بینکاری شعبے کے لیے اگلا چیلنج
گورنراسٹیٹ بینک کی جانب سے حالیہ دنوں میں بینکوں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ اپنے کاروباری ماڈلز کو ریٹیل ڈپازٹس کی زیادہ مؤثر طریقے سے متحرک کرنے اور نجی شعبے کو زیادہ فنانسنگ فراہم کرنے کی جانب ازسرنو متوجہ کریں اور اس مطالبے پر سنجیدگی سے توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
گزشتہ ہفتے پاکستان بینکنگ ایوارڈز کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے بجا طور پر نشاندہی کی کہ اگرچہ معیشت مطلوبہ استحکام کی حالت تک پہنچ چکی ہے، تاہم صرف یہ استحکام معیشت کو بلند اور پائیدار ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے کافی نہیں اور اس مقصد کے لیے بینکاری شعبے کو معیشت کی مالی معاونت میں کہیں زیادہ اہم کردار ادا کرنا ہوگا۔
پاکستان کے بینک بلاشبہ بڑے اور منافع بخش ادارے بن چکے ہیں۔ جون 2026 کے اختتام تک ان کے اثاثے 69 کھرب روپے جبکہ ڈپازٹس 43 کھرب روپے تک پہنچ گئے تھے۔ تاہم گورنر کے مطابق دیگر ابھرتی ہوئی معیشتوں کے مقابلے میں ملکی معیشت کے حجم کے لحاظ سے یہ اعداد و شمار اب بھی نسبتاً کم ہیں۔ یہ صورتحال ملک کے نسبتاً کم گہرے مالیاتی نظام کی نشاندہی کرتی ہے جس میں گھرانوں اور کاروباری اداروں کی مزید بچتوں کو رسمی بینکاری نظام میں لانے کی نمایاں گنجائش موجود ہے۔
ہائی کرنسی ٹو ڈپازٹ تناسب بھی اسی تشویش کو تقویت دیتا ہے کہ بہت زیادہ رقم بینکاری نظام سے باہر گردش کررہی ہے جس کے باعث پیداواری سرمایہ کاری کے لیے دستیاب فنڈز کا حجم محدود رہتا ہے۔ قرضوں کی فراہمی کے معاملے میں بھی یہی کمزوری نمایاں ہے۔ ورلڈ بینک کے اعدادوشمار کے مطابق 2025 میں بینکوں کی جانب سے نجی شعبے کو فراہم کیا جانے والا ملکی قرض جی ڈی پی کے محض 10.7 فیصد کے برابر تھا جو خطے کی دیگر معیشتوں کے مقابلے میں بہت کم ہے۔ مثال کے طور پر 2024 میں یہی تناسب بھارت میں تقریباً 40 فیصد جبکہ بنگلہ دیش میں 35.8 فیصد تھا۔
پاکستان میں نجی شعبے کو غیر معمولی طور پر کم قرضے فراہم کیے جانے کی ایک واضح وجہ حکومت کی جانب سے ملکی سطح پر بڑے پیمانے پر قرض لینے کی ضرورت ہے۔ حکومتی سیکیورٹیز بینکوں کو نسبتاً محفوظ، فوری نقدی میں تبدیل ہونے والی اور آسان سرمایہ کاری کا ذریعہ فراہم کرتی ہیں جبکہ کاروباری اداروں کو قرض دینے کے لیے ان کی مالی حیثیت کا جائزہ لینے، قرض لینے والوں کی نگرانی کرنے اور ڈیفالٹ کے خطرے کو قبول کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔
یہ انفرادی بینک کے نقطۂ نظر سے ایک معقول کاروباری فیصلہ ہے لیکن معیشت کے لیے ایک مسئلہ پیدا کرنے والا توازن ہے۔ جب حکومت بینکوں کی سب سے بڑی صارف بن جاتی ہے تو بینکوں کے لیے ان بنیادی ڈھانچوں، مہارتوں اور خطرات کا جائزہ لینے کی صلاحیتوں میں سرمایہ کاری کی ترغیب کم ہوجاتی ہے جو پیداواری نجی شعبے کے قرض لینے والوں کو تلاش کرنے اور انہیں مالی معاونت فراہم کرنے کے لیے ضروری ہیں۔
