زبانوں کا ایک جہاں
- کراچی میں بولی جانے والی زبانوں کا تنوع جہاں شہر کی رنگا رنگی اور زندگی کی علامت ہے، وہیں محرومی، ناخواندگی اور لسانی کشمکش کی تلخ کہانیاں بھی اپنے اندر سموئے ہوئے ہے
تو کراچی میں کتنی زبانیں بولی جاتی ہیں؟ دستیاب ریکارڈ کے مطابق اس شہرِ بے مثال میں 20 سے زائد زبانیں رابطے اور اظہارِ خیال کے لیے استعمال ہوتی ہیں۔
اگرچہ تقریباً ہر شخص اردو سمجھتا اور بول سکتا ہے، تاہم شہر کے بعض علاقوں میں دوسری زبانیں گفتگو پر غالب ہیں۔ ایسے علاقوں میں صرف اردو جاننے والے شخص کے لیے اپنے اردگرد ہونے والی گفتگو کو سمجھنا خاصا مشکل ہوجاتا ہے۔
مثال کے طور پر سہراب گوٹھ اور الآصف اسکوائر کو ’منی پشاور‘ کہا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ بنارس، قصبہ کالونی، اورنگی ٹاؤن اور یقیناً سائٹ ایریا میں بھی پشتو کا غلبہ ہے۔ سندھی زبان بھی شہر کے مختلف علاقوں میں بڑے پیمانے پر سمجھی اور بولی جاتی ہے، خصوصاً لیاری، ملیر، گڈاپ اور لانڈھی-کورنگی میں۔ بعض محلوں میں سندھی کے ساتھ پنجابی بھی بولی جاتی ہے، جبکہ شہر کے قدیم علاقوں کھارادر اور میٹھادر میں سندھی کے ساتھ کچھی اور میمنی بھی عام ہیں۔
اس کے علاوہ ہندکو بھی کراچی میں بولی جانے والی زبانوں میں شامل ہے، اگرچہ بہت سے لوگوں کے لیے اس کا نام شاید اجنبی ہو۔ قصبہ کالونی، اورنگی اور ناظم آباد کے بعض علاقوں میں ہندکو عام طور پر بولی جاتی ہے۔ ’کشمیر بنے گا پاکستان‘ کا نعرہ تو آپ نے سنا ہی ہوگا۔ جی ہاں، پہاڑی، پوٹھوہاری، گوجری اور کشمیری بھی ناظم آباد، لیاقت آباد اور نارتھ کراچی میں بولی جاتی ہیں۔
آپ شاید سمجھ رہے ہوں گے کہ میں براہوی کو بھول گیا، لیکن لیاری اور گڈاپ کی بلوچ برادریوں میں مقبول اس زبان کو کون بھلا سکتا ہے؟ گجراتی بھی شہر میں نمایاں حیثیت رکھتی ہے، بالخصوص کاروباری علاقوں میں، جہاں میمن اور بوہری برادریاں اسے بے تکلف استعمال کرتی ہیں۔
اور کہیں کراچی کے خوش حال طبقے کی جانب سے ملامت نہ سننی پڑے، اس لیے انگریزی کا ذکر بھی ضروری ہے۔ یہ زبان صرف رسمی تعلیم یافتہ افراد ہی نہیں بولتے بلکہ کاروباری طبقہ بھی اسے روزمرہ بنیادوں پر استعمال کرتا ہے اور اکثر دیگر زبانوں کے ساتھ ملا کر گفتگو کرتا ہے۔ اگرچہ انگریزی پورے شہر میں سنائی دیتی ہے، تاہم کلفٹن، ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی (ڈی ایچ اے)، پی ای سی ایچ ایس اور گلشنِ اقبال جیسے علاقوں میں اس کا استعمال زیادہ عام ہے۔ جامعات اور کراچی بھر میں قائم مختلف دفاتر میں بھی انگریزی بے تکلف استعمال کی جاتی ہے۔
