بجلی کی مسابقتی منڈی
- بجلی کا شعبہ اب سنگل بائر ماڈل سے مسابقتی تھوک مارکیٹ کی جانب منتقل ہورہا ہے، جہاں خریدار اور سپلائرز براہِ راست دوطرفہ معاہدے کرسکیں گے
بجلی کے شعبے کو جزوی طور پر ڈی ریگولیٹ کرنے کا اعلان ایک مثبت پیش رفت ہے۔ اگرچہ مجوزہ نظام کی مخصوص تفصیلات ابھی منظرعام پر نہیں لائی گئیں مگر مصنف کا کہنا ہے کہ اشیا اور خدمات بشمول توانائی کی فراہمی میں حکومتی مداخلت کم کرنے والے ہر اقدام کا خیرمقدم کیا جانا چاہیے، کیونکہ اس شعبے میں روایتی بیوروکریٹک نظام واضح طور پر ناکام رہا ہے۔
ریگولیٹر نے مجوزہ نظام کی وضاحت کچھ یوں کی ہے:
پاکستان کا بجلی کا شعبہ روایتی طور پر سنگل بائر ماڈل کے تحت کام کرتا رہا ہے، جس میں سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے)، واپڈا کی سابقہ تقسیم کار کمپنیوں (ایکس ڈبلیو ڈسکوز) کی جانب سے بجلی خریدتی ہے۔
بجلی کا شعبہ اب مسابقتی تھوک بجلی مارکیٹ کے ماڈل یعنی مسابقتی تجارتی دوطرفہ معاہدہ مارکیٹ (سی ٹی بی سی ایم) کی جانب منتقل ہورہا ہے۔ سی ٹی بی سی ایم کے تحت متعدد خریدار اور مسابقتی سپلائرز باہمی رضامندی سے طے شدہ تھوک نرخوں پر براہِ راست بجلی کی خرید و فروخت کے دوطرفہ معاہدے کرسکیں گے۔
ایکس ڈبلیو ڈسکوز، جو آخری ترجیحی سپلائرز (ایس او ایل آر) کے طور پر کام کریں گی، کے لیے بجلی کی خریداری نیپرا کے زیرِ ضابطہ ٹیرف کے تحت اور کم سے کم لاگت کی بنیاد پر کی جائے گی۔
سی ٹی بی سی ایم کے تحت مجوزہ اہم عملی تبدیلیاں :
• سنگل بائر ماڈل کا خاتمہ : مرکزی سنگل بائر نظام ختم کردیا جائے گا اور ڈسکوز متوقع طلب پوری کرنے کے لیے آزاد نیلامی منتظم (آئی اے اے) کے زیرِ انتظام مرکزی نیلامیوں کے ذریعے بجلی خریدیں گی۔
• صارفین کو انتخاب کا اختیار: ایک میگاواٹ سے زیادہ طلب رکھنے والے بڑے بجلی صارفین (بی پی سیز) اپنی متعلقہ ڈسکو یا مسابقتی سپلائر سے بجلی خریدنے کا انتخاب کرسکیں گے۔ مارکیٹ میں لیکویڈیٹی بڑھنے کے ساتھ خوردہ سطح پر مسابقت اور صارفین کے لیے کم از کم طلب کی حد بتدریج متعارف کرائی جائے گی۔
• مرچنٹ بنیاد پر آپریشن : بجلی پیدا کرنے والے اثاثے جن میں ریٹائر ہونے والے پلانٹس اور گرڈ سے منسلک کیپٹو پاور پلانٹس شامل ہیں، مرچنٹ بنیاد پر بجلی فروخت کرسکیں گے۔
• پرانے بجلی گھروں کے لیے اختیارات : موجودہ بجلی گھر کم سے کم لاگت کی بنیاد پر ڈسکوز کو بجلی فروخت کرسکیں گے، براہِ راست مسابقتی سپلائرز یا بڑے بجلی صارفین سے معاہدے کرسکیں گے، بشرطیکہ متعلقہ سپلائر لائسنس موجود ہو یا مرچنٹ پاور پلانٹس کے طور پر کام کرسکیں گے۔
شفاف اقتصادی ڈسپیچ، مسابقتی بولی، دوطرفہ معاہدوں، منظم خریداری اور بجلی کی طلب و پیداوار میں توسیع کی بہتر پیش گوئی کے ذریعے قیمتوں میں زیادہ کارکردگی حاصل ہونے کی توقع ہے۔ سی پی پی اے کے موجودہ پرانے معاہدے برقرار رہیں گے لیکن فریقین باہمی رضامندی سے معاہدے ختم کرکے سی ٹی بی سی ایم میں شامل ہوسکیں گے۔
قابلِ اعتبار ڈسکوز کے لیے وفاقی خودمختار ضمانتوں کو مرحلہ وار ختم کرکے ان کی جگہ تجارتی کریڈٹ کور متعارف کرایا جائے گا، جبکہ کم قابلِ اعتبار ڈسکوز کے لیے یہ ضمانتیں عارضی طور پر برقرار رہیں گی۔
