ورلڈ بینک نے نجی شعبے سے ریکارڈ 112 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری حاصل کرلی
- ورلڈ بینک سرمایہ کاری کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور کرنے کے لیے اقدامات کر رہا ہے تاکہ عالمی سطح پر موجود 280 ٹریلین ڈالر کے سرمائے کو متحرک کیا جاسکے اور ترقی پذیر معیشتوں کو نجی شعبے کے سرمایہ کاروں کے لیے مزید پرکشش بنایا جاسکے
ورلڈ بینک نے جمعرات کو کہا ہے کہ جون میں ختم ہونے والے مالی سال کے دوران اس نے نجی شعبے سے 112 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری حاصل کی، جو ایک سال قبل 69 ارب ڈالر تھی، جبکہ یہ مالی سال 2022 کے مقابلے میں تین گنا سے بھی زیادہ ہے، جب سابق ماسٹرکارڈ چیف ایگزیکٹو اجے بنگا نے بینک کی صدارت سنبھالی تھی۔
بینک نے کہا کہ اس کی معاونت سے جاری منصوبوں کے لیے مختص کی گئی یہ ریکارڈ رقم اس سال اپنے وسائل سے فراہم کیے گئے 123 ارب ڈالر کے علاوہ ہے، یوں مجموعی رقم 235 ارب ڈالر بنتی ہے۔
بنگا نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ ورلڈ بینک قرضوں کو معیاری شکل دینے اور انہیں اس انداز میں پیکیج کرنے پر کام کر رہا ہے کہ پنشن فنڈز، انشورنس کمپنیوں اور بلیک راک جیسے اثاثہ جاتی منتظمین سمیت ادارہ جاتی سرمایہ کاروں کے لیے یہ زیادہ پرکشش ہوں۔ اس کا مقصد دو سے تین سال کے اندر نجی شعبے سے حاصل ہونے والے سرمائے کو دگنے سے بھی زیادہ کرکے 200 ارب ڈالر سے تجاوز کرنا ہے۔
انہوں نے کہا، ’’سرمائے کے بڑے ذخائر وہیں موجود ہیں اور وہ انفرادی منصوبوں میں سرمایہ کاری کے لیے نہیں آتے۔‘‘ انہوں نے بتایا کہ بلیک راک کے بانی لیری فنک نے کئی برس قبل انہیں مشورہ دیا تھا کہ ایسی سرمایہ کاری کے لیے ایک الگ اثاثہ جاتی شعبہ تشکیل دیا جائے جس کے ذریعے نجی شعبے میں موجود بڑے مالیاتی ذخائر تک رسائی حاصل کی جاسکے۔
بنگا نے ترقی پذیر ممالک کو درپیش وسیع مالی ضروریات کے پیش نظر نجی سرمائے کے حصول کو اپنی ترجیحات میں شامل کیا ہے۔ ان ممالک کو توانائی کی منتقلی، تعلیم، صحت اور زراعت کے اخراجات پورے کرنے کے لیے بھاری مالی وسائل درکار ہیں، جبکہ اس دوران سرکاری ترقیاتی امداد میں کمی آرہی ہے۔
بنگا نے کہا، ’’حکومتوں، ہمارے ادارے یا حتیٰ کہ فلاحی شعبے کے پاس بھی کھربوں ڈالر موجود نہیں ہیں۔ اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ نجی سرمائے تک رسائی کا طریقہ تلاش کیا جائے، جبکہ یہ سرمایہ وافر مقدار میں موجود ہے اور سرمایہ کاری کے اچھے مواقع اور مناسب منافع کی تلاش میں ہے۔‘‘
گلاسگو فنانشل الائنس فار نیٹ زیرو، بوسٹن کنسلٹنگ گروپ اور برٹش انٹرنیشنل انویسٹمنٹ کے اعداد و شمار کے مطابق ادارہ جاتی سطح پر زیرانتظام سرمائے کی مارکیٹ 280 ٹریلین ڈالر سے زیادہ ہے، تاہم تاریخی طور پر اس کا صرف 5 سے 8 فیصد حصہ ترقی پذیر معیشتوں کا رخ کرتا ہے۔
ترقی پذیر ممالک میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کے حوالے سے نجی کمپنیاں عموماً محتاط رہی ہیں، جس کی وجوہات میں ضابطہ جاتی غیر یقینی، سیاسی خطرات اور مقامی کرنسیوں سے متعلق مشکلات شامل ہیں۔
بنگا نے جون 2023 میں بینک کی صدارت سنبھالنے کے بعد نجی شعبے کی سرمایہ کاری سے متعلق ایک لیب قائم کی، جس میں فنک سمیت ماہرین کو ان مسائل کے حل کے طریقوں پر غور کے لیے شامل کیا گیا۔ اس کے بعد انہوں نے ان خدشات کو دور کرنے کے لیے بینک اور اس کے ذیلی اداروں میں مختلف اقدامات کیے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مالی سال 2026 میں متحرک کیا گیا 112 ارب ڈالر متعدد اقدامات کا نتیجہ ہے۔