زبانوں کا یہ تنوع اتنا وسیع ہے کہ ممکن ہے میں کچھ زبانوں کا ذکر کرنا بھول گیا ہوں، لیکن یہی لسانی تنوع کراچی کو زندگی سے بھرپور شہر بناتا ہے۔ زبانوں کی تعداد، خصوصاً پشتو جیسی علاقائی زبانوں کا اندازہ لگانے کا ایک اچھا طریقہ یہ ہے کہ شہر کے عوامی پارکوں میں دوڑنے یا چہل قدمی کرنے والوں کی گفتگو پر کان دھرا جائے۔ چونکہ زیادہ تر لوگ موبائل فون پر بات کر رہے ہوتے ہیں، اس لیے باآسانی اندازہ ہوجاتا ہے کہ وہ کون سی زبان استعمال کر رہے ہیں۔ کئی مرتبہ یہ مقامی زبان بھی نہیں ہوتی بلکہ کوئی غیرملکی زبان علاقائی بولیوں کے ساتھ گھلی ملی ہوتی ہے، جسے چہل قدمی کے راستوں کے پرانے شناسا بھی آسانی سے نہیں سمجھ پاتے۔
آپ کو عام دنوں میں کسی بھی پارک کے واکنگ ٹریک پر سنائی دینے والی مقامی اور غیرملکی زبانوں کے تنوع پر حیرت ہوسکتی ہے۔ کراچی کے مختلف حصوں میں زبانوں کا یہ بے ترتیب امتزاج عام ہے، لیکن یہ ہمیں شہر کے کئی علاقوں میں شرحِ خواندگی کی پست سطح بھی یاد دلاتا ہے۔ نوجوانوں کے لیے نہ صرف اسکولوں کی کمی اور تعلیمی سہولیات تک رسائی کا فقدان ہے بلکہ مالی مشکلات بھی بدقسمتی سے بہت سے بچوں کو اسکول جانے سے روک دیتی ہیں۔ اس کے بجائے انہیں اپنے خاندانوں کا پیٹ پالنے کے لیے مختلف نوعیت کی کم عمری کی مشقت پر مجبور ہونا پڑتا ہے۔
بے شک کراچی زبانوں کی ایک کہکشاں (الگ جہاں) ہے، لیکن یہ تمام زبانیں مل کر کوئی پُرامن دھنک نہیں بناتیں؛ بلکہ ان میں محرومی کی کہانیاں بھی پوشیدہ ہیں—تعلیم سے محرومی اور جبری مشقت کی وہ تلخ حقیقتیں جو ان بدقسمت بچوں کے مستقبل پر ہمیشہ کے لیے مہر ثبت کردیتی ہیں۔ مختلف زبانوں کے اس رنگا رنگ امتزاج کو دیکھ کر ہمیں احساس ہوتا ہے کہ زبان جہاں لوگوں کو متحد کرنے اور ترقی کی راہ ہموار کرنے کا ذریعہ بن سکتی ہے، وہیں تباہی اور تشدد کو ہوا دینے کا سبب بھی بن سکتی ہے۔ سندھ کو اپنی لپیٹ میں لینے والے لسانی فسادات اس کی ایک تلخ مثال ہیں، جن کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر ہلاکتیں اور تباہی ہوئی۔
تمام زبانوں کا مقصد لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب لانا اور انہیں ایک دوسرے کو بہتر طور پر سمجھنے کا موقع فراہم کرنا ہونا چاہیے۔ یہی پُرامن بقائے باہمی کی راہ ہے، جو بالآخر سب کے لیے ترقی کا باعث بنتی ہے۔ کراچی کی مثال اور اس کا یہ کثیرالجہتی وجود—جو سب کو جگہ دیتا، حوصلہ دیتا اور پروان چڑھاتا ہے—اس منفرد لسانی کہکشاں کو برقرار رکھنے اور فروغ دینے کے لیے محفوظ اور عملی طور پر قائم رہنا چاہیے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026
























Comments