BR100 Increased By (0.2%)
BR30 Increased By (0.41%)
KSE100 Increased By (0.07%)
KSE30 Increased By (0.23%)
BAFL 57.20 Increased By ▲ 0.46 (0.81%)
BIPL 26.89 Decreased By ▼ -0.15 (-0.55%)
BOP 33.69 Increased By ▲ 0.01 (0.03%)
CNERGY 10.61 Increased By ▲ 0.80 (8.15%)
DFML 18.05 Decreased By ▼ -0.47 (-2.54%)
DGKC 209.90 Increased By ▲ 2.03 (0.98%)
FABL 98.95 Increased By ▲ 0.05 (0.05%)
FCCL 53.74 Increased By ▲ 0.22 (0.41%)
FFL 16.46 Decreased By ▼ -0.22 (-1.32%)
GGL 23.82 Increased By ▲ 0.25 (1.06%)
HBL 302.42 Decreased By ▼ -1.97 (-0.65%)
HUBC 218.94 Increased By ▲ 0.83 (0.38%)
HUMNL 10.54 Decreased By ▼ -0.12 (-1.13%)
KEL 7.28 Decreased By ▼ -0.07 (-0.95%)
LOTCHEM 29.65 Increased By ▲ 0.54 (1.86%)
MLCF 96.36 Increased By ▲ 0.86 (0.9%)
OGDC 318.22 Increased By ▲ 0.28 (0.09%)
PAEL 41.77 Decreased By ▼ -0.06 (-0.14%)
PIBTL 16.81 Increased By ▲ 0.31 (1.88%)
PIOC 296.62 Increased By ▲ 16.61 (5.93%)
PPL 220.17 Increased By ▲ 0.43 (0.2%)
PRL 49.05 Increased By ▲ 4.46 (10%)
SNGP 106.13 Decreased By ▼ -1.36 (-1.27%)
SSGC 29.14 Increased By ▲ 0.21 (0.73%)
TELE 8.82 Increased By ▲ 0.06 (0.68%)
TPLP 12.51 Increased By ▲ 0.41 (3.39%)
TRG 60.22 Increased By ▲ 0.19 (0.32%)
UNITY 10.02 Decreased By ▼ -0.09 (-0.89%)
WTL 1.23 No Change ▼ 0.00 (0%)
کاروبار اور معیشت

حکومتی قیمتوں کی منظوری نہ ملنے کے باعث مارکیٹ میں 40 ادویات نایاب

  • عدم دستیاب ادویات میں کینسر کی لائف سیونگ ڈرگز، انسولین، بلڈ پریشر، دل کے امراض، اینٹی بائیوٹکس اور دیگر شامل ہیں
شائع اپ ڈیٹ

پاکستان میں باقاعدہ رجسٹرڈ ہونے کے باوجود لگ بھگ 40 اہم ادویات مریضوں کو دستیاب نہیں ہیں، کیونکہ وفاقی حکومت نے ابھی تک ان کی قیمتوں کی منظوری نہیں دی ہے۔ اس تاخیر نے کینسر، ذیابیطس اور دیگر جان لیوا امراض میں مبتلا ہزاروں مریضوں کو شدید مشکلات میں ڈال دیا ہے اور وہ مہنگی ذاتی امپورٹ یا اسمگل شدہ اور غیر رجسٹرڈ ادویات پر انحصار کرنے پر مجبور ہیں۔

ان زیرِ التوا ادویات میں کینسر کی عالمی سطح پر معروف امیونو تھراپی دوا پیمبرولیزومیب (پریمیڈیم برانڈ: کیٹروڈا) بھی شامل ہے، جو پھیپھڑوں، چھاتی اور جلد سمیت 20 سے زائد اقسام کے کینسر کے علاج میں استعمال ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ نیولومیب، ڈاساٹینیب، ذیابیطس کے لیے ”ہیوما ڈور“انسولین، پارکنسنز کے لیے کاربیڈوپا لیوڈوپا، حمل کے دوران بلڈ پریشر کی دوا میتھائل ڈوپا اور ہنگامی طبی امداد (آئی سی یو) میں استعمال ہونے والی اینٹی بائیوٹکس، ویکسینز اور اینستھیزیا کی ادویات بھی اس فہرست میں شامل ہیں۔

ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) کے مطابق ان ادویات کی قیمتوں کے تعین کی سفارشات دسمبر 2024ء سے جون 2025ء کے درمیان ہی فائنل کرکے وفاقی حکومت کو بھیج دی گئی تھیں۔ قیمتوں کی منظوری کا یہ عمل وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب کی سربراہی میں قائم کابینہ کمیٹی کے پاس زیرِ غور ہے۔ دوسری جانب پاکستان کیمسٹس اینڈ ڈرگسٹس ایسوسی ایشن اور فارماسیوٹیکل مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (پی پی ایم اے) نے حکومت سے اس عمل کو تیز کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ مارکیٹ میں قانونی ادویات نہ ہونے سے مجبور مریض اسمگل شدہ اور جعلی پروڈکٹس خرید رہے ہیں، جو ان کے لیے جان لیوا ثابت ہو سکتی ہیں۔

واضح رہے کہ دستیاب نہ ہونے والی ان 40 ادویات میں کینسر کی لائف سیونگ ڈرگز، انسولین، بلڈ پریشر، دل کے امراض، اینٹی بائیوٹکس اور آپریشنز کے دوران استعمال ہونے والے اینستھیزیا کے انجیکشنز شامل ہیں۔

Comments

200 حروف