وزیراعظم شہباز شریف نے این اے آر سی کے نئے ماسٹر پلان کی منظوری دے دی
- بین الاقوامی تقاضوں سے ہم آہنگی کے لیے نیشنل ایگریکلچر ریسرچ سینٹر کو سات اضلاع میں تقسیم کیا جا رہا ہے
وزیراعظم شہباز شریف نے ہفتے کو نیشنل ایگریکلچر ریسرچ سینٹر (نارک) کے نئے ماسٹر پلان کی منظوری دے دی، جس کا مقصد ادارے کی تنظیمِ نو اور اس کے تحقیقی ڈھانچے کو عالمی معیار سے ہم آہنگ کرنا ہے۔
نارک میں اصلاحات کی منظوری دیتے ہوئے وزیراعظم نے ہدایت کی کہ یہ عمل جلد از جلد مکمل کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ نارک اور پاکستان ایگریکلچر ریسرچ کونسل کو مزید فعال بنایا جائے اور انہیں بین الاقوامی معیار سے ہم آہنگ کیا جائے۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ بین الاقوامی تقاضوں سے ہم آہنگی کے لیے نارک کو سات اضلاع میں تقسیم کیا جا رہا ہے۔
نئے ماسٹر پلان کے تحت پانچ سینٹرز آف ایکسیلنس، ریفرنس لیبارٹریز، بایو ریپوزٹریز اور نئے تحقیقی مراکز قائم کیے جائیں گے، جن میں نجی شعبے کے لیے ریسرچ پارک، بین الاقوامی تعاون کا مرکز، لیونگ لیبارٹریز اور پبلک ڈسکوری پارک بھی شامل ہوں گے۔
وزیراعظم نے ہدایت کی کہ تمام اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے بعد فصلوں کی قومی سطح پر پیداوار کا تخمینہ لگانے کے لیے ایک جامع نظام وضع کیا جائے۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ ایگریکلچر انوویشن اینڈ گروتھ پلان 2026-27 کے تحت ترجیحی اقدامات پر کام تیز کردیا گیا ہے۔ پروگرام میں کسانوں کے لیے مالی سہولتوں کی فراہمی، زرعی مشینری کی دستیابی، جدید ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹلائزیشن، تحقیق اور استعدادِ کار میں اضافے کے ساتھ ساتھ غذائی تحفظ سمیت مختلف شعبوں پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔
اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ زرعی شعبے میں جدید ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے استعمال کو بھی ترجیح دی جا رہی ہے۔
اجلاس کو ملکی برآمدات اور دیہی آمدن بڑھانے کے لیے نامیاتی زراعت کے فروغ کے اقدامات سے بھی آگاہ کیا گیا۔
بتایا گیا کہ بلوچستان میں کپاس اور کھجور سمیت منتخب زرعی کلسٹرز کو نامیاتی پیداوار کے پائلٹ علاقوں کے طور پر ترقی دینے، قومی نامیاتی پالیسی اور معیارات وضع کرنے، گروپ سرٹیفکیشن متعارف کرانے اور ڈیجیٹل ٹریس ایبلٹی نظام قائم کرنے پر تیزی سے کام جاری ہے۔























Comments