کاروبار سے کاروبار (بی ٹو بی) سپلائرز کو سرمایہ کاری کے خطرات خود برداشت کرنا ہوں گے۔ صنعتی علاقوں کو بجلی کی تقسیم کی خدمات فراہم کرنے کے لیے نیپرا کا ڈسٹری بیوشن لائسنس یا بڑے بجلی صارفین کو براہِ راست بجلی فراہم کرنے کے لیے مسابقتی سپلائر لائسنس حاصل کرنا ہوگا، جبکہ موجودہ ایکس ڈبلیو ڈسکو آخری ترجیحی سپلائر (ایس او ایل آر) کی ذمہ داری برقرار رکھے گی۔
مسابقتی سپلائرز کا انتخاب کرنے والے صارفین کے لیے وفاقی حکومت کی سبسڈی وفاقی پالیسی اور بعد میں وضع کیے جانے والے طریقہ کار سے مشروط رہے گی۔
موجودہ حالات میں یہ اصلاحات ضروری اور مثبت قدم ہیں مگر ان کی بنیاد آئی ایم ایف کی ان سفارشات پر ہے جن کا مقصد توانائی کی قیمتوں کا تعین مارکیٹ کی بنیاد پر کرنا اور ماضی کی پالیسی کی غلطیوں کا بوجھ سرکاری خزانے سے کم کرنا ہے۔
اگرچہ اصولی طور پر یہ تصور درست ہے، لیکن موجودہ معاہدوں کا تسلسل اور تحفظ حکومت کے سامنے صرف دو قابلِ عمل راستے چھوڑتا ہے:
• جاری اخراجات خود برداشت کرنا، جس سے سرکاری وسائل مزید کم ہوں گے یا مالی بوجھ خوردہ صارفین پر منتقل کرنا۔
نتیجتاً اگرچہ مجوزہ نظام بڑے اور صنعتی بجلی صارفین کو مناسب ریلیف فراہم کرتا ہے، تاہم یہ عام گھریلو صارفین کو درپیش بلند توانائی لاگت کے طویل مدتی چیلنج سے نمٹنے میں ناکام ہے۔
حکومت کو بنیادی حقائق شفاف انداز میں سامنے لانے چاہئیں، کیونکہ صارفین اور عوام کے لیے توانائی کی قیمتوں کا تعین مستقبل میں قومی ترقی کی سمت پر براہِ راست اثر انداز ہوتا ہے۔ ماضی میں اس شعبے سے متعلق پالیسی فیصلے قلیل مدتی سیاسی اور تجارتی مفادات کے تحت غلط انداز میں کیے گئے اور عوام و ملک کے طویل مدتی مفادات اور پائیداری کو نظرانداز کیا گیا۔ پاکستان مستقبل میں اس نوعیت کے ایک اور بڑے بحران کا بوجھ برداشت نہیں کرسکتا۔
مجوزہ نظام میں مارکیٹ سے متعلق عملے کی تربیت بھی شامل ہے، جس کی ذمہ داری لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز کو سونپی گئی ہے مگر مصنف کے مطابق پاکستان کی معیشت دو بڑے مراکز کراچی اور لاہور پر انحصار کرتی ہے۔
پیشہ ورانہ تربیت کو صرف ایک شہر تک محدود کرنا مناسب نہیں، جبکہ اس حوالے سے واپڈا کے ماضی کے تجربے سے بھی سبق حاصل کیا جانا چاہیے۔ نظام کے شفافیت اور مساوات کے اہداف برقرار رکھنے کے لیے کراچی کے ادارہ جاتی کردار اور معاشی اہمیت کو مکمل طور پر تسلیم کرنا ضروری ہے۔
مجوزہ نظام کا مقصد توانائی کی قیمتوں کے تعین کے لیے مارکیٹ پر مبنی طریقہ کار قائم کرنا ہے۔ تاہم مارکیٹ اسی وقت مؤثر طور پر کام کرسکتی ہے جب بنیادی نظام سادہ اور صارف دوست ہو۔ موجودہ ریگولیٹری فریم ورک اگرچہ اچھی طرح تشکیل دیا گیا ہے لیکن اسے مزید آسان بنانے کی ضرورت ہے۔
اس نظام کی کامیابی کے لیے بنیادی قدم کاروباری طبقے کا اعتماد بحال کرنا ہے، تاکہ وہ ان تجارتی معاہدوں میں حصہ لے۔ اگر حد سے زیادہ پیچیدہ ضوابط یہ تاثر دیں کہ اصل مسئلہ باریک تفصیلات میں پوشیدہ ہے تو مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہوسکیں گے۔ مصنف کے مطابق نظام کو مزید آسان بنانا اور انتظامی رکاوٹیں ختم کرنا اس کی کامیابی کے لیے ناگزیر ہے۔
کاپی رائٹ : بزنس ریکارڈر 2026
























Comments