BR100 Decreased By (-0.72%)
BR30 Decreased By (-1.21%)
KSE100 Decreased By (-0.6%)
KSE30 Decreased By (-0.54%)
BAFL 56.75 Decreased By ▼ -0.12 (-0.21%)
BIPL 24.95 Decreased By ▼ -0.01 (-0.04%)
BOP 30.15 Decreased By ▼ -0.20 (-0.66%)
CNERGY 13.05 Decreased By ▼ -0.07 (-0.53%)
DFML 17.49 Increased By ▲ 1.59 (10%)
DGKC 188.50 Decreased By ▼ -3.95 (-2.05%)
FABL 93.96 Decreased By ▼ -0.18 (-0.19%)
FCCL 52.08 Decreased By ▼ -0.71 (-1.34%)
FFL 14.53 Decreased By ▼ -0.19 (-1.29%)
GGL 19.10 Decreased By ▼ -0.46 (-2.35%)
HBL 304.48 Decreased By ▼ -1.62 (-0.53%)
HUBC 199.70 Decreased By ▼ -1.72 (-0.85%)
HUMNL 9.98 Decreased By ▼ -0.18 (-1.77%)
KEL 6.07 Decreased By ▼ -0.02 (-0.33%)
LOTCHEM 26.35 Decreased By ▼ -0.11 (-0.42%)
MLCF 91.39 Decreased By ▼ -1.77 (-1.9%)
OGDC 313.70 Decreased By ▼ -3.03 (-0.96%)
PAEL 35.29 Decreased By ▼ -0.34 (-0.95%)
PIBTL 14.74 Increased By ▲ 0.06 (0.41%)
PIOC 240.45 Decreased By ▼ -2.76 (-1.13%)
PPL 222.24 Decreased By ▼ -4.67 (-2.06%)
PRL 91.59 Decreased By ▼ -1.43 (-1.54%)
SNGP 90.87 Decreased By ▼ -0.97 (-1.06%)
SSGC 23.25 Decreased By ▼ -0.56 (-2.35%)
TELE 7.62 Decreased By ▼ -0.18 (-2.31%)
TPLP 12.75 Decreased By ▼ -0.22 (-1.7%)
TRG 56.14 Decreased By ▼ -0.42 (-0.74%)
UNITY 8.02 Decreased By ▼ -0.05 (-0.62%)
WTL 1.01 No Change ▼ 0.00 (0%)
پاکستان

جماعت اسلامی نے وزیر اعظم کی درخواست پر سپر لانگ مارچ عارضی طور پر روک دیا

  • اپنے مطالبات سے دستبردار نہیں ہوں گے، احتجاجی دھرنا اور کیمپ وزیر اعظم سے ملاقات تک جاری رہیں گے، حافظ نعیم الرحمن
شائع اپ ڈیٹ

آج نیوز نے رپورٹ کیا ہے کہ جماعت اسلامی نے وزیر اعظم شہباز شریف کی درخواست پر اپنا سپر لانگ مارچ عارضی طور پر روک دیا ہے، تاہم احتجاجی دھرنا اور کیمپ وزیر اعظم سے ملاقات تک جاری رہیں گے۔

اس سے قبل امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے کہا تھا کہ پارٹی عوام کے حقوق اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کے خلاف احتجاج اور لانگ مارچ سے پیچھے نہیں ہٹے گی، مگر انہوں نے وزیر اعظم کی جانب سے دھرنا ملتوی کرنے کی تجویز کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ اس تجویز پر غور کیا جا رہا ہے۔

ملتان میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم نے بتایا کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے ان سے ٹیلی فون پر رابطہ کرکے دھرنا ملتوی کرنے کی درخواست کی تھی، جسے جماعت اسلامی نے خوش آئند قرار دیا۔ دونوں رہنماؤں نے وزیر اعظم کے جاری دورے کے بعد ملاقات کرنے اور اس معاملے پر مشاورت جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔

حافظ نعیم کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی اپنے مطالبات سے دستبردار نہیں ہوگی اور حکومت سے تحریری ضمانت حاصل کرے گی۔ ان کے مطابق ٹال مٹول یا معاملے کو لٹکانے کی پالیسی کسی صورت قبول نہیں کی جائے گی۔

اس سے قبل وزیر اعظم آفس کی جانب سے بتایا گیا کہ منگل کو وزیر اعظم شہباز شریف نے امیر جماعت اسلامی سے ٹیلی فون پر بات کی اور ان سے اسلام آباد میں جماعت کے مجوزہ دھرنے کو ملتوی کرنے کی اپیل کی۔

وزیر اعظم نے کہا کہ حکومت موجودہ مشکل حالات کے باوجود غریب اور متوسط طبقے کو پیٹرولیم مصنوعات پر ریلیف فراہم کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ممکنہ حد تک عوام کو ریلیف کی فراہمی یقینی بناتی رہے گی۔

وزیر اعظم آفس کے مطابق حافظ نعیم نے وزیر اعظم کی تجویز کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ جماعت اسلامی دھرنا ملتوی کرنے پر غور کر رہی ہے۔

دونوں رہنماؤں نے وزیر اعظم کی دورے سے واپسی کے بعد ملاقات کرنے اور اس مسئلے پر مشاورت کا سلسلہ جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔

یہ پیش رفت حافظ نعیم کی قیادت میں پیٹرولیم لیوی، ٹیکسوں اور آئی پی پیز کے ساتھ معاہدوں کے خلاف کراچی کینٹ اسٹیشن سے شروع ہونے والے کراچی تا اسلام آباد سپر ٹرین مارچ کے کچھ ہی دنوں بعد سامنے آئی ہے۔

اتوار کو کراچی کینٹ اسٹیشن پر جماعت اسلامی کے ہزاروں کارکنان اور مارچ کے شرکاء موجود تھے، جہاں خواتین ونگ کی عہدیداروں نے اسلام آباد کے لیے روانہ ہونے والے شرکاء کو دعاؤں کے ساتھ رخصت کیا۔

ٹرین مارچ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم نے کہا تھا کہ حکومت نوشتہ دیوار پڑھ لے، یہ کسی کی انا کا مسئلہ نہیں ہے۔ حکومت خود کریڈٹ لے اور جگا ٹیکس ختم کرے۔ حکومت کے پاس عوام کو ریلیف دینے کا راستہ موجود ہے، پیٹرولیم لیوی ختم کی جائے اور عوام پر ڈالا گیا اضافی بوجھ کم کیا جائے۔

انہوں نے کہا تھا کہ اسلام آباد مارچ کسی ایک پارٹی یا فرد کے لیے نہیں بلکہ عوام کے حقوق کے لیے کیا جا رہا ہے۔ حکومتی پالیسیوں کے باعث عوام کو شدید ترین مشکلات کا سامنا ہے، سفید پوش طبقہ کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہے، جبکہ حکومت اپنی بدانتظامی اور غلط پالیسیوں کا بوجھ عوام پر ڈال رہی ہے۔ حکومت عالمی منڈی کے بہانے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا اضافی بوجھ عوام پر منتقل کر رہی ہے۔ حکمران طبقے کو نکیل ڈالنے، سرکاری و اشرافیہ کے اخراجات کم کرنے، گاڑیوں کے حجم اور اخراجات گھٹانے اور آئی پی پیز کے ظالمانہ معاہدوں پر نظرثانی کرنے کے بجائے عوام پر مزید ٹیکس عائد کیے جا رہے ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ آئی پی پیز میں حکومت اور حکومتی نمائندے خود موجود ہیں، اسی طرح آئل مارکیٹنگ کمپنیوں، ریفائنری، آٹا اور چینی کے شعبوں میں بھی حکومتی افراد کی موجودگی اور مفادات پر سوالات اٹھ چکے ہیں۔

Comments

200 حروف