BR100 Increased By (0.17%)
BR30 Decreased By (-0.01%)
KSE100 Increased By (0.19%)
KSE30 Increased By (0.22%)
BAFL 57.03 Increased By ▲ 0.16 (0.28%)
BIPL 24.88 Decreased By ▼ -0.08 (-0.32%)
BOP 30.45 Increased By ▲ 0.10 (0.33%)
CNERGY 13.15 Increased By ▲ 0.03 (0.23%)
DFML 16.76 Increased By ▲ 0.86 (5.41%)
DGKC 192.99 Increased By ▲ 0.54 (0.28%)
FABL 94.16 Increased By ▲ 0.02 (0.02%)
FCCL 52.85 Increased By ▲ 0.06 (0.11%)
FFL 14.80 Increased By ▲ 0.08 (0.54%)
GGL 19.20 Decreased By ▼ -0.36 (-1.84%)
HBL 307.00 Increased By ▲ 0.90 (0.29%)
HUBC 201.99 Increased By ▲ 0.57 (0.28%)
HUMNL 10.10 Decreased By ▼ -0.06 (-0.59%)
KEL 6.10 Increased By ▲ 0.01 (0.16%)
LOTCHEM 26.55 Increased By ▲ 0.09 (0.34%)
MLCF 93.31 Increased By ▲ 0.15 (0.16%)
OGDC 315.99 Decreased By ▼ -0.74 (-0.23%)
PAEL 35.70 Increased By ▲ 0.07 (0.2%)
PIBTL 14.97 Increased By ▲ 0.29 (1.98%)
PIOC 243.74 Increased By ▲ 0.53 (0.22%)
PPL 226.11 Decreased By ▼ -0.80 (-0.35%)
PRL 93.46 Increased By ▲ 0.44 (0.47%)
SNGP 91.53 Decreased By ▼ -0.31 (-0.34%)
SSGC 23.81 No Change ▼ 0.00 (0%)
TELE 7.85 Increased By ▲ 0.05 (0.64%)
TPLP 12.81 Decreased By ▼ -0.16 (-1.23%)
TRG 56.82 Increased By ▲ 0.26 (0.46%)
UNITY 8.05 Decreased By ▼ -0.02 (-0.25%)
WTL 1.02 Increased By ▲ 0.01 (0.99%)
کاروبار اور معیشت

جی ایس پی پلس مراعات برقرار رکھنے کے لیے پاکستان کو دوبارہ درخواست دینا ہوگی، یورپی یونین

  • یورپی یونین کے عہدیدار کے مطابق پاکستان 2028 کے اختتام تک جی ایس پی پلس سے مستفید ہوتا رہے گا
شائع اپ ڈیٹ

پاکستان کو یورپی یونین کی نظرثانی شدہ جنرلائزڈ اسکیم آف پریفرنسز پلس (جی ایس پی پلس) کے تحت یورپی منڈی میں صفر اور کم ٹیرف پر رسائی برقرار رکھنے کے لیے نئی درخواست دینا ہوگی اور 27 کے بجائے اب 32 بین الاقوامی کنونشنز کی پاسداری کا عہد کرنا ہوگا۔ یورپی یونین کے ترجمان نے یہ بات عرب نیوز کو بتائی ہے۔

یورپی یونین کا نیا جی ایس پی ضابطہ 22 جون کو شائع کیا گیا تھا، جس کا اطلاق یکم جنوری 2027 سے ہوگا۔ یورپی یونین کے عہدیدار نے واضح کیا کہ عبوری مدت کے باوجود موجودہ مستفید ممالک کے لیے خودکار توسیع یا منظوری کی کوئی ضمانت نہیں ہوگی۔

نظرثانی شدہ نظام کے تحت پاکستان دو سالہ عبوری مدت کے دوران 2028 کے اختتام تک جی ایس پی پلس سے مستفید ہوتا رہے گا، بشرطیکہ وہ موجودہ ذمہ داریوں کی پاسداری کرے۔ تاہم عبوری مدت کے بعد بھی مراعات برقرار رکھنے کے لیے اسلام آباد کو باقاعدہ طور پر دوبارہ درخواست دینا ہوگی، جس کے ساتھ مستقبل کے لیے ایک ایسا عملی منصوبہ پیش کرنا ہوگا جس میں انسانی حقوق، مزدوروں کے حقوق، ماحولیات، موسمیاتی تبدیلی اور طرز حکمرانی سے متعلق مزید وسیع معیارات پر عمل درآمد کی تفصیلات شامل ہوں۔

