امریکا: لنکٹو کے 2 سابق سی ای اوز پر 45 کروڑ ڈالر فراڈ کا مقدمہ، ایک کا اعترافِ جرم
- 75 سالہ ولیم سارس جنہوں نے لنکٹو کی بنیاد رکھی اور دیوالیہ ہو جانے والے سلیکون ویلی کے آن لائن سرمایہ کاری پلیٹ فارم کے 14 سال تک سی ای او رہے
امریکی استغاثہ نے آن لائن سرمایہ کاری پلیٹ فارم لنکٹو کے دو سابق چیف ایگزیکٹو افسران (سی ای اوز) کے خلاف مجرمانہ فراڈ کے الزامات عائد کیے۔ دونوں پر 45 کروڑ ڈالر کے مبینہ فراڈ میں ملوث ہونے کا الزام ہے جس کے ذریعے ان ہزاروں سرمایہ کاروں کو دھوکا دیا گیا جو نجی کمپنیوں کے اسٹاک کی عوامی سطح پر فروخت (آئی پی او) سے قبل سرمایہ کاری کرکے منافع کمانے کے خواہاں تھے۔
75 سالہ ولیم سارس جنہوں نے لنکٹو کی بنیاد رکھی اور دیوالیہ ہو جانے والے سلیکون ویلی کے آن لائن سرمایہ کاری پلیٹ فارم کے 14 سال تک سی ای او رہے، کے خلاف مین ہٹن میں سیکیورٹیز فراڈ، وائر فراڈ، بروکر ڈیلر فراڈ اور سازش سمیت چھ الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
دوسری جانب 66 سالہ جوزف اینڈوسو، جو صدر کے عہدے پر خدمات انجام دینے کے بعد سارس کے جانشین کے طور پر سی ای او بنے تھے نے سیکیورٹیز فراڈ، بروکر ڈیلر فراڈ اور سازش کے الزامات میں جرم قبول کرلیا اور وہ استغاثہ کے ساتھ تعاون کررہے ہیں۔
استغاثہ کے مطابق سارس نے ان سرمایہ کاروں کی مشکلات سے فائدہ اٹھایا جو اینتھروپک، رِپل اور اب عوامی سطح پر آچکی اسپیس ایکس جیسی ان کمپنیوں کی مالیت کا تعین کرنے میں دشواری کا سامنا کررہے تھے جن کے آئی پی او متوقع تھے۔ استغاثہ کا کہنا ہے کہ سارس نے مصنوعی قلت پیدا کرکے اور اضافی منافع وصول کرکے ان کمپنیوں کے حصص کی قیمتیں بڑھائیں جس کے نتیجے میں لنکٹو میں ان کے اپنے حصص کی مالیت بھی بڑھ گئی، جنہیں وہ نقد میں تبدیل کرنا چاہتے تھے۔
مبینہ فراڈ کی یہ اسکیم 2020 سے 2025 تک جاری رہی۔ لنکٹو نے جولائی 2025 میں چیپٹر 11 کے تحت دیوالیہ پن سے تحفظ حاصل کرنے کے لیے درخواست دائر کی تھی۔
سارس کے وکیل ٹم ٹری نور نے ایک ای میل میں کہا کہ ان کے موکل ان الزامات میں بے قصور ہیں اور ان کے خلاف بھرپور قانونی جنگ لڑنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
اینڈوسو کے وکیل نے تبصرے کے لیے کی گئی درخواستوں کا فوری طور پر جواب نہیں دیا۔























Comments