پاور ڈویژن تین ڈسکوز کی نجکاری کیلئے نئی ایس پی وی قائم کرے گا
- مجوزہ ڈھانچے کے تحت حکومت کی ملکیت میں ایک ایس پی وی قائم کی جائے گی جس میں تینوں ڈسکوز کے منتخب اثاثے اور واجبات منتقل کیے جائیں گے
پاور ڈویژن کے باخبر ذرائع نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ بجلی کی تقسیم کار تین کمپنیوں (ڈسکوز) کی نجکاری کا عمل آگے بڑھنے کے ساتھ حکومت کی جانب سے پاور ڈویژن کو ہدایت دیے جانے کا امکان ہے کہ وہ ایک نئی سرکاری ملکیتی اسپیشل پرپز وہیکل (ایس پی وی) قائم کرے، جس کا مجاز شیئر کیپیٹل 250 ارب روپے ہوگا۔
28 جولائی 2026 کو نجکاری کمیشن (پی سی) بورڈ کے اجلاس میں، جس کی صدارت وزیراعظم کے مشیر برائے نجکاری اور نجکاری کمیشن کے چیئرمین محمد علی نے کی، سفارش کی گئی کہ کابینہ کمیٹی برائے نجکاری (سی سی او پی) ڈسکوز کے پہلے مرحلے، یعنی فیصل آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (فیسکو)، گوجرانوالہ الیکٹرک پاور کمپنی (گیپکو) اور اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (آئیسکو) کے لیے تنظیم نو کے منصوبوں اور اسکیمز آف ارینجمنٹ کی منظوری دے۔
مجوزہ ڈھانچے کے تحت حکومت کی ملکیت میں ایک ایس پی وی قائم کی جائے گی جس میں تینوں ڈسکوز کے منتخب اثاثے اور واجبات منتقل کیے جائیں گے، جس سے ایک مؤثر اور تجارتی طور پر قابل عمل لین دین کا ڈھانچہ تشکیل پائے گا۔
ذرائع کے مطابق 31 مارچ 2026 کو ختم ہونے والی مدت کے آڈٹ شدہ مالیاتی گوشواروں کی بنیاد پر ایس پی وی کو منتقل کیے جانے والے مجموعی اثاثوں کی مالیت 350.6 ارب روپے ہے، جبکہ مجموعی واجبات 313 ارب روپے ہیں، جس کے نتیجے میں 37.6 ارب روپے کی ایکویٹی بنتی ہے۔
تنظیم نو کے منصوبے اور اسکیمز آف ارینجمنٹ تینوں ڈسکوز کے 31 مارچ 2026 کو ختم ہونے والی مدت کے آڈٹ شدہ مالیاتی گوشواروں کی بنیاد پر تیار کیے گئے ہیں۔ مجوزہ فریم ورک کا مقصد حکومت پاکستان کے لیے زیادہ سے زیادہ قدر حاصل کرنا اور اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ لین دین تجارتی طور پر قابل عمل اور ممکنہ نجی شعبے کے سرمایہ کاروں کے لیے پرکشش رہے۔
نجکاری کمیشن بورڈ کو ڈسکوز کے پہلے مرحلے کی نجکاری میں ملکی اور بین الاقوامی سرمایہ کاروں کی جانب سے بھرپور دلچسپی سے بھی آگاہ کیا گیا۔ فیصل آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی کے لیے اظہار دلچسپی (ای او آئیز) جمع کرانے کی آخری تاریخ 7 اگست 2026، گیپکو کے لیے 21 اگست 2026 اور آئیسکو کے لیے 7 ستمبر 2026 مقرر کی گئی ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ حکومت نیپرا کو ہدایت دے گی کہ وہ نیپرا ایکٹ، رجسٹریشن ریگولیشنز 2022، جن میں ریگولیشنز 3 اور 4 اور شیڈول-I میں درج درخواست، نیز رجسٹریشن رولز 2023 کے رول 3 کے تحت ایس پی وی اور الگ کیے جانے والے پنشن واجبات کے لیے قائم کیے جانے والے پنشن فنڈ کی رجسٹریشن کرے۔
رجسٹریشن سے ریٹائرڈ ملازمین کے پنشن واجبات کی متعلقہ وصولی ٹیرف کے ذریعے ممکن ہوگی۔ حکومت زمین لیز پر دینے کی بھی اجازت دے گی، جبکہ سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) سے درخواست کی جائے گی کہ وہ ایس پی وی کی رجسٹریشن کے لیے مجاز شیئر کیپیٹل پر عائد متعلقہ فیس معاف کرے۔
ذرائع نے کہا کہ تمام متعلقہ اداروں کو تنظیم نو کے منصوبوں پر عمل درآمد کے لیے ضروری کارپوریٹ اقدامات کرنے کی ہدایت کی جائے گی، جبکہ متعلقہ وفاقی ادارے اور حکام، جہاں ضرورت ہو، تنظیم نو کے منصوبوں پر عمل درآمد اور اسکیمز آف ارینجمنٹ (ایس او ایز) دائر کرنے کے لیے ضروری منظوری فراہم کریں گے۔
نجکاری کے لیے منتخب تینوں ڈسکوز کو یہ ہدایت بھی کی گئی ہے کہ وہ رواں ماہ کے اختتام تک اپنے زیر استعمال زمین کی بنیادی اور غیر بنیادی (کور اور نان کور) زمروں میں جاری درجہ بندی کا عمل مکمل کریں۔
ذرائع کے مطابق فیسکو، گیپکو اور آئیسکو اپنے مجاز شیئر کیپیٹل کو بالترتیب 100 ارب روپے، 75 ارب روپے اور 125 ارب روپے تک بڑھائیں گی، جس سے تینوں کمپنیوں کا مجموعی مجاز شیئر کیپیٹل 300 ارب روپے ہوجائے گا۔
ذرائع نے مزید کہا کہ ایس ای سی پی، فیسکو، گیپکو اور آئیسکو کے مجاز شیئر کیپیٹل میں اضافے پر عائد متعلقہ فیس معاف کرے گا۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026
























Comments