مودی حکومت کو ہلا دینے والی جنریشن زی تحریک کاکروچ پارٹی کا انتخابی سیاست سے انکار
- ہم چاہتے ہیں کہ جنریشن زی خود طے کرے کہ ہماری ترجیحات کیا ہوں، ابھیجیت دیپکے
بھارت میں امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے خلاف ملک گیر احتجاج کی قیادت کرنے والی نوجوانوں کی تنظیم جنریشن زی کاکروچ جنتا پارٹی نے فوری طور پر انتخابی سیاست میں حصہ نہ لینے کا اعلان کیا ہے۔
تنظیم کے بانی ابھیجیت دیپکے نے رائٹرز کو انٹرویو میں بتایا کہ ان کی ترجیح فی الحال نوجوانوں کے مسائل کو اجاگر کرنا اور ایک مضبوط عوامی تحریک کو آگے بڑھانا ہے، نہ کہ سیاسی جماعت بنا کر انتخابات لڑنا۔
دیپکے نے کہا کہ بدھ سے دو روزہ اجلاس منعقد کیا جا رہا ہے، جس میں ملک بھر سے آنے والے نوجوان اس بات پر مشاورت کریں گے کہ تنظیم آئندہ کن مسائل پر توجہ دے اور اپنی تحریک کو کس طرح آگے بڑھائے۔
انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ جنریشن زی خود طے کرے کہ ہماری ترجیحات کیا ہوں۔ اگر عوام کی اکثریت چاہے گی تو مستقبل میں سیاسی جماعت بنانے پر غور کیا جا سکتا ہے، لیکن اس وقت بھارت کو نئی سیاسی جماعت نہیں بلکہ ایک ایسی عوامی تحریک کی ضرورت ہے جو اداروں پر عوام کا اعتماد بحال کرے اور جوابدہی کو فروغ دے۔
دیپکے کی قیادت میں گزشتہ ماہ نئی دہلی میں امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے خلاف شروع ہونے والا احتجاج پورے بھارت میں پھیل گیا تھا، جس میں ہزاروں نوجوان شریک ہوئے۔ احتجاج کے نتیجے میں وزیر اعظم نریندر مودی کے وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان نے 25 جولائی کو استعفیٰ دے دیا، جبکہ حکومت نے امتحانی نظام کا جائزہ لینے کے لیے کمیٹی قائم کرنے اور پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی اقدامات کا اعلان کیا۔
دیپکے جو امریکا سے تعلیم مکمل کرکے جون میں بھارت واپس آئے تھے، احتجاج کے دوران ٹائیفائیڈ کا شکار بھی ہوئے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ فوری طور پر سیاسی جماعت اس لیے نہیں بنانا چاہتے کیونکہ انہیں خدشہ ہے کہ حکومت اس کے رہنماؤں کے خلاف تحقیقات شروع کر کے تحریک کو بدنام کرنے کی کوشش کرے گی۔
انہوں نے واضح کیا کہ ان کی تنظیم کسی بھی سیاسی جماعت کی حمایت نہیں کرے گی، اگرچہ اپوزیشن جماعتوں نے احتجاج سے سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش کی ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اگر یہ تحریک مستقبل میں سیاسی جماعت میں تبدیل ہوتی ہے اور نوجوانوں کے مسائل کو مؤثر انداز میں اجاگر کرتی رہتی ہے تو 2029 کے عام انتخابات میں حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتی ہے۔
دیپکے کو سوشل میڈیا پر دھمکیاں ملنے کے بعد ان کے گھر کے باہر پولیس تعینات ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں اپنی سلامتی سے زیادہ اپنے والدین کی فکر ہے، تاہم حکومتی سکیورٹی ملنے کے بعد وہ پُرامید ہیں کہ کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آئے گا۔
























Comments