دہشت گردی کی بھاری قیمت
- دفتر خارجہ کا 2025ء کو گزشتہ ایک دہائی سے زائد عرصے کا مہلک ترین سال قرار دینا تشویشناک ہے، جو دہشت گردی کے سنگین خطرے کی عکاسی کرتا ہے
دہشت گردی کے متاثرین کی یاد اور ان کو خراجِ تحسین پیش کرنے کا بین الاقوامی دن (21 اگست) اس باہم جڑے اور دکھ بھرے احساس کی دہانی کراتا ہے کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کتنی بھاری قیمت ادا کی ہے۔
اس موقع پر دفترِ خارجہ نے اس دردناک حقیقت کی طرف توجہ مبذول کرائی کہ اس جدوجہد میں 90,000 سے زائد پاکستانی اپنی جانیں گنوا چکے ہیں اور ملک کو 150 ارب ڈالر سے زائد کا معاشی نقصان برداشت کرنا پڑا ہے۔ ان ہولناک اعداد و شمار کے پیچھے وہ خاندان ہیں جنہوں نے اپنے پیاروں کو کھویا، وہ برادریاں ہیں جنہوں نے خوف اور نقل مکانی کے عذاب جھیلے اور وہ نسلیں ہیں جن کی سماجی و معاشی پیشرفت اور ترقی کا سفر رک گیا۔
دفترِ خارجہ کی جانب سے سال 2025ء کو گزشتہ ایک دہائی سے زائد عرصے کا سب سے مہلک ترین سال قرار دینا انتہائی تشویشناک ہے۔ شہریوں، سیکیورٹی اہلکاروں، خواتین اور بچوں کی مسلسل شہادتیں اس تلخ حقیقت کو اجاگر کرتی ہیں کہ دہشت گردی پاکستان کے امن و استحکام کے لیے اب بھی ایک سنجیدہ اور بڑا خطرہ ہے۔
اس کے ساتھ ہی اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے ایک متوازن اور شواہد پر مبنی حکمتِ عملی کی ضرورت ہے۔ سرحد پار سے ہونے والی عسکریت پسندی، مالی اعانت (فنڈنگ)، نچلی سطح پر بھرتی اور غیر ملکی پناہ گاہوں کا استعمال ایسے سنگین مسائل ہیں جو مؤثر سفارت کاری، خفیہ معلومات کے تبادلے (انٹیلی جنس شیئرنگ) اور بین الاقوامی تعاون کے متقاضی ہیں۔ پاکستان کو عالمی برادری کے سامنے مستند شواہد پیش کرنے کا سلسلہ جاری رکھنا ہوگا اور اس کے ساتھ ساتھ اپنے اداروں اور سرحدی سیکیورٹی کے نظام کو مزید مضبوط بنانا ہوگا۔
بیان کا ایک اور اہم پہلو یہ اعتراف ہے کہ دہشت گردی کی نوعیت اور روش اب بدل رہی ہے۔ دہشت گرد گروہ سوشل میڈیا، سائبر اسپیس، انکرپٹڈ مواصلاتی ذرائع، مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور دیگر جدید ٹیکنالوجیز کا تیزی سے استحصال کر رہے ہیں۔ غلط اور گمراہ کن معلومات کا پھیلاؤ (ڈس انفارمیشن) سماجی تقسیم کو گہرا اور عدم اعتماد کو جنم دے سکتا ہے، جس سے انتہا پسندی کے خلاف جنگ مزید پیچیدہ ہو جاتی ہے۔ اس بدلتے ہوئے خطرے کا مقابلہ کرنے کے لیے روايتی سیکیورٹی اقدامات کے ساتھ ساتھ سائبر سیکیورٹی کو مضبوط بنانے، ڈیجیٹل آگاہی اور آن لائن بھرتی و پروپیگنڈے کے خلاف موثر کارروائی کی ضرورت ہے۔
تاہم دہشت گردی کا خاتمہ صرف طاقت کے استعمال سے ممکن نہیں ہے۔ پائیدار امن کے لیے ان سیاسی، معاشی اور سماجی حالات کو درست کرنا ہوگا جو انتہا پسندانہ نظریات کو پنپنے کا موقع دیتے ہیں۔ تعلیم، روزگار کے مواقع، انصاف کی فراہمی، گڈ گورننس اور ہمہ گیر ترقی ایک جامع انسدادِ دہشت گردی حکمتِ عملی کے بنیادی اور لازمی اجزا ہیں۔
دہشت گردی کے متاثرین اور ان کے لواحقین صرف مخصوص ایام میں یاد کیے جانے کے بجائے مسلسل مالی، نفسیاتی اور سماجی مدد کے مستحق ہیں۔ اسی طرح انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیوں کے دوران انسانی حقوق کے تحفظ اور قانون کی حکمرانی کو برقرار رکھنا بھی اتنا ہی اہم ہے۔
دفترِ خارجہ کے بیان میں دہشت گردی کا تعلق غیر حل شدہ تنازعات، غصب شدہ حقوق اور غیر ملکی تسلط سے بھی جوڑا گیا ہے، جس میں خاص طور پر بھارت کے غیر قانونی طور پر مقبوضہ جموں و کشمیر اور اسرائیلی تسلط کے زیرِ اثر فلسطینی علاقوں کا حوالہ دیا گیا ہے۔ یہ انتہائی حساس اور تنازع زدہ مسائل ہیں، جن کا بین الاقوامی قوانین، سفارت کاری اور بامعنی بات چیت کے ذریعے پرامن حل اب تک ممکن نہیں ہو سکا ہے۔ طویل تنازعات اور ناانصافی اشتعال اور مایوسی کو جنم دیتی ہے، جس سے ایسا ماحول بنتا ہے جسے انتہا پسند تشدد اور پرتشدد کارروائیوں کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
پاکستان کی عظیم قربانیوں کو ایک پرامن اور خوشحال معاشرے کی تعمیر کے عزم میں ڈھلنا چاہیے۔ متاثرین کی یاد کا حقیقی تقاضا یہ ہے کہ مستقبل کے حملوں کو روکنے، متاثرین کی بحالی، نظامِ حکومت کی بہتری اور علاقائی امن کے فروغ کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔ سیکیورٹی، انصاف، سفارت کاری اور ترقی پر مشتمل ایک جامع حکمتِ عملی ہی دہشت گردی کے معاشی نقصان کو کم کر سکتی ہے اور شہریوں کے محفوظ مستقبل کو یقینی بنا سکتی ہے۔
کاپی رائٹ : بزنس ریکارڈر 2026
























Comments