فلیمنگ ’میرے جیسا، لیکن مجھ سے بہتر‘ ہیں، میک کولم کا انگلینڈ کے نئے ٹیسٹ کوچ سے متعلق تبصرہ
- میک کولم کا کہنا ہے کہ ’’انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ نے دنیا بھر سے پیشکشیں رکھنے والے شخص کو مقرر کرکے انتہائی اچھا فیصلہ کیا ہے۔‘‘
برینڈن میک کولم نے اپنے جانشین اسٹیفن فلیمنگ کو ’’میرے جیسا، لیکن مجھ سے بہتر‘‘ قرار دیتے ہوئے ان کی تعریف کی ہے۔ انگلینڈ نے اپنے سابق نیوزی لینڈ ساتھی کو ٹیسٹ ٹیم کا کوچ مقرر کیا ہے۔
میک کولم کو گزشتہ ماہ انگلینڈ کی ٹیسٹ ٹیم کی کوچنگ سے برطرف کر دیا گیا تھا۔ اس سے قبل ٹیم کو ایشز سیریز میں بدترین کارکردگی کا سامنا کرنا پڑا تھا، جبکہ اس کے بعد نیوزی لینڈ کے خلاف ہوم سیریز بھی 2-1 سے ہار گئی۔ تاہم میک کولم انگلینڈ کی محدود اوورز کی ٹیموں کے کوچ کی حیثیت سے بدستور ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں۔
انگلینڈ اب ایک بار پھر اسپلٹ کوچنگ سسٹم اختیار کر رہا ہے، جس کے تحت میک کولم کی طرح نیوزی لینڈ کے سابق کپتان رہنے والے فلیمنگ رواں سال کے آخر میں جنوبی افریقہ کے دورے سے ٹیسٹ ٹیم کی ذمہ داریاں سنبھالیں گے۔ اس دورے سے قبل انگلینڈ کو پاکستان کے خلاف ہوم سیریز کھیلنی ہے۔
53 سالہ سابق بلے باز فلیمنگ نے انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) میں کوچ کی حیثیت سے اپنی شناخت بنائی، جہاں انہوں نے چنئی سپر کنگز کو پانچ مرتبہ ٹائٹل جتوایا۔
میک کولم نے اسکائی اسپورٹس کو بتایا، ’’انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ نے دنیا بھر سے پیشکشیں رکھنے والے شخص کو انگلش کرکٹ کے لیے حاصل کرکے انتہائی اچھا کام کیا ہے۔ ایسے شخص کو اتنے عرصے کے لیے انگلش کرکٹ سے وابستہ کرنا ایک شاندار کامیابی ہے۔‘‘
انہوں نے کہا، ’’میں نے ان چار برسوں کے دوران بہت اچھا وقت گزارا اور اب ٹیم ایک مختلف سمت میں جا رہی ہے۔ فلیم بہترین ثابت ہوں گے۔ وہ کچھ میرے جیسے ہیں، لیکن مجھ سے بہتر ہیں۔‘‘
میک کولم کا کہنا ہے کہ وہ فلیمنگ کے ساتھ قریبی رابطے میں رہ کر ملٹی فارمیٹ کھلاڑیوں، خصوصاً ٹیسٹ کپتان جو روٹ اور وائٹ بال کپتان ہیری بروک کی دستیابی پر اختلافات سے بچ سکتے ہیں۔
میک کولم نے کہا، ’’فلیم اور میں تقریباً روزانہ بات کرتے ہیں، ہم قریبی دوست ہیں اور ایک ساتھ بہت کچھ کر چکے ہیں۔ وہ ان لوگوں میں سے ہیں جن پر مجھے مکمل اعتماد ہے۔‘‘
انہوں نے کہا، ’’ہم دونوں کے درمیان کھل کر اور دوٹوک گفتگو ہوتی ہے اور ہم دونوں صرف انگلش کرکٹ کے لیے بہتر چاہتے ہیں۔ ہماری کوشش ہے کہ ایسا نظام قائم کیا جائے جس کے تحت انگلینڈ کھیل کے تینوں فارمیٹس میں کامیاب ہو۔‘‘
میک کولم کے مطابق، ’’اس کے لیے بعض اوقات ایک دوسرے کو کچھ دینا اور کچھ لینا ہوگا، لیکن ہم دونوں اس حقیقت کو سمجھتے ہیں اور مل کر بہت قریب سے کام کرنے کی کوشش کریں گے۔‘‘
انگلینڈ کے سابق بلے باز مارکس ٹریسکوتھک 19 اگست سے ہیڈنگلے میں شروع ہونے والی پاکستان کے خلاف تین ٹیسٹ میچوں کی سیریز کے لیے عبوری ہیڈ کوچ کی ذمہ داریاں سنبھالیں گے۔
























Comments