ایندھن کی کم قیمتیں اور زرعی سرگرمیاں، جولائی میں پیٹرولیم مصنوعات کی فروخت 23 فیصد بڑھ گئی
- ماہانہ بنیاد پر بھی مجموعی پیٹرولیم فروخت میں 20 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا
جولائی 2026 کے دوران پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی فروخت میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ عارف حبیب لمیٹڈ کی پیر کو جاری کردہ رپورٹ کے مطابق مجموعی فروخت سالانہ بنیاد پر 23 فیصد بڑھ کر 1.51 ملین ٹن تک پہنچ گئی، جس کی بڑی وجوہات ایندھن کی کم قیمتیں، زرعی شعبے کی بہتر کارکردگی اور معیشت کی بتدریج بحالی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق سالانہ اضافے کی بنیادی وجوہات میں ایندھن کی کم قیمتیں، کسانوں کی بہتر مالی حالت، زرعی سرگرمیوں میں تیزی، اور معیشت و آٹو سیکٹر میں طلب کی بتدریج بحالی رہیں۔
فرنس آئل کو نکال کر دیکھا جائے تو آئل مارکیٹنگ کمپنیوں (او ایم سیز) کی فروخت میں 18.5 فیصد سالانہ اضافہ ہوا، جو جولائی 2021 کے بعد جولائی کا بہترین ریکارڈ ہے۔
ہائی اسپیڈ ڈیزل (ایچ ایس ڈی) کی فروخت 19 فیصد بڑھ کر 0.62 ملین ٹن رہی، جبکہ موٹر اسپرٹ ، یعنی پیٹرول کی فروخت 23 فیصد اضافے کے ساتھ 0.73 ملین ٹن تک پہنچ گئی۔
دوسری جانب فرنس آئل کی فروخت میں غیر معمولی 406 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 0.08 ملین ٹن تک پہنچ گئی۔ عارف حبیب لمیٹڈ کے مطابق اس کی بنیادی وجہ بجلی کی پیداوار کے لیے فرنس آئل کے زیادہ استعمال میں اضافہ ہے۔
ماہانہ بنیاد پر بھی مجموعی پیٹرولیم فروخت میں 20 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کی وجہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی اور جغرافیائی سیاسی کشیدگی میں نرمی کے بعد ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی رہی۔
پیٹرول کی فروخت میں ماہانہ بنیاد پر 12 فیصد جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی فروخت میں 25 فیصد اضافہ ہوا۔ اسی طرح فرنس آئل کی فروخت گزشتہ ماہ کے مقابلے میں 89 فیصد بڑھ گئی، جسے رپورٹ میں گرمیوں کے دوران بجلی کی پیداوار کی موسمی طلب سے منسلک کیا گیا ہے۔
آئل مارکیٹنگ کمپنیوں میں پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او) نے سب سے بہتر کارکردگی دکھائی۔ کمپنی کی مجموعی فروخت 38 فیصد اضافے کے ساتھ 702 ہزار ٹن تک پہنچ گئی، جس میں پیٹرول کی فروخت 44.1 فیصد اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی فروخت 40.3 فیصد بڑھی۔
رپورٹ کے مطابق پی ایس او نے مارکیٹ شیئر گیس اینڈ آئل پاکستان (گو) سے حاصل کیا۔ گو کا پیٹرول مارکیٹ شیئر کم ہو کر 5 فیصد رہ گیا، جو جون 2024 کے بعد کم ترین سطح ہے، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل میں اس کا مارکیٹ شیئر 7 فیصد تک گر گیا، جو مئی 2024 کے بعد سب سے کم ہے۔
عارف حبیب لمیٹڈ نے یہ بھی اندازہ لگایا کہ حکومت نے جولائی کے دوران پیٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی (پی ڈی ایل) کی مد میں تقریباً 134 ارب روپے وصول کیے، جس سے مالی سال 2026-27 کے 1.68 کھرب روپے کے ہدف کے حصول کی پیش رفت درست سمت میں دکھائی دیتی ہے۔ یہ ہدف مالی سال 2025-26 کے نظرثانی شدہ ہدف کے مقابلے میں 11.9 فیصد زیادہ ہے۔























Comments