یورپی یونین کے ترجمان نے عرب نیوز کو تحریری بیان میں کہا، ’’دیگر تمام جی ایس پی پلس ممالک کی طرح پاکستان بھی اپنی ذمہ داریوں کی پاسداری سے مشروط، دو سالہ عبوری مدت کے دوران 2028 کے اختتام تک جی ایس پی پلس سے مستفید ہوتا رہے گا۔‘‘

جی ایس پی پلس کا درجہ پاکستان کے لیے ایک اہم معاشی سہارا ہے۔ پاکستان نے 2024 میں یورپی یونین کو 7.5 ارب یورو مالیت کی ایسی اشیا، بالخصوص ٹیکسٹائل اور ملبوسات، برآمد کیں جن پر ڈیوٹی عائد نہیں ہوتی یا رعایتی ٹیرف حاصل ہے۔ اس کے نتیجے میں پاکستان کو ٹیرف استثنیٰ کی مد میں اندازاً 732 ملین یورو کی بچت ہوئی۔

نئی درخواست کی شرط یورپی کمیشن کی جانب سے جولائی میں جاری کی گئی 2023 تا 2025 کی جی ایس پی نگرانی رپورٹ کے بعد سامنے آئی ہے۔ رپورٹ میں بعض شعبوں میں پیش رفت کا اعتراف کیا گیا، تاہم انسانی حقوق، جیل اصلاحات، جبری گمشدگیوں، آزادی اظہار، چائلڈ لیبر اور اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ سے متعلق مسلسل خدشات بھی اجاگر کیے گئے۔

وزارتِ خارجہ نے یورپی یونین کی وقتاً فوقتاً کی جانے والی جائزہ رپورٹ کا خیرمقدم کیا، تاہم اس نے انسانی حقوق اور قانون کی حکمرانی سے متعلق اشاریوں پر پاکستان کی کارکردگی کی تصویر کشی کو غیر متوازن قرار دیتے ہوئے تحفظات کا اظہار کیا۔

گزشتہ ہفتے بزنس ریکارڈر سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستان میں یورپی یونین کے سفیر رائمونڈاس کاروبلس نے کہا تھا کہ پاکستان یورپی یونین کے ساتھ اپنے تجارتی تعلقات کے حوالے سے ’’انتہائی اہم مرحلے‘‘ میں داخل ہوچکا ہے۔ ان کے مطابق یورپی یونین پاکستان کی سب سے بڑی برآمدی منڈی ہے، تاہم ترجیحی تجارتی رسائی برقرار رہنا ہرگز یقینی نہیں، جب تک اسلام آباد انسانی حقوق، مزدوروں کے حقوق، ماحولیاتی وعدوں اور اچھی طرز حکمرانی کے حوالے سے قابلِ اعتبار اور قابلِ پیمائش پیش رفت کا مظاہرہ نہیں کرتا۔

کاروبلس نے کہا تھا کہ یورپی یونین کے جی ایس پی پلس کے اگلے مرحلے میں بین الاقوامی کنونشنز کی محض توثیق یا قانون سازی کو قانون کا حصہ بنانے کے بجائے ان پر عمل درآمد پر نمایاں طور پر زیادہ توجہ دی جائے گی۔

سفیر نے کہا تھا، ’’جی ایس پی پلس کی مراعات خودبخود حاصل نہیں رہتیں‘‘، اور زور دیا کہ نئے نظام کے تحت پاکستان کی حیثیت کے بارے میں ’’یقینی ضمانتیں موجود نہیں‘‘۔ ان کے مطابق اب ضروری سیاسی فیصلے حکومت کو کرنا ہوں گے۔ بعد ازاں انہوں نے پاکستان کو ’’انتہائی اہم مرحلے‘‘ سے گزرنے والا ملک قرار دیا۔

Comments

200 حروف