ یہ کمپنیاں اپنے علاقوں کی دیکھ بھال اور ترقی کی ذمہ دار اور مجاز ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کراچی کے سائٹ ایریا کے لیے بھی ایسا ہی نظام درکار ہے۔

انہوں نے کہا کہ بنیادی مسئلہ ناقص طرز حکمرانی ہے اور یہ تمام مسائل صوبائی و بلدیاتی حکومتوں کے دائرہ کار میں آتے ہیں، جہاں مکمل ناکامی نظر آتی ہے۔ ان کے مطابق نااہلی کے علاوہ اکثر اداروں میں ارادے کی بھی کمی نظر آتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ قانون کی حکمرانی بحال کرنے کے لیے سیاسی قیادت، انتظامیہ اور سیکیورٹی اداروں کے درمیان ہم آہنگی ضروری ہے۔ ان کے بقول ای ٹریفک چالان کا کامیاب نفاذ متعلقہ حکام کی عزم اور فیصلہ سازی کی اچھی مثال ہے۔

معروف صنعت کار ڈاکٹر محمد فاروق افضل نے کہا کہ کراچی پاکستان کی معاشی سرگرمیوں کا انجن ہے مگر مسابقت برقرار رکھنے کے لیے شہر کے کاروباری اور صنعتی علاقوں کو قابلِ اعتماد انفرااسٹرکچر اور سازگار ماحول کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ترقیاتی فنڈز صنعتی ایسوسی ایشنز کی مشاورت سے سڑکوں، نکاسی آب، پانی، سیوریج اور دیگر بنیادی سہولتوں پر خرچ کیے جانے چاہئیں۔

انہوں نے زور دیا کہ صنعت کو بلاتعطل اور مسابقتی نرخوں پر بجلی اور گیس بھی فراہم کی جائے۔ کراچی میں کاروباری ضوابط آسان، بندرگاہوں سے رابطہ مؤثر، پبلک ٹرانسپورٹ بہتر اور برآمدات و سرمایہ کاری کے لیے معاونت مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔ حکومت، بلدیاتی اداروں اور کاروباری قیادت پر مشتمل مستقل رابطہ نظام قائم کرکے اقدامات پر عمل درآمد اور جواب دہی یقینی بنائی جانی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ کراچی کے مسائل الگ تھلگ یا عارضی اقدامات سے حل نہیں ہوسکتے، شہر کو مضبوط طرز حکمرانی اور مربوط اقدامات کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق پولیس کو مقامی، جدید، سیاسی مداخلت سے آزاد اور جواب دہ ہونا چاہیے، جبکہ اسٹریٹ کرائم، ڈکیتیوں اور بھتہ خوری کی روک تھام کے لیے انٹیلی جنس کی بنیاد پر پولیسنگ اور نگرانی کا نظام مؤثر بنایا جائے۔

انہوں نے کہا کہ زمین کے ریکارڈ کو ڈیجیٹل بنایا جائے اور غیرقانونی قبضوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ ٹریفک قوانین بلاامتیاز نافذ کیے جائیں، جبکہ ماس ٹرانزٹ اور سڑکوں کے بنیادی ڈھانچے میں فوری بہتری لائی جائے۔ بجلی، گیس اور پانی بنیادی ضروریات ہیں۔ سب سے بڑھ کر کراچی کو بااختیار شہری انتظامیہ کی ضرورت ہے، جس کے پاس واضح اختیارات، مناسب وسائل اور خدمات کی فراہمی کے حوالے سے جواب دہی ہو۔

پاکستان مسلم لیگ فنکشنل (پی ایم ایل ایف) سندھ کے جنرل سیکریٹری سردار عبدالرحیم نے کہا کہ بڑے پیمانے پر بدعنوانی کے خاتمے، بلدیاتی نظام کو مضبوط بنانے اور معیاری تعلیم کی فراہمی کے ذریعے کراچی تیزی سے ترقی کرسکتا ہے، جس سے ملک کی مجموعی معیشت کے ساتھ کراچی کی معیشت بھی مضبوط ہوگی۔

انہوں نے سندھ میں 18 سال سے برسراقتدار جماعت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے بہتر طرز حکمرانی کا مطالبہ کیا اور کہا کہ تمام جرائم پیشہ عناصر کا خاتمہ کرکے مؤثر امن و امان بحال کیا جائے۔ ان کے مطابق سخت اور دیانتدار انتظامیہ کراچی کو ڈاکوؤں، قبضہ مافیا اور مختلف سرپرستی حاصل کرنے والے مافیاز سے نجات دلانے میں کردار ادا کرسکتی ہے، جبکہ انہوں نے کراچی کے مسائل کا ذمہ دار سندھ کے وزیراعلیٰ کو قرار دیا۔

زراعت سے وابستہ اور مسلم لیگ (ن) کے سینئر نائب صدر شاہ محمد شاہ نے کہا کہ ملک بھر سے لوگ کراچی کا رخ کرتے ہیں۔ انہوں نے وفاقی سے صوبائی حکومت اور صوبائی حکومت سے بلدیاتی نظام تک مقامی حکومت کے بہتر نظام کی ضرورت پر زور دیا۔

انہوں نے عوام پر زور دیا کہ وہ باقاعدگی سے ٹیکس ادا کریں، محنت کش طبقے کو سہولتیں فراہم کی جائیں، ملک کے کاروباری مرکز میں آبادی کے بڑھتے ہوئے دباؤ کو کنٹرول کیا جائے، سندھ میں زیرِ تکمیل موٹرویز مکمل کی جائیں، روزگار کے مواقع پیدا کیے جائیں اور شہریوں کے لیے ہموار سفری سہولت یقینی بنائی جائے۔

Comments

200 حروف