تاہم حکومتی قرض گیری کو واحد وجہ قرار نہیں دیا جاسکتا۔ جیسا کہ گورنر نے نشاندہی کی، دیگر ایسی معیشتیں جہاں سرکاری شعبہ بڑے پیمانے پر قرض لیتا ہے، نجی شعبے کے لیے کہیں زیادہ گہری قرض مارکیٹ برقرار رکھنے میں کامیاب رہی ہیں۔ مثال کے طور پر بھارت میں عمومی حکومتی قرض جی ڈی پی کے 80 فیصد سے زائد ہے جبکہ پاکستان میں یہ تقریباً 70 فیصد ہے، اس کے باوجود بھارت کا بینکاری نظام نجی شعبے کو خاطر خواہ قرض فراہم کر رہا ہے۔
لہٰذا اگرچہ حکومتی قرض گیری بلاشبہ ایک اہم عنصر ہے، تاہم صرف یہی عنصر پاکستان میں نجی شعبے کے لیے قرضوں کی محدود فراہمی کی مکمل وضاحت نہیں کرتا۔ بینکوں کی وسیع تر معیشت کو خدمات فراہم کرنے کی صلاحیت اور ترغیبات، ان کے کاروباری ماڈلز اور خطرات مول لینے کی پالیسی بھی اس صورتحال کی وجوہات میں شامل ہیں۔
واضح طور پر بینکوں کو قرضوں کی جانچ پڑتال کے مضبوط نظام، ڈیجیٹل قرضوں کی فراہمی کا بہتر انفرااسٹرکچر، قرض لینے والوں سے متعلق بہتر معلومات اور ایس ایم ایز سمیت ان شعبوں کو قرض دینے کے لیے زیادہ آمادگی کی ضرورت ہے جہاں مالی سہولتیں محدود ہیں۔ انہیں ڈپازٹس کے حصول کے لیے مسابقت کی تجارتی ترغیب بھی درکار ہے، بجائے اس کے کہ وہ محدود ڈپازٹ بیس کو محض حکومتی سیکیورٹیز میں دوبارہ سرمایہ کاری کرتے رہیں۔
ریٹیل ڈپازٹس کو متحرک کرنا خاص طور پر اہم ہے۔ حکومت کا بھی اس حوالے سے کردار ہے۔ اسے بتدریج بینکوں سے قرض لینے پر انحصار کم کرنا ہوگا، عوامی قرض گیری کے غیر بینکاری ذرائع کو فروغ دینا ہوگا اور ایسا کاروباری ماحول پیدا کرنا ہوگا جہاں بینک پیداواری کاروباری اداروں کو اعتماد کے ساتھ قرض فراہم کرسکیں۔
پاکستان یہ توقع نہیں کرسکتا کہ اگر ریاست سب سے زیادہ پرکشش قرض لینے والی فریق بنی رہے تو بینک اپنے قرضوں کے شعبے میں تنوع پیدا کریں، اور نہ ہی بینک اس وقت تک انتظار کرسکتے ہیں جب تک حکومتی قرض گیری ختم نہیں ہوجاتی۔ اگر ملک استحکام سے پائیدار اقتصادی ترقی کی جانب بڑھنے میں سنجیدہ ہے تو حکومت کو نجی شعبے کے لیے قرضوں کی فراہمی کی زیادہ گنجائش پیدا کرنا ہوگی، جبکہ بینکوں کو بھی اس خلا کو پُر کرنے کے لیے زیادہ آمادگی اور بہتر صلاحیت کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔
نجی شعبے کو زیادہ فنانسنگ اس لیے بھی ناگزیر ہے کہ قرض ہی بچتوں کو سرمایہ کاری میں تبدیل کرنے کا ذریعہ بنتا ہے۔ مناسب قرضوں کی فراہمی نہ ہونے کی صورت میں سرمایہ کاری محدود رہتی ہے جس کے باعث اقتصادی ترقی کا انحصار غیر متناسب طور پر حکومتی اخراجات، کھپت اور بیرونی فنانسنگ پر بڑھ جاتا ہے۔
اگر پاکستان استحکام کو بلند اور زیادہ پائیدار اقتصادی ترقی میں تبدیل کرنا چاہتا ہے تو ملکی بینکوں کو ملک کی بچتوں اور پیداواری صلاحیت کے درمیان زیادہ مؤثر ذریعہ بننا ہوگا۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026
























Comments