ان اقدامات میں بینک کے کام کو مزید مربوط بنانا اور ہر ملک کے لیے ایک ہی مینیجر کو رابطہ کار مقرر کرنا شامل ہے، تاکہ ممالک کو ورلڈ بینک، انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن (آئی ایف سی) اور بینک کے دیگر ذیلی اداروں کے الگ الگ مینیجرز کے ساتھ رابطہ نہ کرنا پڑے۔
بنگا نے بتایا کہ ورلڈ بینک نے ترقیاتی اداروں کے ساتھ روابط بھی مزید مضبوط کیے ہیں اور منصوبوں کی منظوری کا اوسط دورانیہ ایک سال یا اس سے زیادہ سے کم کرکے نو ماہ کردیا ہے، جبکہ سادہ منصوبوں کی منظوری اس سے بھی کم وقت میں دی جاتی ہے۔
بنگا کے مطابق قرض لینے والے ممالک بھی بیرونی امداد پر انحصار کرنے کے بجائے نجی سرمایہ کاری حاصل کرنے میں بڑھتی ہوئی دلچسپی رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ممالک کو بنیادی ڈھانچے میں بہتری، محصولات میں اضافے اور ضابطہ جاتی اصلاحات کے لیے اقدامات کرنا ہوں گے۔
بنگا نے بتایا کہ گزشتہ مالی سال ورلڈ بینک کی جانب سے فراہم کیے گئے قرضوں کا تقریباً 40 فیصد بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں پر خرچ ہوا، جبکہ 26 فیصد ایسے منصوبوں کے لیے مختص کیا گیا جن کا محور ضابطہ جاتی اصلاحات تھیں۔
انہوں نے کہا، ’’یہ مختلف عوامل کا ایک پیچیدہ جال ہے، لیکن اس کا آغاز بینک کو ایک ایسے مؤثر شراکت دار میں تبدیل کرنے سے ہوتا ہے جو ایک ہی مربوط ڈھانچے کے تحت کام کرے، تیزی سے ردعمل دے، اپنے صارفین کی ضروریات کو سمجھے اور ان کے مطابق خدمات فراہم کرے۔‘‘
نجی سرمائے کی آمد کم متوسط آمدنی والے ممالک، زیادہ متوسط آمدنی والے ممالک اور پورے افریقہ میں نمایاں طور پر بڑھی، جبکہ کم آمدنی والے ممالک کے لیے یہ سلسلہ تقریباً مستحکم رہا۔
بنگا نے بتایا کہ بینک کی کوششوں سے شمال مغربی ارجنٹائن میں ریو ٹنٹو کے گرین فیلڈ لیتھیئم منصوبے کی مالی معاونت میں مدد ملی۔ انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن نے 400 ملین ڈالر کا قرض فراہم کیا، جس کی مدد سے دیگر قرض دہندگان سے مزید 775 ملین ڈالر حاصل کیے گئے۔ حصص اور قرضوں کو ملا کر منصوبے کے لیے مختص مجموعی رقم 2.5 ارب ڈالر تک پہنچ گئی۔
بنگا کے مطابق ریو ٹنٹو سرمایہ کاری کرنا چاہتا تھا، تاہم اسے ضابطہ جاتی یقین دہانی، مقامی کرنسی میں مزید مالی معاونت اور سڑکوں و بندرگاہوں میں سرمایہ کاری درکار تھی۔ بینک نے یہ سہولت فراہم کرنے میں مدد کی، جس سے روزگار کے مواقع پیدا ہوئے اور ایسی آمدنی کے ذرائع قائم ہوئے جو کئی دہائیوں تک جاری رہیں گے۔
ورلڈ بینک کے حکام نے بتایا کہ ایک اور کامیاب منصوبہ گوئٹے مالا کے سب سے بڑے قرض دہندہ بینکو انڈسٹریل سے متعلق تھا۔
اس منصوبے میں 100 ملین ڈالر کا قرض اور ایک دوسری قرض سہولت شامل تھی جو ایک بانڈ کے ذریعے فراہم کی گئی۔ اس بانڈ نے پی آئی ایم سی او سمیت دنیا بھر کے 190 سے زائد سرمایہ کاروں کو متوجہ کیا۔ بانڈ کے لیے طلب پیشکش سے 3.6 گنا زیادہ رہی، جبکہ گزشتہ ہفتے تک ثانوی مارکیٹ میں اس کی مجموعی خرید و فروخت کا حجم تقریباً 1.1 ارب ڈالر تک پہنچ گیا تھا۔
اس بانڈ نے بینکو انڈسٹریل کو عالمی سطح پر نمایاں ہونے میں مدد دی، جو اس سے قبل نسبتاً چھوٹے پیمانے پر بانڈ جاری کرتا رہا تھا، جبکہ اس سے حاصل ہونے والی رقم گوئٹے مالا میں روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے استعمال کی گئی۔
























Comments